Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیوماہم اسکول بند اور منہدم کرنے کیخلاف ہائی کورٹ میں عرضی داخل

Updated: August 29, 2026, 11:02 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

۱۹۶۵ء سے ماہم کے سونووالا اگیاری مارگ پر واقع قدیم نیو ماہم اسکول کی عمارت کو بی ایم سی نےانتہائی خستہ حال قرار دیتے ہوئے بند کردیا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

۱۹۶۵ء سے ماہم کے سونووالا اگیاری مارگ پر واقع قدیم نیو ماہم اسکول کی عمارت کو بی ایم سی نےانتہائی خستہ حال قرار دیتے ہوئے بند کردیا ہے۔ اس کے خلاف مختلف تنظیموں کے کارکنان نےبامبے ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے عرضی داخل کی ہے جس میں کورٹ کو بتایا گیا کہ شہری انتظامیہ مذکورہ اسکول کو بند کرکے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہا ہے اور پانچ مختلف زبانوں کے اسکولوں کے ڈھائی ہزار غریب طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کررہا ہے۔ یہی نہیں عرضداشت گزاروں نے بی ایم سی پر جھوٹی آڈٹ رپورٹ ترتیب دینے اور بلڈر کو فائدہ پہنچانے کے مقصد سے مذکورہ اسکول کو بند کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔ واضح رہے کہ ۲؍ سال قبل اسکول کی عمارت کو انتہائی خستہ حال قرار دینے کے خلاف مسلسل احتجاج کیا جارہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: پریل : جلوس سے لوٹتے وقت چند شرکاء پر شر پسندوں کے حملہ کا الزام ،۳؍افراد پر کیس درج

اس تعلق سے سماجی کارکن اور معروف ماحولیاتی کارکن گریش راؤ کی بیٹی اسمرتی راؤ، سینئر صحافی اور فورم فار جسٹس کے سکریٹری سدھیر رام چندر ہیگستے، ٹیچرس ڈیموکریٹک فرنٹ کے صدر جناردن جنگلے اور ممبئی سروودیا منڈل کے سکریٹری جینت پربھاکر دیوان نے عرضداشت داخل کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایاہے کہ بی ایم سی نے ششانک مہندلے اینڈ ایسوسی ایٹس کے ذریعہ اسکول عمارت کی جو آڈ ٹ رپورٹ تیار کی تھی، اسے عیاں تک نہیں کیا اور عمارت کو سی ون کٹیگری یعنی انتہائی خستہ حال عمارت میں شامل کرکے اسے بند کر دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: کھارگھر: زیراکس کی دکان پر ایس آئی آر کے۳۴۰۰؍ فارم ملے، کیس درج

عرضداشت گزاروں نے بتایا کہ مذکورہ اسکول میں مراٹھی، ہندی، اردو، انگریزی اور کنڑ میڈیم کے ڈھائی ہزار طلبہ زیر تعلیم تھے۔ ماہم میں اطراف کے جن اسکولوں میں طلبہ کو منتقل کیا گیا ہے، وہاں پہلے ہی بچوں کو بیٹھنے کی جگہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اساتذہ کی بھی کمی ہے۔ عرضی کے ذریعہ کورٹ کو مذکورہ اسکول کی تاریخی حیثیت کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی بتایا گیا کہ مذکورہ عمارت کا ذاتی طور پر جب آڈٹ کرایا گیا تو اس میں عمارت کو مرمت کے بعد جاری رکھے جانے کی تفصیلات فراہم کی گئی تھیں ۔ اس رپورٹ کو بی ایم سی بلڈنگ ڈپارٹمنٹ میں جمع کرایا گیا تھا لیکن اس پر بی ایم سی نے نہ تومرمت سے متعلق کوئی ٹھوس قدم اٹھایا اور نہ ہی ہماری درخواست کا جواب دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: جنک فوڈپر پابندی کے بعدایف ڈی اے کا مڈڈے میل کےمعائنہ کا اعلان

مذکورہ معاملہ میں بی ایم سی، اس کے چیف ایجوکیشن آفیسر، جی نارتھ وارڈ کے اسسٹنٹ کمشنر اور ریاستی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔ اس تعلق سے کارپوریٹر یشونت قلعدار اور بی ایم سی ایجوکیشن کمیٹی کی چیئر پرسن راجیشری راجیش شروڈکر نے بھی یہ مسئلہ اٹھایا تھا ساتھ ہی ریاستی وزیر تعلیم دادا بھسے کی اس یقین دہانی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں انہوں نے اسکول بند نہ کرنے کی بات کہی تھی ۔ ا س عرضی کو ہائی کورٹ نے سماعت کیلئے قبول کرلیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK