مکتوب میڈیا کے خلاف ایف آئی آر پر پریس کلب آف انڈیا نے شدید مذمت کی، ساتھ ہی مغربی بنگال پولیس سے مقدمہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
EPAPER
Updated: September 26, 2026, 9:58 PM IST | New Delhi
مکتوب میڈیا کے خلاف ایف آئی آر پر پریس کلب آف انڈیا نے شدید مذمت کی، ساتھ ہی مغربی بنگال پولیس سے مقدمہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
گزشتہ دنوں ترنمول کا نگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا مؤترا کی جانب سے مرکزی وزیر داخلہ کے مغربی بنگال کے دوروں میں مسلم افسران کی بے دخلی کے سنگین الزامات لگائےگئے۔ جس کا بڑے پیمانے پر میڈیا کوریج ہوا ، مکتوب میڈیا بھی نے ان الزامات پر رپورٹ کیا جس پر مغربی بنگال پولیس نے مکتوب کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ۔ اب اس معاملے پر پریس کلب آف انڈیا کا بیان سامنا آیا ہے ، پی سی آئی نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔دہلی پریس کلب آف انڈیا نے ہفتے کے روز مغربی بنگال پولیس کی جانب سے آن لائن نیوز پورٹل مکتوب میڈیاکے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گیانیش کمار کے خلاف ملک گیر احتجاج، اپوزیشن و نوجوان لیڈرز کا کارروائی کا مطالبہ
واضح رہے کہ یہ ایف آئی آر ان رپورٹس پر درج کی گئی ہیں جن میں ترنمول کانگریس کی رکنِ پارلیمنٹ مہوا موئترا کے ان الزامات کو شائع کیا گیا تھا کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے دورۂ ریاست کے دوران سینئر مسلم آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کو اہم سرکاری میٹنگوں سے باہر رکھا گیا تھا۔ ۲۶؍ ستمبر کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں صحافتی تنظیم نے کہا کہ یہ الزامات ٹی ایم سی ایم پی مہوا موئترا کی جانب سے علانیہ طور پر سامنے لائے گئے تھے اور میڈیا میں ان کی بڑے پیمانے پر کوریج ہوئی تھی۔ پریس کلب نے نشاندہی کی کہ اس معاملے پر حکومت یا پولیس کی طرف سے اب تک کوئی باضابطہ تردید یا انکار سامنے نہیں آیا ہے، لیکن اس کے باوجود پولیس نے مکتوب میڈیاکے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ مزید برآں پریس کلب نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ مکتوب میڈیا کو اس ایف آئی آر کے بارے میں پولیس نے نہیں بتایا بلکہ انہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے ایک ای میل کے ذریعے اس کا علم ہوا۔
بعد ازاں بیان میں بتایا گیا کہ پولیس نے مکتوب میڈیا کے ایکس اکاؤنٹ کی لاگ ان کی تفصیلات اور اینڈرائیڈ ڈیوائس کی معلومات مانگی ہیں۔ اگرچہ ایف آئی آر میں ملزم کے خانے میں نامعلوم شخص لکھا گیا ہے، لیکن اس میں واضح طور پر مکتوب کی سوشل میڈیا پوسٹس کا حوالہ دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، پریس کلب نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ قومی کمیشن برائے اقلیتی امورپہلے ہی مہوا موئترا کی شکایت کا نوٹس لے چکا ہے اور اس سلسلے میں مغربی بنگال حکومت سے جواب طلب کر چکا ہے۔ جبکہ پریس کلب نے اپنے بیان میں زور دے کر کہا کہ’’اس قسم کے سنگین الزامات کو رپورٹ کرنا ہی صحافت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: بی جے پی اتحادیوں چراغ پاسوان، نائیڈو اور کشواہا نے الیکشن کمیشن سے وضاحت طلب کی
تنظیم نے مکتوب میڈیاکے خلاف پولیس کارروائی کو مکمل طور پر غیر معقول قرار دیتے ہوئے اسے ’’صحافتی آزادی پر حملہ اور ملک میں آزادانہ صحافت کو روکنے کی کوششوں کا حصہ‘‘قرار دیا۔ پریس کلب آف انڈیا نے مغربی بنگال پولیس پر زور دیا کہ وہ اس ایف آئی آر کو فوری طور پر منسوخ کرے اور یہ یقینی بنائے کہ صحافی بغیر کسی خوف یا دباؤ کے اپنا کام انجام دے سکیں۔ اس باضابطہ بیان پر پریس کلب آف انڈیا کی صدر سنگیتا بروا پیشاروتی اور جنرل سکریٹری افضل امام کے دستخط موجود ہیں۔