Inquilab Logo Happiest Places to Work

لبنان میں اقوام متحدہ کی فوج رکھنا ضروری ہے : انتونیو غطریس

Updated: June 03, 2026, 12:09 PM IST | Agency | Geneva

۳۱؍ دسمبر ۲۰۲۶ء کو لبنان میں موجود اقوام متحدہ کی عبوری فوج کا مینڈیٹ ختم ہو جائے گا ، غطریس اس کے بعد بھی فوج کی موجودگی چاہتے ہیں ۔

UN Secretary-General Antonio Guterres.Photo:INN
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس-تصویر:آئی این این
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل  انتونیو غطریس نے  کہا ہے کہ، لبنان میں جب موجودہ مشن کا مینڈیٹ سال کے آخر میں ختم ہو جائے گا تو امن فوجیوں کی ضرورت ہو گی یہ ایک ایسا اقدام ہو گا جسے امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔  یاد رہے کہ گزشتہ سال اگست میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی دباؤ میں ۳۱؍ دسمبر ۲۰۲۶ء کو لبنان میں اقوامِ متحدہ کی عبوری فوج (یونی فِل) کا مینڈیٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔تاہم کونسل نے غطریس سے کہا  ہےکہ وہ یکم جون تک اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کا لبنان میں رہنا ممکن بنانےکیلئے اختیارات تجویز کریں خاص طور پر بلیو لائن کی نگرانی کیلئے جو لبنان اور اسرائیل کے درمیان ڈی فیکٹو بارڈر کی علامت ہے۔
 
 
پیر کو سلامتی کونسل کو پیش کردہ ایک رپورٹ میں غطریس نے تین اختیارات تجویز کئے ہیں جن کے تحت جنگ بندی کی نگرانی اور لبنانی مسلح افواج کی حمایت کیلئے اقوامِ متحدہ کے تقریباً ۲؍ ہزار  سے لے کر ساڑھے ۵؍ ہزار تک اہلکار تعینات ہوں گے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ’’تمام مجوزہ اختیارات کے تحت کشیدگی میں کمی، مذاکرات، رابطہ کاری اور لبنانی مسلح افواج کی حمایت کیلئے کام کرنے کی غرض سے اقوامِ متحدہ کی یکساں موجودگی ضروری ہو گی تاکہ تنازع کے طویل مدتی حل کے بنیادی مقصد کی طرف پیش رفت ہو۔‘جنوبی لبنان کے سرحدی علاقوں پر اسرائیلی فوجیوں کا قبضہ ہے اور چونکہ اسرائیل اور لبنان عشروں سے جاری دشمنیوں کو ختم کرنے کیلئے براہِ راست مذاکرات کر رہے ہیں تو یونی فِل سے نکلنے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔یہ فوج ۱۹۷۸ء سے لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک بفر رہی ہے حالانکہ اس کی موجودگی تنازعات کو بار بار پھیلنے سے نہیں روک سکی ہے۔کئی لبنانی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا وعدہ کرنے والا بیروت یونی فِل کے انخلاء کے بعد اقوامِ متحدہ کی موجودگی برقرار رہنے کی حمایت کرتا ہے۔اقوامِ متحدہ میں لبنان کے سفیر احمد عرفہ نے اپنی رپورٹ کیلئے غطریس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، ’’حالیہ پیش رفت سے صرف لبنان کیلئے اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی امداد کی مسلسل ضرورت میں اضافہ ہوا ہے خاص طور پر ایک طرف اسرائیلی انخلاء کو آسان بنانے اور دوسری طرف ریاست کو اپنے پورے علاقے پر اختیار بڑھانے کیلئے۔‘‘سلامتی کونسل کے کئی اراکین بھی خاص طور پر چین اور روس یونی فل کے متبادل کی حمایت کرتے ہیں۔اقوامِ متحدہ میں چین کے ایلچی فو کانگ نے کہا، ’’چونکہ یونی فل کا مینڈیٹ ختم ہونے والا ہے تو سلامتی کونسل کو لبنان میں اقوامِ متحدہ کی مسلسل موجودگی کو یقینی بنانے اور سلامتی کے خلا کو روکنے کیلئے ایک ذمہ دارانہ فیصلہ کرنا چاہئے۔‘‘لیکن امریکہ اور قریبی اتحادی اسرائیل نے اگست میں ہونے والی ووٹنگ کا خیر مقدم کیا جس سے یونی فل ختم ہو گیا۔ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے مؤثر ہونے پر سوالات اٹھائے ہیں اور ان کی مدد کیلئے امریکی مالی تعاون کا کچھ حصہ روک دیا ہے جس نے اقوامِ متحدہ کو تمام دنیا میں اپنے فوجی کم کرنے پر مجبور کر دیا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK