تہران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، ایرانی حملوں کے بعد کویت کا سخت ردعمل۔
امریکی حملوںکے خلاف ایران کے عوام احتجاج کیلئے سڑکوں پر اترے- تصویر:آئی این این
جنگ ختم کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے باوجود امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج نے سنیچرکے اوائل میں ۲؍ایرانی جزیروں پر واقع ریڈار تنصیبات اور ڈرون کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز پر فضائی حملے کیے ہیں۔ کمانڈ نے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا کہ یہ حملے ایرانی جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے جن میں بین الاقوامی بحری حدود کے اوپر پرواز کرنے والے امریکی ایم کیو- ون طیارے کو مار گرانا شامل تھا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حملے گزشتہ سنیچر اور اتوار کو کیے گئے جن میں کسی بھی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔ اسی دوران ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا کہ ان کی فضائیہ نے ایک ایسے فضائی اڈہ کو نشانہ بنایا ہے جسے سیرک جزیرہ پر ٹیلی کمیونی کیشن ٹاور پرحملے کیلئے استعمال کیاگیا تھا ۔
گزشتہ منگل کو ایرانی وزارت خارجہ نے امریکہ پر ۸؍اپریل سے نافذ جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا خاص طور پر جنوبی ایران کے صوبہ ہرمزگان پر حملے کے بعد جس میں قشم، کیش اور ہرمز سمیت متعدد جزائر اور بندر عباس کی مشہور بندرگاہ واقع ہے۔ ایران نے اپنے الفاظ میں جواب دینے اور اپنا دفاع کرنے کے حق پر بھی زور دیا۔ ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے ملک پر کسی بھی نئے حملے کا بھرپور جواب دینے کی دھمکی دی تاہم بعد میں اس کے ایک کمانڈر نے دوبارہ جنگ شروع ہونے کے امکان کو مسترد کر دیا۔ اس وقت سینٹ کام نے واضح کیا تھا کہ ان حملوں کا ہدف وہ کشتیاں تھیں جو آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھانے یا جہازوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اس کے علاوہ میزائل اور ڈرون کے ٹھکانے بھی ہدف تھے جو عالمی سطح پر اس اہم گزرگاہ میں جہاز رانی کے لیے خطرہ تھے۔ واضح رہے کہ یہ حالیہ امریکی حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثوں کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔ ایسی خبریں بھی ہیں کہ امریکی صدر ٹرمپ نے جنگ روکنے کیلئے زیر غور تازہ ترین تجویز میں مزید سخت ترامیم شامل کی ہیں۔ تجویز میں کسی بھی ترمیم سے سمجھوتے تک پہنچنے میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے جو کہ خلیج میں تلخ بیان بازی اور کشیدگی سے بھرپور ہفتوں کی سخت مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے۔
دوسری جانب کویت نے اپنے خلاف مبینہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں سنگین، خطرناک اور بار بار ہونے والی جارحیت قرار دیا ہے۔ کویتی وزارت خارجہ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی حملے ملک کی سلامتی اور استحکام پر براہِ راست حملہ ہیں۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قرارداد کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ کویت کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے نہ صرف ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے ہیں بلکہ شہریوں اور اہم تنصیبات کی حفاظت بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
کویتی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ریاست کو اپنی خودمختاری، سلامتی اور سرحدوں کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ کویت نے ایرانی حملوں کی تمام تر ذمہ داری تہران پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان مبینہ جارحانہ کارروائیوں کا جواب دینے کیلئے مناسب فیصلے محفوظ رکھتا ہے۔