اُردو مرکز کے افتتاحِ نوکی تقریب میںشرکت کرنےوالی علمی، ادبی، تعلیمی اور سماجی شخصیات کااظہار خیال، ادارے کو مختلف سرگرمیوں کامر کز بنانے پر زور۔
EPAPER
Updated: October 14, 2026, 2:18 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
اُردو مرکز کے افتتاحِ نوکی تقریب میںشرکت کرنےوالی علمی، ادبی، تعلیمی اور سماجی شخصیات کااظہار خیال، ادارے کو مختلف سرگرمیوں کامر کز بنانے پر زور۔
اُردو زبان و ادب کے فروغ کیلئے گزشتہ ۲۰؍برسوں سے سرگرم اُردو مرکز کے افتتاحِ نوکی تقریب کا منگل کو امام باڑہ میونسپل اردو اسکول، بھنڈی بازار میں انعقاد کیا گیا۔تقریب کی صدارت پروفیسر زہرہ موڈک نے انجام دی جبکہ کلیدی خطبہ پروفیسر سید اقبال نے پیش کیا ۔مہمان خصوصی کے طور پر رکن اسمبلی امین پٹیل اور رئیس شیخ کے علاوہ سابق کارپوریٹر جاوید جنیجا نے شرکت کی۔ اس موقع پر شہر کی متعدد اہم علمی، ادبی، تعلیمی اور سماجی شخصیات موجود تھیں۔ شرکاء نے اردو مرکز کی سرپرستی میں ازسرنوشروع ہونےوالی علمی و ادبی سرگرمیوںکو ممبئی کی اردو برادری کیلئے خوش آئند قرار دیا۔
معروف ماہرِ تعلیم پروفیسر زہرہ موڈک نے اردو مرکز کے ڈائریکٹر ایڈوکیٹ زبیر اعظمی کی اردو زبان و ادب کیلئے طویل خدمات کا اعترات کرتے ہوئے انہیں ’ سچامجاہدِ اُردو ‘ کے خطاب سے نوازا۔ انہوںنےکہاکہ اُردو مرکز کی بحالی صرف ایک عمارت یا لائبریری کا دوبارہ کھلنا نہیں بلکہ اردو کے ایک اہم علمی و ادبی مرکز کی سرگرمیوں کا احیاء ہے۔
یہ بھی پڑھئے: راشن کارڈ کے وائی سی میں ممبئی اور تھانے کا پہل امقام
مہمانِ خصوصی پروفیسر سید اقبال نے بالخصوص طالبات اور نوجوان نسل سے خطاب کرتے ہوئے انہیں اردو کا سچا محب بننے کی تلقین کی ۔ انہوں نے کہا کہ’’ اردو سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہم اس زبان کو پڑھیں، لکھیں، بولیں اور اس کے فروغ کیلئے عملی کردار ادا کریں۔‘‘
رکن اسمبلی امین پٹیل، رئیس شیخ اور سابق میونسپل کارپویٹر جاوید جنیجانے اردو مرکز کے شاندار ماضی کا ذکر کرتے ہوئے اس کے علمی و ادبی کردار کو دوبارہ فعال اور مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔اس موقع پر اردو مرکز کے ڈائریکٹر ایڈوکیٹ زبیر اعظمی، فرید احمد خان، سعید احمد خان، خلافت بی ایڈ کالج کی پرنسپل ڈاکٹر نسرین شیخ، آر سی ڈی ایڈ کالج امام باڑہ کی پرنسپل سائرہ خان، خلافت ڈی ایڈ کالج کی پرنسپل شبانہ ونو،امام باڑہ اسکول کی بلڈنگ انچارج مریم اور سماجی کارکن شبانہ خان نے بھی خطاب کیا ۔
ان مقررین نے کہا کہ اُردومرکز کو مستقبل میں اردو زبان و ادب، تحقیق، مطالعہ، ادبی سرگرمیوں اور نئی نسل کی تربیت کا ایک فعال مرکز بنایا جائے، تاکہ اس تاریخی ادارے کی علمی و ادبی روایت کو مزید آگے بڑھایا جاسکے۔