غزہ کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی کارروائی کے بعد گرفتار افراد کو یونان منتقل کرنے کا فیصلہ عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ اس اقدام پر مختلف ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
EPAPER
Updated: May 01, 2026, 11:01 AM IST | Gaza
غزہ کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی کارروائی کے بعد گرفتار افراد کو یونان منتقل کرنے کا فیصلہ عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ اس اقدام پر مختلف ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
اسرائیل نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے بعد اس معاملے پر سفارتی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام نے ابتدائی طور پر۱۷۵؍ گرفتار افراد کو اسرائیل منتقل کرنے کا عندیہ دیا تھا تاہم، بعد ازاں یونانی حکومت کے ساتھ ہونے والے انتظام کے تحت انہیں براہ راست یونان منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ کے مطابق تمام افراد کو آئندہ چند گھنٹوں میں یونانی ساحل پر اتار دیا جائے گا۔
Same script, different year. The israeli navy thinks a radio warning can drown out the cries for justice. You call it a "maritime security blockade" — the rest of the world calls it a crime scene. We aren`t "invited" to Ashdod; we aren`t your guests. We are the witnesses you… pic.twitter.com/dElolWN59Y
— Global Sumud Flotilla (@gbsumudflotilla) April 29, 2026
کارروائی پر عالمی ردِعمل
اسرائیلی اقدام پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ کئی یورپی ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے اس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ گرفتار افراد کو فوری رہا کیا جائے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں اس طرح کی کارروائی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے، جبکہ بعض ممالک نے اسے انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا۔
ترکی نے اسرائیل کی ’قزاقی‘ قراردیا
ترکی نے اسرائیلی آپریشن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے ’’قزاقی کارروائی‘‘ اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ترک وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کے اقدامات نے بین الاقوامی پانیوں میں انسانی ہمدردی کی کوششوں اور جہاز رانی کی آزادی کو نشانہ بنایا۔ حکام نے بتایا کہ انقرہ جہاز پر موجود اپنے شہریوں کے تحفظ کیلئے ”تمام ضروری اقدامات“ کر رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے اور اس پر پابندیاں عائد کرے۔ ترک حکام نے پہلے کے ان واقعات کو بھی اجاگر کیا جن میں فلوٹیلا کے شرکاء کو حراست میں لیا گیا تھا اور دورانِ حراست بدسلوکی کا الزام لگایا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے ساتھ جنگ ۶۰؍ روزہ ڈیڈ لائن سے پہلے ’ختم‘ ہوگئی: ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ
اسرائیل کا مؤقف
دوسری جانب اسرائیل نے اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کی سمندری ناکہ بندی سیکوریٹی وجوہات کی بنیاد پر ضروری ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق فلوٹیلا اس ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہا تھا، اس لئے اسے روکنا ناگزیر تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایسے مشنز بعض اوقات سیاسی مقاصد کیلئے کئےجاتے ہیں۔
پورا معاملہ کیا ہے؟
اسرائیلی بحری افواج نے بین الاقوامی بحری حدود میں گلوبل صمود فلوٹیلا سے تعلق رکھنے والے متعدد بحری جہازوں پر حملہ کرکے چھاپہ مار کارروائی انجام دی۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، تقریباً ۴۰۰؍ کارکنوں کو لے جانے والی ۵۰؍ کے قریب کشتیوں کو اسرائیلی ساحل سے ’’سیکڑوں کلومیٹر‘‘ دور قبضے میں لیا گیا اور جہاز پر موجود افراد کو مطلع کیا گیا کہ وہ زیرِ حراست ہیں۔ تاہم، گلوبل صمود فلوٹیلا نے کہا کہ کم از کم ۱۵؍ جہازوں کو غزہ سے ۶۰۰؍ ناٹیکل میل سے زیادہ دور، ایرانی جزیرے کریٹ (Crete) کے ساحل کے قریب روکا گیا۔ یہ فلوٹیلا، جو ۵۰؍ سے زائد جہازوں پر مشتمل تھا، غزہ کیلئے امداد لے کر اٹلی سے روانہ ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کو جان کی دھمکی کا الزام،ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹرجیمزکومی کی خود سپردگی
ایک بیان میں، فلوٹیلا نے الزام لگایا کہ اسرائیلی افواج نے ’’بین الاقوامی پانیوں میں پرتشدد چھاپہ مارا۔ ‘‘ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ فوجی اسپیڈ بوٹس نے قافلے کو گھیرے میں لے لیا، شہریوں پر ہتھیار تانے اور جہازوں پر سوار ہوگئے۔ منتظمین نے مزید الزام لگایا کہ افواج نے انجن توڑ دیئے، نیوی گیشن سسٹم تباہ کر دیئے اور مواصلات میں خلل ڈالا، جس سے شرکاء خراب ہوتے ہوئے موسمی حالات کے درمیان سمندر میں پھنس کر رہ گئے۔ اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے اس آپریشن کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ فلوٹیلا کو اسرائیلی زیرِ انتظام علاقوں تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا گیا تھا۔ انہوں نے شرکاء کو ’’اشتعال انگیز‘‘ قرار دیا۔