چندر پور کے ایک گائوں میں ۱۳؍ خواتین تیندو کے پتے جمع کرنے جنگل گئی تھیں تبھی شیر نے اچانک حملہ کر دیا اور۴؍ کو موت کے گھاٹ اتار دیا
EPAPER
Updated: May 23, 2026, 12:41 AM IST | Ali Imran | Chandrapur
چندر پور کے ایک گائوں میں ۱۳؍ خواتین تیندو کے پتے جمع کرنے جنگل گئی تھیں تبھی شیر نے اچانک حملہ کر دیا اور۴؍ کو موت کے گھاٹ اتار دیا
ضلع کے سندواہی تعلقہ میں جنگل میں تیندو پتہ توڑنے گئی خواتین پر شیر نے حملہ کر دیا، اچانک ہوئے اس حملے میں ۴؍خواتین کی موت ہو گئی۔ جب کہ اس واقعہ میں دیگر خواتین زخمی ہوئی ہیں۔ بتادیں کہ گزشتہ سال ۱۰؍مئی کو سندواہی تعلقہ کے مینڈھا (مال) جنگل میں اسی طرح ایک شیر نے ۳؍ خواتین کو مار ڈالا تھا۔ یہ خبر سرخیوں میں آنے کے بعد ہر طرف محکمہ جنگلات کی لاپروائی پر سوال اُٹھ رہے ہیں، وہیں کانگریس لیڈر وجے وڈیٹیوار نے الزام لگایا ہے کہ ان خواتین کی جان انتظامی لاپروائی کی وجہ سے گئی ہے۔
اطلاع کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کی صبح تقریباً ۹؍بجے سندواہی تعلقہ کے گنجے واہی جنگل میں پیش آیا۔ گنجےواہی گائوں کی ۱۳؍خواتین کا ایک گروپ جمعہ کی صبح تیندو پتے توڑنے جنگل گیا تھا۔ وہ پتے جمع کر ہی رہی تھیں کہ اچانک شیر نے ان پر حملہ کر دیا۔ اس اچانک حملے سے خواتین خوفزدہ ہوگئیں اور اپنی جان کے خوف سے بھاگنے لگیں۔ لیکن شیر نے یکے بعد دیگرے ۴؍خواتین کو حملہ کرکے ہلاک کردیا۔ جان بچا کر بھاگنے والوں میں سے ایک خاتون چیختی ہوئی گاؤں میں داخل ہوئی اور گاؤں والوں کو اس واقعہ کی اطلاع دی۔ گاؤں والے لاٹھیاں لے کر موقع پر پہنچے تو وہاں کوڑوبائی داداجی موہورلے (۴۵)، انوبائی داداجی موہورلے (۴۷)، سنگیتا سنتوش چودھری (۳۶) اور سنیتا کوشک موہورلے (۳۳) ان ۴؍خواتین کی لاشیں ملی۔ محکمہ جنگلات نے بھی موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا اور تفتیش شروع کر دی ۔ اس واقعہ سے گاؤں میں کہرام مچا ہوا ہے۔
دوسری جانب شیر کے حملے میں بیک وقت چار خواتین کی موت پر گاؤں والوں نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔ گاؤں والوں نے شیر کو فوری طور پر قابو کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جبکہ اس واقع کے بعد محکمہ جنگلات نے شہریوں سے جنگلاتی علاقہ میں احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔ متعلقہ علاقوں میں گشت بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ اس واقعے نے گزشتہ سال مینڈھا (مال) کے واقعے کی تلخ یادیں تازہ کر دی ہیں اور تیندو پتے جمع کرنے والے غریب مزدوروں کی حفاظت کا سوال کھڑا ہوگیا ہے۔
اپوزیشن کی جانب سے تنقیدیں
کانگریس لیڈر وجے وڈیٹیوار نے سوشل میڈیا پوسٹ پر الزام لگایا ہے کہ ان خواتین کی ہلاکت انتظامی لاپروائی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے لکھا ہے’’ چندرپور ضلع کے سندواہی تعلقہ کے گنجےواہی جنگل میں تیندو پتہ جمع کرنے گئی چار بے گناہ بہنوں کی شیر کے حملے میں موت محض حادثہ نہیں ہے، بلکہ انتظامی لاپروائی کا نتیجہ ہے، کیا یہ حکومت سو رہی ہے؟ دیہی علاقوں کے غریب، محنت کش لوگ پیٹ بھرنے کیلئے جنگل جاتے ہیں۔ کیا انہیں تحفظ فراہم کرنا محکمہ جنگلات اور حکومت کا فرض نہیں؟ انہوں نے کہا کہ اگر ایک شیر مارا جائے تو فوری طور پر انکوائری کمیٹیاں بنا دی جاتی ہیں لیکن اگر ایک ہی وقت میں چار خواتین شیر کے حملے میں ہلاک ہو جاتی ہیں تو انتظامیہ اس واقع سے لاتعلق کیسے رہ سکتی ہے؟ کب تک دیہی علاقوں کے لوگ اپنی جانیں ہاتھ میں لے کر جیتے رہیں گے۔ اس ہولناک واقعہ پر این سی پی (شرد ) کے رکن اسمبلی روہت پوار نے بھی ایک پوسٹ میں افسوس ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت اس واقعہ میں ہلاک خواتین کے خاندان کو خاطر خواہ مالی امداد دے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’گنجے واہی (تعلقہ سندواہی، ضلع چندر پور) کے جنگل میں تیندو کے پتے لینے گئی چار بے گناہ بہنوں کی شیر کے حملے میں موت کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ انسان اور جنگلی حیات کا ٹکراؤ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اگر حکومت بروقت اقدامات کرتی تو آج ان معصوم خواتین کی موت نہ ہوتی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حکومت اب بیدار ہو کر مناسب اقدامات کرے اور ہلاک ہونے والی خواتین کے ورثاء کو خاطر خواہ مالی امداد فراہم کرے۔