Updated: August 29, 2026, 10:34 AM IST
| Kathmandu
نیپال اور تبت کی سرحد پر گلیشیئر کے اچانک انہدام کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ آفت کے نتیجے میں ہلاکتیں ۶۰۰؍ سے تجاوز کر گئی ہیں، جبکہ ۲؍ ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں اور مزید سیلاب کا خطرہ بھی برقرار ہے۔
نیپال اور چین کے تبت خودمختار علاقے کی سرحد پر گلیشیئر کے اچانک انہدام کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس قدرتی آفت میں ہلاک ہونے والوں کی ۶۰۰؍ سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ ۲؍ ہزار سے زیادہ افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ سیلابی ریلے میں برف، چٹانیں، کیچڑ اور پانی انتہائی تیزی سے وادیوں کی طرف بڑھے، جس کے نتیجے میں کئی علاقے شدید متاثر ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: ۴؍ سالہ فلسطینی بچی کٹے پاؤں کا درد سہتے ہوئے دوبارہ کھیلنے اور دوڑنے کے خواب دیکھ رہی ہے
ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں چوتھے روز بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ شدید بارش، لینڈ سلائیڈنگ، خراب موسم اور تباہ شدہ سڑکوں و پلوں کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ راسووا ضلع میں ایک ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ میں ۱۰۰؍ سے زائد افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ۳؍ ہزار ۷۰۰؍ سے زائد افراد کو اب تک محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ ملبے میں مزید زندہ افراد کی تلاش جاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’اے آئی‘ کی ترقی کے درمیان انسانیت اپنی ہی ایجادات کا شکار بن سکتی ہے: پوپ لیو
قدرتی آفت کے بعد کئی بستیاں، پل، سڑکیں اور ہائیڈرو پاور منصوبے تباہ ہوئے ہیں، جبکہ ۹۳؍ ہزار سے زائد افراد کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔ حکام کو ایک نئی بننے والی جھیل کے باعث مزید سیلاب کا خطرہ بھی لاحق ہے۔ نیپال نے بین الاقوامی برادری سے عمومی سرچ اینڈ ریسکیو کے بجائے خصوصی تکنیکی مدد طلب کی ہے، جس میں سرنگوں سے ریسکیو، ڈی این اے کے ذریعے شناخت، لاشوں کو محفوظ رکھنے اور عارضی پلوں کی تعمیر کے لیے ماہرین اور آلات شامل ہیں۔