Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان:بدھ بھومی فاؤنڈیشن کا ’کے ڈی ایم سی‘ کے صدر دفتر پر مورچہ

Updated: June 30, 2026, 2:01 PM IST | Ejaz Abduilghani | Kalyan

ہزاروں مظاہرین شامل، الزام لگایا کہ ۱۵؍دنوں سے جاری احتجاج کے باوجود اب تک کسی سرکاری اہلکار نے ملاقات نہیں کی۔

Protests.Photo:INN
احتجاج۔ تصویر:آئی این این
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کی حدود میں مجوزہ ۴؍ لین فلائی اوور منصوبہ اب محض ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں رہا بلکہ ایک حساس مذہبی تنازع کی صورت اختیار چکا ہے۔ پریم آٹو سے وٹھل واڑی تک تعمیر کئےجانے والے فلائی اوور کےلئے والدھونی میں واقع بدھ ویہار میں کی گئی انہدامی کارروائی کے خلاف بدھ برادری میں شدید بے چینی اور غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ بدھ بھومی فاؤنڈیشن اور مقامی بدھ سماج کا الزام ہے کہ ترقی کے نام پر ان کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا گیا نیز سرکاری زمین کے ریکارڈ میں مبینہ طور پر رد و بدل کیا گیا ہے۔
اس معاملے پر گزشتہ ۱۵؍ دنوں سے میونسپل کارپوریشن کے صدر دفتر کے باہر جاری پُرامن دھرنا پیر کے روز ایک زبردست احتجاجی مارچ میں تبدیل ہو گیا جس میں سیکڑوں افراد نے شرکت کرتے ہوئے میونسپل انتظامیہ کے ذمہ دار افسران کی فوری معطلی اور کلیان لوک سبھا کے رکنِ پارلیمان کے استعفے کا پُرزور مطالبہ کیا۔
 
 
پیر کے روز بدھ بھومی فاؤنڈیشن کی جانب سے زبردست احتجاجی مورچہ نکلا گیا۔اس موقع پر بدھ مت کے گوتم رتن مہاتہیرو نے میونسپل انتظامیہ پر شدید لاپروائی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ فلائی اوور کی آڑ میں بدھ بھومی کا ایک بڑا حصہ متاثر کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کارروائی کے دوران بدھ مورتی کو ہٹایا گیا اور تاریخی استوپا کو نقصان پہنچایا گیاہے۔مظاہرین نے اس معاملے میں ایک نیا موڑ لاتے ہوئے الزام لگایا کہ اس منصوبے سے مالی فائدے حاصل کرنے کیلئے مقامی رکن پارلیمنٹ شری کانت شندے نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو ٹھیکہ دیا ہے۔ احتجاجی مارچ کے دوران مظاہرین نے نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ شری کانت شندے بدھ برادری سے سرعام معافی مانگیں اور فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
بھیکو سنگھ کے نمائندوں نے حکومت اور عوامی نمائندوں کے رویے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طویل عرصہ سے دھرنا اور بھوک ہڑتال جاری رہنے کے باوجود کسی سرکاری اہلکار نے جائے وقوعہ کا دورہ نہیں کیا۔ بدھ بھومی فاؤنڈیشن نے اپنے مطالبات کی فہرست پیش کرتے ہوئےدہرایا کہ فلائی اوور کا رخ ندی کے کنارے کی طرف موڑ دیا جائے اور اس منصوبے کے بدلے ملنے والا تمام معاوضہ بدھ برادری کو دیا جائے۔اس پورے  معاملے پر اب تک شندے سینا یا کے ڈی ایم سی کی جانب سے کوئی بھی باضابطہ یا سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے اور متعلقہ حکام نے تاحال خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ 
 
 
ذرائع کے مطابق حال ہی میں منترالیہ میں ایک اعلیٰ سطح کی میٹنگ منعقد ہوئی تھی جس میں بدھ بھومی کی ترقی کے لئے ایک علاحدہ اتھارٹی قائم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔دوسری جانب یہ معاملہ اس وقت مزید پیچیدہ ہوگیا جب میونسپل ہیڈ کوارٹرز کے باہر بدھ برادری ہی کے ایک دوسرے گروپ نے بدھ بھومی فاؤنڈیشن کیخلاف جوابی مورچہ کھول دیا۔ان مقامی شہریوں نے فاؤنڈیشن کے کردار پر سوالات اٹھائے اور احتجاج کی قیادت کرنے والے بھنتے جی پر سنگین الزامات عائد کئے جس کے بعد علاقے میں صورتحال کشیدہ بنی ہوئی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK