• Mon, 26 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

نومبر میں یوپی آئی لین دین نئی بلندی پر

Updated: December 02, 2023, 10:03 AM IST | Agency | New Delhi

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ۱۷ء۴؍ لاکھ کروڑ روپے کے لین دین کا ریکارڈ درج ہوا ہے۔ اکتوبر کے مقابلے میں ۱ء۴؍فیصد کا اضافہ۔

UPI transactions were higher than IMPS in November. Photo: INN
نومبر میں آئی ایم پی ایس کے مقابلے یو پی آئی لین دین زیادہ رہا۔ تصویر : آئی این این

ہندوستان میں ڈجیٹل ادائیگی ماہ بہ ماہ نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ نومبر میں یہ ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ نیشنل پیمنٹ کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق نومبر میں ۱۷ء۴؍ لاکھ کروڑ روپے کے لین دین کا ریکارڈ درج ہوا ہے۔ اکتوبر میں یو پی آئی کے ذریعے۱۷ء۱۶؍ لاکھ کروڑ روپے کے لین دین ہوئے۔ نومبر میں اکتوبر کے مقابلے میں ۱ء۴؍ فیصد زیادہ لین دین ہوا۔
لین دین کی تعداد میں کمی
 اگر ہم یو پی آئی لین دین کی تعداد کے بارے میں بات چیت کریں تو نومبر کے مقابلے اکتوبر میں ۱ء۵؍فیصد زیادہ لین دین ہوئے ہیں ۔ اکتوبر میں ۱۱ء۴۱؍ بلین ٹرانزیکشنز ہوئیں جبکہ نومبر میں ۱۱ء۲۴؍ بلین ٹرانزیکشنز ہوئے۔ستمبر میں لین دین کی کل تعداد ۱۰ء۵۶؍بلین تھی اور۱۵ء۸؍ لاکھ کروڑ روپے کے لین دین ہوئے۔ این پی سی آئی کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں حجم کے لحاظ سے۵۴؍ فیصد کا اضافہ ہوا تھا، جبکہ گزشتہ سال کے اسی مہینے یعنی ستمبر۲۰۲۲ء میں ۴۶؍ فیصد کا اضافہ دیکھا گیا تھا۔
 آئی ایم پی ایس ٹرانزیکشنز میں کمی آئی
 اکتوبر کے مقابلے نومبر میں آئی ایم پی ایس لین دین کی تعداد۴؍ فیصد کم ہو کر۴۷ء۲؍ کروڑ ہو گئی۔ اکتوبر میں یہ۴۹ء۳؍ کروڑ اور ستمبر میں ۴۷ء۳؍ کروڑ تھا۔
آئی ایم پی ایس کے ذریعے کتنا لین دین ہوتا ہے؟
 اگر ہم قدر کے لحاظ سے آئی ایم پی ایس لین دین کو دیکھیں تو نومبر میں ۵ء۳۵؍ لاکھ کروڑ روپے کے لین دین ہوئے تھے، جبکہ اکتوبر میں ۵ء۳۸؍ لاکھ کروڑ روپے کے لین دین ہوئے تھے۔ نومبر ۲۰۲۲ء کے مقابلے اس تعداد کے لحاظ سے۲؍ فیصد اور قدر کے لحاظ سے۱۸؍ فیصد اضافہ ہوا۔ ستمبر ۲۰۲۳ء میں ، آئی ایم پی ایس کے ذریعے۵ء۰۷؍ لاکھ کروڑ روپے کے لین دین کئے گئے۔
 فاسٹیگلین دین میں اضافہ ہوا 
 اکتوبر میں ۳۲؍ کروڑ کے مقابلے نومبر میں فاسٹیگ لین دین معمولی طور پر بڑھ کر۳۲ء۱؍ کروڑ ہو گیا۔ قدر کے لحاظ سے نومبر میں فاسٹیگ لین دین ۵۳۰۳؍کروڑ روپے میں دیکھا گیا، جو اکتوبر میں ۵۵۳۹؍ کروڑ روپے سے۴؍ فیصد کم ہے۔ستمبر ۲۰۲۳ء میں لین دین کی تعداد۲۹۹؍ کروڑ تھی اور رقم۵۰۸۹؍کروڑ روپے تھی۔ نومبر ۲۰۲۲ء کے مقابلے میں تعداد میں ۱۲؍ فیصد اور قدر میں ۱۴؍ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
 وویک ایّر( پارٹنر، گرانٹ تھورنٹن بھارت) نے کہا کہ ’’ڈجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینا ڈجیٹلائزیشن کی ہندوستانی کہانی کا ایک اہم ستون رہا ہے اور اس کی ڈجیٹل ٹول ادائیگیوں سے بڑھ کر کوئی مثال نہیں ملتی۔انہوں نے کہاکہ `ٹیکنالوجی تک رسائی کے بعد، ٹیکنالوجی کو اپنانا اگلا اہم قدم ہے اور این ای ٹی سی فاسٹیگ نے اس عمل کی تمام رکاوٹوں کو دور کر دیا ہے۔
آدھار کے ذریعے ادائیگی میں اضافہ
 نومبر میں آدھار قابل ادائیگی کا نظام (اے ای پی ایس ) اکتوبر میں ۱۰؍ کروڑ کے مقابلے میں ۱۰؍ فیصد بڑھ کر۱۱؍ کروڑ ہو گیا۔قیمت کے لحاظ سے بھی، اے ای پی ایس نومبر میں  ۱۴؍ فیصد بڑھ کر۲۹۶۴۰؍ کروڑ روپے ہو گیا، جو اکتوبر میں ۲۵۹۷۳؍ کروڑ روپے تھا۔ یہ تعداد کے لحاظ سے۱۵؍ فیصد زیادہ اور قیمت کے لحاظ سے گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں ۱۴؍ فیصد زیادہ ہے۔ ستمبر ۲۰۲۳ء میں ۱۰۱؍ کروڑ لین دین سے۲۵۹۸۴؍ کروڑ روپے کے لین دین ہوئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK