صارفین نے نشاندہی کی کہ ۱۱؍ جون ۲۵ء کو نرملا سیتارمن نے یوپی آئی پر فیس کی خبروں کو ’’جھوٹی، بے بنیاد اور گمراہ کن ‘‘ قرار دیاتھا، ۶؍اگست کو میڈیا میں اور ۱۰؍ اگست کو پارلیمنٹ میں یقین دہانی کرائی کہ یو پی آئی مفت رہےگا۔
EPAPER
Updated: September 17, 2026, 11:07 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi
صارفین نے نشاندہی کی کہ ۱۱؍ جون ۲۵ء کو نرملا سیتارمن نے یوپی آئی پر فیس کی خبروں کو ’’جھوٹی، بے بنیاد اور گمراہ کن ‘‘ قرار دیاتھا، ۶؍اگست کو میڈیا میں اور ۱۰؍ اگست کو پارلیمنٹ میں یقین دہانی کرائی کہ یو پی آئی مفت رہےگا۔
۲؍ ہزار روپے سے زائد کے یوپی آئی لین دین پر ۰ء۴؍فیصد چارج عائد کرنے کے معاملے میں مودی سرکار سوشل میڈیا پر بری طرح گھر گئی ہے۔ ’ایکس‘ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر صارفین نے مودی سرکار اور وزیر مالیات نرملا سیتارمن کے قول وفعل کے تضاد کو بے نقاب کردیا ہے۔
وزارتِ خزانہ نے۱۱؍ جون۲۰۲۵ء کو اپنے مصدقہ ایکس اکاؤنٹ پر لکھا تھاکہ ’’یہ قیاس آرائیاں اور دعوے کہ یو پی آئی لین دین پر ایم ڈی آر(چارج) وصول کیا جائے گا، بالکل جھوٹے، بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔‘‘ وزارت نے مزید کہا تھا، ’’ایسی بے بنیاد اور سنسنی پھیلانے والی قیاس آرائیاں شہریوں میں بلاوجہ بے یقینی، خوف اور شکوک پیدا کرتی ہیں۔ حکومت یو پی آئی کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے کے لیے پوری طرح پابند عہد ہے۔‘‘بدھ کو متعدد صارفین نے اسے دوبارہ پوسٹ کرتے ہوئے حکومت کے متضاد بیانات کی جانب اشارہ کیا۔نکھل پہوا نے لکھا ہے کہ ’’....ہنسی آ رہی ہے، یہ اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ حکومت جو کہتی ہے، عموماً اس کے برعکس ہوتا ہے، تقریباً ایک سال لگ گیا...‘‘ چند صارفین نے وزیر خزانہ کی گزشتہ ماہ کی وضاحتوں کا بھی حوالہ دیا ہے۔ پارلیمنٹ میں ٹیکسیشن بل میں ترمیم سے قبل جب جے رام رمیش نے یو پی آئی پر چارج عائد کئے جانے کا اندیشہ ظاہر کیاتھا تو ۶؍ اگست ۲۶ء کو نرملا سیتارمن نے بہت ہی سختی کے ساتھ انہیں ڈانٹنے کے انداز میں ان پر ’’افواہ ‘‘پھیلانے کا الزام عائد کیاتھا ۔ بعد میں ۱۰؍ اگست کو پارلیمنٹ میں بھی انہوں نے دعویٰ کیاتھا کہ صارفین کیلئے یو پی آئی مفت رہےگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یو پی آئی پر چارج براہ راست صارفین پر عائد نہیں کیا گیا بلکہ تاجروں پر عائد کیاگیاہے۔ خود کو اسٹاکس ٹریڈر بتانےوالے سوشل میڈیا صارف نے اس کو کھول کر بیان کرتے ہوئےلکھا ہے کہ ’’ اب بروکرز کو یو پی آئی پرفیس ادا کرنی ہوگی۔ اس لاگت کی وصولی کیلئےبروکرز کہہ رہے ہیں کہ وہ بروکریج چارجمیں اضافہ کریں گے۔ اس طرح فیس بالآخر صارفین کو ہی ادا کرنا پڑے گا۔‘‘ این ڈی ٹی وی کی سابق صحافی کادمبنی شرما نے پوسٹ کیا ہے کہ ’’اب سانسوں پر ٹیکس کا انتظار ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:لکھنؤ: پارک کے قریب شناسا نے بونٹ پرلٹکی خاتون کو کار سے ٹکر ماردی، ویڈیو وائرل
اس بیچ حکومت حامی طبقہ فیصلے کے دفاع میں لگ گیا ہے۔ ڈی ڈی نیوز پر صحافی سدھیر چودھری نے باقاعدہ شو کر کے فیصلے کی ضرورت اور اس کے فوائد بتائے ہیں جسے بی جےپی نے شیئر کیا ہے۔
کانگریس نے’’یو پی آئی لُوٹ‘‘ قرار دیا
کانگریس کی سوشل میڈیا سربراہ سپریہ شرینیت نے پریس کانفرنس کر کے الزام لگایا کہ ’’امریکی کمپنیاں ہندوستان کی زیرو ایم ڈی آر پالیسی کی مخالفت کررہی تھیں نریندر مودی نے ان کے سامنے سرنڈر کر دیا ہے۔‘‘ انہوں نے اس ضمن میں امریکہ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا اور نشاندہی کی کہ یو پی آئی پر چارج کا فائدہ بھی امریکی کمپنیوں گوگل اور فون پے کو ہوگا جو ہندوستان کے یوپی آئی مارکیٹ پر ۷۲؍ فیصد پر قابض ہیں۔
فیصلہ عوام دشمن ہے: اپوزیشن ایم پی
بدھ کو اپوزیشن کے اراکین پارلیمان نے یو پی آئی ادائیگیوں پرفیس کو ’عوام دشمن‘ فیصلہ قرار دیا۔ انہوں نے یہ معاملہ وزارت مالیات کی پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں اٹھاتے ہوئے کہا کہ پورے ملک میں اس فیصلے کے خلاف ’غصے کی لہر‘ ہے۔پارلیمانی کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین بھرترو ہری مہتاب نے کہا کہ کچھ اراکین نے اجلاس میں یہ معاملہ اٹھایا ہے اور اسے کمیٹی کے اگلے اجلاس میں زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔