طالبان کے ٹھکانوں پر امریکہ کے فضائی حملے

Updated: July 24, 2021, 12:29 PM IST | Agency | Washington/Kabul

صوبے قندھار اور مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، پینٹاگون کے ترجمان نے تصدیق کی لیکن تفصیلات فراہم کرنے سے انکار

Pentagon spokesman John Kirby reiterated his commitment to helping .Picture:INN
پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے افغان فورسیز کے مدد کے عزم کا اعادہ کیا۔۔تصویر: آئی این این

افغانستان میں امریکی اور دیگر غیر ملکی فوج کے مکمل  انخلا کی تکمیل عنقریب  ہے۔ وہیں اس دوران جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب اـمریکی فوج کے جنگی  طیاروںنے افغانستان کے صوبے قندھار  اور مختلف مقامات پرطالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے  کئے ہیں۔ امر یکی حکام  نے بھی ان حملوں کی تصدیق کی  لیکن اس سے متعلق تفصیلات دینے سے انکار کیا ہے۔
 امریکی محکمہ دفاع کے ادارے پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ا فغان نیشنل ڈیفنس فورسیز کی مدد کیلئے گزشتہ کئی روز کے دوران ہم نے فضائی حملوں کے ذریعے کارروائی کی ہے۔ ہم افغان حکومتی فورسیز کی حمایت میں کارروائی جاری  ر کھیں گے۔جان کربی کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل کینتھ میکنزی نے ان فضائی حملوں کی منظوری دی تھی۔ جان کربی کے مطابق وہ ان فضائی حملوں سے متعلق مزید تفصیلات نہیں فراہم کر سکتے ہیں۔اس سلسلے میں انہوں نے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے گزشتہ روز کے بیان پرز ور دیا جس میں  افغان سیکوریٹی فورسیز اور افغان حکومت کی مدد کے  لئے امریکی  فوج کی امداد  کے عزم کا اظہار کیا گیاتھا۔
   علاوہ  ازیںجان کربی نے اپنے ایک اور  بیان  کہا کہ افغانستان سے انخلا کے بعد ہمارا مشن پورا ہوجائے گا۔ افغانستان میں ہماری موجودگی صرف سفارتکاروں کی حفاظت کے  لئے ہوگی۔
 انہوں نے بتایا کہ افغان فور سیز کی فضائی کارروائی کے ذریعے مدد  کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ خطے میں پاکستان  اورامریکہ کے مشترکہ مفادات ہیں۔مستحکم افغانستان اور محفوظ سرحد کیلئے پاکستان سے بھی بات چیت جاری ہے۔
  وہیںامریکی چینل’ سی این این‘نے امریکی وزارت دفاع کے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ ایک ماہ میں امریکی فوج نے۶؍  سے ۷؍ مرتبہ حملے  کئے ہیں۔  زیادہ تر کارروائیوں میں ڈرون طیاروں کا استعمال کیا گیا۔ امریکی چینل کے مطابق پینٹاگون کے ایک اورعہدیدار نے بتایا ہے کہ امر یکہ کی کارروائیوںکا مقصد افغان فورسیز کو سپورٹ کرنا  ہے۔ ان حملوں کے دوران   ان امریکی ساز و سامان کو  حملوں میں نشانہ بنایا گیا  جو پہلے افغان فورسیز  کے حوالےکیا گیا تھا لیکن بعد ازاں طالبان نے ملک بھر میں اپنی پیش قدمی کے دوران میں ان پر قبضہ کر لیا تھا۔
 علاوہ ازیں ایک اور دفاعی عہدیدار نے بتایا کہ  امریکی فضائیہ کی جانب سے مجموعی طور پر۴؍ فضائی حملے  کئے گئے، اس میں سے کم سے کم دو حملوں میں طالبان کا نقصان ہوا ہے،۔ اس دوران کے قبضے میں موجود گاڑی اور ہتھیاروں کو بھی  نقصان پہنچا۔عہدیدار کا کہنا تھا کہ ان حملوں کے  لئے افغان حکومت کی جانب سے درخواست کی گئی تھی، اس  میں قندھار میں کیا جانے والا حملہ بھی شامل تھا۔
  عیاں رہے کہ  اس سے قبل  بدھ کو ایک پریس کانفرنس کے دوران امر یکہ  کے چیئرمین آف دی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک میلی نے کہا تھا کہ افغانستان کا مستقبل یہاں کے باشندوں کے ہاتھ میں ہے۔ ان کہنا تھا کہ  افغان سیکیورٹی فور سیز کے پاس ہر قسم  جنگ لڑنے  اور اپنے ملک کا دفاع کرنےکی  وہ صلاحیت  ہے۔ہم امریکی صدر اور  وزیر دفاع کی ہدایات کے  تحت  ضرورت  کے مطابق  افغان سیکوریٹی فور سیز کو مدد فراہم کرتے رہیں گے۔ْ
 واضح  رہے کہ افغانستان کی موجودہ کشمکش  کی صورتحال  میں  خطے  کے مستقبل پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ وہیں طالبان نے ملک  بیشتر علاقوں پر اپنا قبضہ ہونے کا دعویٰ  کررہے ہیں لیکن  افغان حکومت طالبان کے ان دعوئوں کو پروپیگنڈہ قرار دیا ہے۔  افغان وزارت دفاع کے نائب ترجمان فواد امین کا کہنا تھا کہ `یہ بے بنیاد پروپیگنڈا ہے۔ ملک کے بیشتر حصےافغان فورسیز  کے  کنٹرول میں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK