امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر نے ایران جنگی حکمت عملی کی ناکامی پر ہیگسیتھ کی ناکامی پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں بذات خود ناکام قرار دیا۔
EPAPER
Updated: July 23, 2026, 9:02 PM IST | Washington
امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر نے ایران جنگی حکمت عملی کی ناکامی پر ہیگسیتھ کی ناکامی پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں بذات خود ناکام قرار دیا۔
سینیٹر گیری پیٹرز اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے درمیان تلخ کلمات کا تبادلہ سینیٹ کی ایک سماعت کا مرکزی لمحہ بن گیا، جس میں ٹرمپ انتظامیہ کی ایران جنگ سے نمٹنے کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا رہا تھا۔ پیٹرز نے پینٹاگون کی قیادت پر فتح کی واضح راہ فراہم نہ کرنےکا الزام عائد کیا۔ گھنٹوں جاری رہنے والی سماعت کے دوران ڈیموکریٹ سینیٹر نے انتظامیہ کے طرزِعمل پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ’’ ان کی کوششیں اس جنگ کو جیتنے میں مکمل اور قطعی ناکامی ہیں۔ جبکہ ہیگستھ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے تبصرے محاذ پر تعینات امریکی فوجیوں کی کاوشوں کو کمزور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا،’’میرے خیال میں اس شاندار کوشش کو ناکامی قرار دینا لاپروائی ہے، اور میرے خیال میں یہ غیر ذمہ دارانہ ہے، اور یہ ان فوجیوں کی قربانیوں کی توہین ہے جو امریکی عوام کی طرف سے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے میدان میں جاں فشانی کر رہے ہیںکہ ایران کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ تم پر اور ان دوسروں کو شرم آنی چاہیے جو اسے دلدل اور ناکامی کہتے ہیں، اور پھر الٹے منہ کہتے ہیں کہ ہم جنگجو کی حمایت کرتے ہیں۔ ‘‘تاہم پیٹرز نے پلٹ کر حملہ کیا اور تنقید کا رخ براہِ راست وزیر دفاع کی طرف موڑ دیا۔انہوں نے کہا،’’جناب، آپ خود ناکام ہیں۔‘‘
𝐇𝐄𝐆𝐒𝐄𝐓𝐇 𝐓𝐎 𝐒𝐄𝐍 𝐏𝐄𝐓𝐄𝐑𝐒: “𝐘𝐎𝐔`𝐕𝐄 𝐆𝐎𝐓 𝐓𝐑𝐔𝐌𝐏 𝐃𝐄𝐑𝐀𝐍𝐆𝐄𝐌𝐄𝐍𝐓 𝐒𝐘𝐍𝐃𝐑𝐎𝐌𝐄” 𝐎𝐕𝐄𝐑 𝐈𝐑𝐀𝐍 𝐖𝐀𝐑 𝐅𝐔𝐍𝐃𝐈𝐍𝐆 𝐅𝐈𝐆𝐇𝐓
— M.A. Rothman (@MichaelARothman) July 22, 2026
Defense Secretary Pete Hegseth (@PeteHegseth) and Sen. Gary Peters (D-Mich.) went toe-to-toe at Tuesday`s Senate… pic.twitter.com/fxj5RMz3b1
بعد ازاں پیٹرز نے واضح کیا کہ ان کی تنقید پینٹاگون کی قیادت پر ہے نہ کہ بیرونِ ملک مشنوں کو انجام دینے والے فوجی اہلکاروں پر۔ ساتھ ہی پیٹرز نے اپنی آواز بلند کرتے ہوئے مزید کہا، ’’ وہ مرد اور خواتین نہیں جو اس محاذ پر ہیں، وہ فوجی مرد اور خواتین نہیں جو اپنے اعزاز کو امتیاز کے ساتھ برقرار رکھتے ہیں۔‘‘ علاوہ ازیں سینیٹر نے ہیگستھ اور انتظامیہ پر الزام لگایا کہ ان کے پاس اس تنازعے کے لیے کوئی طویل مدتی حکمت عملی نہیں ہے، اور بار بار مطالبہ کیا کہ وہ بتائیں واشنگٹن جنگ ختم کرنے کا کیا منصوبہ رکھتا ہے۔پیٹرز نے سوال کیا، ’’آپ کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں۔ آپ کے پاس اس جنگ کو حقیقت میں جیتنے کا کوئی طویل مدتی منصوبہ نہیں۔ فوجی مرد اور خواتین یہ کر سکتے ہیں، لیکن انہیں قیادت کی ضرورت ہے۔ آپ قیادت کب دکھائیں گے؟‘‘تاہم الزامات کو مسترد کرتے ہوئے، وزیر دفاع نے ڈیموکریٹس پر سیاسی حملوں میں ملوث ہونے اور امریکی فوجیوں کی مالی امداد میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے پیٹرز پر ’’ٹرمپ ڈیرینجمنٹ سنڈروم‘‘ ( ٹرمپ مخالف عارضہمیں مبتلا) ہونے کا بھی الزام لگایا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے باقاعدہ جنگ کا اعلان کردیا، حملوں میں شدت، امریکی اڈے دہل گئے
واضح رہے کہ یہ جھڑپ اس وقت ہوئی جب ہیگستھ اور جنرل ڈین کین نے پینٹاگون کی۸۷؍ اعشاریہ ۶؍ ارب ڈالر کی اضافی فنڈنگ کی درخواست کا دفاع کیا، جس کا زیادہ تر حصہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجیمہم کی معاونت کے لیے تھا۔اس تعلق سے ہیگستھ نے قانون سازوں کو بتایا کہ ایران جنگ پر امریکہ کو اب تک اندازاً۳۷؍ اعشاریہ ۵؍ ارب ڈالر لاگت آ چکی ہے، جس میں مالی سال کے اختتام تک متوقع اخراجات بھی شامل ہیں۔ مزید برآں سماعت میں دونوں جماعتوں کے قانون سازوں نے زیادہ شفافیت کا مطالبہ کیا، جبکہ کئی ڈیموکریٹس نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے اثرات سے متعلق انتظامیہ کے متضاد بیانات پر سوال اٹھائے۔