امریکی وسط مدتی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کرنے کے بعد کانگریس وومن الہان عمر خوشی سے جھوم اٹھیں۔ اس بار بھی انتخابی مہم کے دوران مخالفین نےان کے خلاف خوب پروپگنڈا بھی کیا۔
EPAPER
Updated: November 06, 2026, 4:05 PM IST | Agency | Washington
امریکی وسط مدتی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کرنے کے بعد کانگریس وومن الہان عمر خوشی سے جھوم اٹھیں۔ اس بار بھی انتخابی مہم کے دوران مخالفین نےان کے خلاف خوب پروپگنڈا بھی کیا۔
امریکی وسط مدتی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کرنے کے بعد کانگریس وومن الہان عمر خوشی سے جھوم اٹھیں۔ اس بار بھی انتخابی مہم کے دوران مخالفین نےان کے خلاف خوب پروپگنڈا بھی کیا۔ اس تناظر میں الہان کے ہاؤس آف رپریزینٹیوز کے دوبارہ رکن منتخب ہونے پر صومالی خواتین کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، انہوں نے الہان سے ملاقات کی اور اس موقع پر ان کے ساتھ روایتی رقص بھی کیا۔
رپورٹ کے مطابق الہان عمر کی امریکی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کرنے کے بعد خوشی اور جشن کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں جنہیں مداحوں کی جانب سے بے حد پسند کیا جا رہا ہے۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد امریکی شہر منیاپولس میں ایک پروقار اور پرجوش تقریب کا انعقاد کیا گیا، جہاں صومالی کمیونٹی کی خواتین نے روایتی انداز میں الہان عمر کی فتح کی خوشیاں منائیں۔ تقریب کے دوران روایتی صومالی گیت گائے گئے اور شرکاء نے بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ الہان عمر نے بھی اپنی کمیونٹی کی خواتین کے ساتھ مل کر روایتی رقص میں حصہ لیا، جو ان کی ثقافتی جڑوں اور عوام کے ساتھ گہرے تعلق کی عکاسی کرتا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی ریاست مینیسوٹا کے پانچویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس الہان عمر نے کامیابی حاصل کر لی۔ الہان عمر نے ریپبلکن امیدوار جان نیگل کو شکست دے کر مسلسل پانچویں مدت کے لیے کامیابی حاصل کی ہے۔الہان عمر۲۰۱۹ء سے اس حلقے کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ صومالیہ سے پناہ گزین کی حیثیت سے امریکہ آنے والی الہان عمر طویل عرصے سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی امیگریشن مخالف تنقید کا نشانہ رہی ہیں۔
پہلی بار ایوانِ نمائندگان میں ۱۰۰؍ سے زائد ڈیموکریٹ خواتین منتخب
وسط مدتی امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی خواتین نے تاریخ رقم کردی۔پہلی بار۱۰۰؍ سے زائد ڈیموکریٹ خواتین ایوانِ نمائندگان کی رکن منتخب ہوئی ہیں، جس کے بعد امریکی کانگریس کے ایوانِ زیریں میں خواتین کی نمائندگی ایک نئے سنگ میل تک پہنچ گئی ہے۔کامیاب ہونے والی خواتین میں نیویارک سے الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز، مشی گن سے رشیدہ طلیب اور منی سوٹا سے الحان عمر بھی شامل ہیں۔ ان کی کامیابی کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر خواتین ارکان کی تعداد پہلی مرتبہ ۱۰۰؍ سے تجاوز کرگئی ہے۔وسط مدتی انتخابات میں خواتین نے گورنر کے عہدوں پر بھی اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ جارجیا سے کیشا لانس باٹمز امریکی تاریخ کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر منتخب ہوئیں۔