عید الاضحی کے موقع پر شرپسند عناصر کی جانب سے قربانی کیلئے لانے والے جانوروں کی گاڑیوں کی دھڑ پکڑ شروع کر دی جاتی ہے مارپیٹ کی جاتی ہےاور جانوروں کے بیوپاریوں اور تاجروں سے ہفتہ وصولی اور رقم کا مطالبہ کیا جاتاہے۔
EPAPER
Updated: April 22, 2026, 10:57 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai
عید الاضحی کے موقع پر شرپسند عناصر کی جانب سے قربانی کیلئے لانے والے جانوروں کی گاڑیوں کی دھڑ پکڑ شروع کر دی جاتی ہے مارپیٹ کی جاتی ہےاور جانوروں کے بیوپاریوں اور تاجروں سے ہفتہ وصولی اور رقم کا مطالبہ کیا جاتاہے۔
عید الاضحی کے موقع پر شرپسند عناصر کی جانب سے قربانی کیلئے لانے والے جانوروں کی گاڑیوں کی دھڑ پکڑ شروع کر دی جاتی ہے مارپیٹ کی جاتی ہےاور جانوروں کے بیوپاریوں اور تاجروں سے ہفتہ وصولی اور رقم کا مطالبہ کیا جاتاہے۔ امسال یہ شر انگیزی نہ ہو اس کیلئے سماجوادی پارٹی کے مہاراشٹر کے صدر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولس (ڈی جی پی) سدانند داتے سے پیر کو ملاقات کی اور شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے،جانوروںکی پکڑ دھکڑ کی روک تھام کرنے کیلئے اور رہنمایانہ اصول جاری کرنے کا مطالبہ کیا ۔اس ضمن میں ابو عاصم اعظمی نے بتایاکہ ڈی جی پی کے ساتھ میٹنگ میں جانوروں کی نقل و حمل کے دوران تاجروں کو درپیش مسائل جن میں ہراساں کرنا، ہفتہ وصولی، تشدد اور جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جانا شامل ہیں، پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بتایا گیا کہ کئی مقامات پر سماج دشمن عناصر قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر تاجروں کو ہراساں کر رہے ہیں جس سے خوف کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔اس میٹنگ میں قریشی برادری کو درپیش مسائل سے متعلق بھی ڈی جی پی کو آگاہ کیا گیا اور قربانی کے دوران گوشت کی نقل و حمل بآسانی ہو اس کےلئے اسکواڈ اور دیگر سیکوریٹی کا بھی انتظام کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کردی
کرکٹر یوسف پٹھان کے سسر اوردیگر ۲؍رشتے دار گرفتار
بائیکلہ پولیس نے ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور سابق ہندوستانی کرکٹر یوسف پٹھان کے سسر، برادر نسبتی اور دیگر رشتہ داروں کو ایک کار ڈرائیور کو معمول بات پر زدو کوب کرنے کے جرم میں گرفتار کیا ۔ وہیں گرفتاری اور عدالت میں پیشی کے بعد انہیں عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے ۔پولیس سے موصولہ اطلاع کے مطابق مار پیٹ کا یہ واقعہ سنیچر کو رات ۸؍تا ۹؍ بجے کے درمیان اس وقت پیش آیا جب ایک یوسف خان نامی نوجوان اپنی کار لے کر بائیکلہ کی طرف سے گزر رہا تھا کہ اچانک سڑک پر پانی جمع ہونے اور گاڑی کے اس پر گزرنےسے پانی کا چھینٹا یوسف پٹھان کے سسرکے ایک رشتہ دار شعیب خان پر اڑ گیا ۔ اس پر شعیب نے یوسف کےمعافی مانگنے کے باوجود لکڑی سےاس کی گاڑی پر حملہ کر دیا اور یوسف سے بھی مار پیٹ کی ۔اس نقصان کے بعد متاثرہ جب گھر پہنچا تو اس کے اہل خانہ اور رشتہ داروں نے اسے پولیس میں شکایت درج کرنے کا مشورہ دیا ۔ اسہ دوران جب یوسف خان اپنے رشتہ دار کے ساتھ پولیس اسٹیشن جارہا تھا ، راستے میں یوسف پٹھان کے سسر خالد خان ، ان کابیٹا عمر شید خان ، شعیب اور دیگر نے پھر متاثرہ یوسف اور اس کے اہل خانہ پر بیس بال کے بیٹ اور لکڑی سے حملہ کیا اور متاثرہ کو بری طرح زخمی کرکے وہاں سے چلے گئے ۔