آج پارلیمانی الیکشن منعقد کرائے جائیں تو اتر پردیش کی ۸۰؍ میں سے ۳۸؍ سیٹیں ہی بی جےپی اتحاد جیت پائےگا جبکہ ۴۱؍ ’انڈیا‘ کے حصہ میں آئیں گی۔
EPAPER
Updated: August 29, 2026, 10:26 AM IST | Agency | New Delhi
آج پارلیمانی الیکشن منعقد کرائے جائیں تو اتر پردیش کی ۸۰؍ میں سے ۳۸؍ سیٹیں ہی بی جےپی اتحاد جیت پائےگا جبکہ ۴۱؍ ’انڈیا‘ کے حصہ میں آئیں گی۔
انڈیا ٹوڈے-سی ووٹر کے تازہ ترین موڈ آف دی نیشن سروے کا حوالہ دیتے ہوئےماہرین نے کہا ہے کہ اتر پردیش بی جے پی کیلئے دردسر بن سکتاہے ۔ بی جے پی اپنے لئے سب سے بڑی تشویش جین زی ووٹرس کو سمجھ رہی ہے مگر سروکے مطابق ’جین ایکس‘ جس نے جین زی کو پالا ہے، وہ بھی بی جےپی سے خوش نہیں ہے۔ سروے نے اتر پردیش میں بی جے پی کیلئےمشکل سیاسی راستے کی نشاندہی کی ہے۔ اتر پردیش میں تقریباً ۶؍ماہ بعد انتخابات ہونے ہیں۔
تازہ سروے کے مطابق اگر آج لوک سبھا انتخابات ہوں تو ریاست کی۸۰؍ نشستوں میں سے کانگریس کی قیادت والے انڈیا بلاک کو۴۱؍ اور بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کو۳۸؍ نشستیں مل سکتی ہیں۔ جنوری۲۶ءکے موڈ آف دی نیشن سروے کے مقابلے یہ بڑا بدلاؤ ہے۔ اُس وقت این ڈی اے کو۴۸؍ اور انڈیا بلاک کو ۳۱؍نشستیں ملنے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال سیلاب: ہلاکتوں کی تعداد ۶۰۰؍ سے تجاوز، ہزاروں افراد لاپتہ
یہ اعداد و شمار حالانکہ لوک سبھا انتخابات سے متعلق ہیں لیکن انہوں نے اسمبلی الیکشن کیلئے بی جےپی کو فکرمند کردیاہے۔ مجموعی منظرنامہ ریاست میں بی جے پی کی سیاسی کمزوری کی طرف اشارہ کررہا ہے۔اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات ہمیشہ اگلے عام انتخابات کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لوک سبھا کی۸۰؍ سیٹوں کے ساتھ یہ ریاست قومی سیاسی بیانیے کو بنانے یا بگاڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگلے سال اتر پردیش کا انتخابی مقابلہ انتہائی قریب سے دیکھا جائے گا۔ یوپی میں بی جےپی سے ناراضگی کی متعدد وجوہات سروے میں سامنے آئی ہیں ان میں امتحانی بے ضابطگی، بیروزگاری، رام مندر چندہ چوری جیسے موضوعات اہم ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹی ایم سی کےباغی اراکین کو ’نہ خداہی ملا نہ و ِصال صنم‘
سی جے پی پر عوام نے کیا کہا؟
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے انتخابی سیاست میں قدم رکھنے کے امکانات پر موڈ آف دی نیشن سروے میں اہم اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ سروے کے مطابق اگر سی جے پی سیاسی جماعت کی حیثیت سے انتخابات لڑتی ہے تو۴۳؍ فیصد افراد نے کہا کہ وہ اسے ووٹ نہیں دیں گے جبکہ ۳۳؍ فیصد نے اسے ووٹ دینے کی بات کہی۔۲۴؍ فیصد افراد اس بارے میں غیر یقینی کا شکار رہے۔۳۹؍ فیصد کا کہنا ہے کہ سی جے پی کو ’’پریشر گروپ‘‘ کے طور پر کام کرتے رہنا چاہئے۔