• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اُرمیلا ماتونڈکر نے کلاسیکی گیت ’میرے پیا گئے رنگون‘ پر پرفارمنس دیا

Updated: November 06, 2026, 7:05 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ کی معروف اداکارہ اُرمیلا ماتونڈکر نے ہندی سنیما کے سنہرے دور اور سیاہ و سفید فلموں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے ایک خوبصورت انداز میں کلاسیکی موسیقی کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

Urmila.Photo:INN
اُرمیلا۔ تصویر:آئی این این

بالی ووڈ کی معروف اداکارہ اُرمیلا ماتونڈکر نے ہندی سنیما کے سنہرے دور اور سیاہ و سفید فلموں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے ایک خوبصورت انداز میں کلاسیکی موسیقی کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ اداکارہ نے ۱۹۴۹ء کی مشہور فلم’ ’پتنگا‘‘  کے مقبول گیت ’میرے پیا گئے رنگون‘ پر اپنی ایک خصوصی پرفارمنس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے۔ اس ویڈیو کی خاص بات یہ ہے کہ اسے مکمل طور پر سیاہ و سفید انداز میں پیش کیا گیا ہے، جس سے پرانے ہندی سنیما کا روایتی ماحول اور اس دور کی خوبصورتی دوبارہ زندہ ہوگئی ہے۔ ارمیلا نے یہ ویڈیو جمعرات کو اپنے سرکاری انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی، جس میں وہ اس مشہور گیت پر اپنے منفرد انداز میں پرفارم کرتی نظر آرہی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:رونالڈو کے بین الاقوامی ریٹائرمنٹ کے بعد آر سی بی کو وراٹ کا ’گوٹ‘ خراجِ تحسین یاد آیا

ویڈیو میں اُرمیلا ماتونڈکر نے لمبا کرتا اور اسکرٹ زیب تن کیا ہے۔ اس کے ساتھ بڑے جھمکے اور اُس زمانے کے فیشن سے متاثر بالوں کا انداز ان کی شخصیت کو ایک پرانی فلمی اداکارہ جیسا روپ دے رہا ہے۔ ویڈیو کو سیاہ و سفید رکھنے کا فیصلہ بھی اسی تصور کا حصہ ہے، تاکہ ناظرین کو ہندی سنیما کے ابتدائی دور کی جھلک محسوس ہو۔ اداکارہ نے ویڈیو کے ساتھ لکھا کہ یہ سیاہ و سفید سنیما، پرانے ہندی گیتوں اور ان سے وابستہ خوبصورت یادوں سے ان کی محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں ’’پلے اٹ اگین، سیم‘‘ (Play it again, Sam) بھی لکھا، جس کے ساتھ موسیقی سے متعلق علامتیں شامل کیں۔ ان کی اس پوسٹ کو پرانے گیتوں اور کلاسیکی فلموں سے محبت کرنے والے مداحوں کی توجہ حاصل ہوئی ہے۔ 

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Urmila Matondkar (@urmilamatondkarofficial)


’میرے پیا گئے رنگون‘ ہندی فلمی موسیقی کے یادگار گیتوں میں شمار کیا جاتا ہے، جسے ۱۹۴۹ء میں ریلیز ہونے والی فلم’ ’پتنگا‘‘ میں شامل کیا گیا تھا۔ اس گیت کو سی رام چندر اور شمشاد بیگم  نے اپنی آواز دی تھی، جبکہ اس کی موسیقی بھی سی رام چندر نے ترتیب دی تھی۔ فلم میں یہ گیت اداکار گوپے اور موہنا کیبرال پر فلمایا گیا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے پس منظر سے جڑے اس گیت کی دھن، گائیکی اور دل چسپ انداز نے اسے اپنے دور میں غیر معمولی مقبولیت دلائی تھی۔ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ گیت آج بھی پرانے ہندی فلمی گانوں کے شائقین میں پسند کیا جاتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:رنبیر کپور اور یش کی فلم ’’رامائن‘‘ کی باکس آفس پر شاندار شروعات

اُرمیلا ماتونڈکر نے بطور چائلڈ آرٹسٹ اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا تھا اور بعد میں ۱۹۹۰ء کی دہائی میں ہندی سنیما کی نمایاں اداکاراؤں میں شمار ہونے لگیں۔ رام گوپال ورما کی فلم ’’رنگیلا‘‘  ان کے کریئر کی اہم فلموں میں شامل ہے، جس میں انہوں نے عامر خان اور جیکی شروف کے ساتھ کام کیا تھا۔ اس فلم میں ان کی اداکاری، رقص اور دل کش اسکرین موجودگی کو خوب سراہا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ’’جُدائی‘‘،’ ’ستیہ‘‘،’’کون؟‘‘، ’’پیار تُونے کیا کیا‘‘، ’’بھوت‘‘ اور’ ’پنجر‘‘ جیسی کامیاب فلموں میں بھی اہم کردار ادا کیے۔ مختلف النوع کرداروں کے انتخاب نے انہیں ایک ایسی اداکارہ کے طور پر شناخت دلائی جو رومانوی، سنجیدہ اور نفسیاتی تھرلر فلموں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھا سکتی ہیں۔ 
 اُرمیلا کی یہ پرفارمنس اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے پرانے ہندی گیت نئی نسل تک دوبارہ پہنچ رہے ہیں۔ انسٹاگرام اور دیگر ڈجیٹل پلیٹ فارمز پر کلاسیکی گانوں پر بنائی جانے والی ویڈیوز، رقص اور موسیقی کی نئی پیشکشیں ان گیتوں کو ایک بار پھر مقبول بنا رہی ہیں۔ ارمیلا نے اپنے اس انداز میں کسی جدید ریمکس کے بجائے اصل گیت کے پرانے فلمی ماحول اور اس کی یادگار موسیقی کو اہمیت دی ہے۔ ان کی یہ پیشکش نہ صرف ان کے مداحوں کے لیے ایک خوش گوار یاد ہے بلکہ ہندی سنیما کے کلاسیکی دور، اس کے موسیقاروں اور گلوکاروں کی فنی خدمات کو یاد کرنے کا بھی ایک موقع ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK