امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ موجودہ علاقائی کشیدگی کے دوران مغربی کنارے میں کسی نئے بحران کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کو مزید کسی محاذِ کشیدگی کی ضرورت نہیں۔
EPAPER
Updated: September 24, 2026, 8:03 PM IST | Washington
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ موجودہ علاقائی کشیدگی کے دوران مغربی کنارے میں کسی نئے بحران کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کو مزید کسی محاذِ کشیدگی کی ضرورت نہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کو کہا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ اس وقت دنیا کو مغربی کنارے میں کسی بحران کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران کسی نئے ’’فلیش پوائنٹ‘‘ یا محاذ آرائی کے مرکز کی گنجائش نہیں۔ روبیو نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی ذاتی رائے نہیں بلکہ صدر ٹرمپ کا واضح مؤقف ہے۔ ان کے مطابق، خطے میں پہلے ہی بہت کچھ جاری ہے، جن میں غزہ سے متعلق طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد میں مشکلات، لبنان کی نازک صورت حال، حوثیوں اور سعودی عرب سے متعلق تازہ صورتحال اور ایران کے ساتھ جاری کشیدگی و تنازع شامل ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’اس وقت اس خطے کو جس آخری چیز کی ضرورت ہے، وہ ایک اور محاذِ کشیدگی ہے اور ہمارے خیال میں اسرائیل کو بھی کسی اضافی محاذِ کشیدگی کی ضرورت نہیں۔‘‘ روبیو نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں دنیا کو مغربی کنارے میں کسی بحران کی ضرورت نہیں اور واشنگٹن نے یہ مؤقف تمام متعلقہ فریقوں تک پہنچا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نے احتجاج اور حفاظتی انتباہ کے درمیان اپنا امریکہ دورہ مختصر کیا
یمن میں حوثیوں کے حملوں اور موجودہ صورت حال کے جواب میں امریکہ اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ممکنہ اقدامات کے بارے میں سوال پر روبیو نے ممکنہ فوجی کارروائی کی تفصیلات بتانے سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کا سعودی عرب کے ساتھ ’’بہت مضبوط دفاعی معاہدہ‘‘ ہے اور واشنگٹن اس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے گا۔ روبیو نے کہا کہ امریکہ خطے میں جاری صورتحال سے خوش نہیں ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کی مشرقی-مغربی تیل پائپ لائن دوبارہ شروع کیے جانے کا خیرمقدم کیا، جسے ڈرون حملوں کے بعد بند کردیا گیا تھا۔ سعودی عرب نے ان حملوں کا الزام عراقی ملیشیاؤں پر عائد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہند-یو اے ای-فرانس نے سہ فریقی تعاون کا جائزہ لیا، اہم امور پرگفتگو
امریکی وزیر خارجہ نے ایران کی حمایت یافتہ گروپوں پر خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران مشرقِ وسطیٰ میں ایسی تنظیموں کی فعال حمایت کرتا ہے جو ان مقامات کو نشانہ بناتی ہیں۔ روبیو نے کہا، ’’جب بھی آپ لوگ مجھ سے مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو بات کسی نہ کسی ایسے فریق تک پہنچتی ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کے پاس صورت حال سے نمٹنے کے لیے ’’بہت سے آپشنز‘‘ موجود ہیں۔