امریکہ نے ایران کے ساتھ مبینہ تیل اور پیٹروکیمیکل تجارت کے معاملے میں۴؍ہندوستانی کمپنیوں اور تین ہندوستانی شہریوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق جن لین دین کو نشانہ بنایا گیا ہے ان کی مجموعی مالیت تقریباً ۱۱۹؍ ملین ڈالر ہے۔
EPAPER
Updated: August 26, 2026, 6:04 PM IST | New Delhi
امریکہ نے ایران کے ساتھ مبینہ تیل اور پیٹروکیمیکل تجارت کے معاملے میں۴؍ہندوستانی کمپنیوں اور تین ہندوستانی شہریوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق جن لین دین کو نشانہ بنایا گیا ہے ان کی مجموعی مالیت تقریباً ۱۱۹؍ ملین ڈالر ہے۔
امریکہ نے ایران کے ساتھ مبینہ تیل اور پیٹروکیمیکل تجارت کے معاملے میں۴؍ہندوستانی کمپنیوں اور تین ہندوستانی شہریوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق جن لین دین کو نشانہ بنایا گیا ہے ان کی مجموعی مالیت تقریباً ۱۱۹؍ ملین ڈالر ہے۔ یہ کارروائی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی ایران کے خلاف وسیع تر اقتصادی دباؤ مہم کا حصہ ہے۔
امریکی کارروائی میں جن ہندوستانی اداروں کے نام سامنے آئے ہیں، ان میں: سد اشیو اورسیز لمیٹڈ، پی پی سافٹ ٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ، پراکروتیس انفرا امپیکس پرائیویٹ لمیٹڈ اور پورٹیس پارٹنرس ایل ایل پی شامل ہیں۔ امریکی الزام کے مطابق سداشیو اورسیز نے فروری۲۰۲۴ءسے جون ۲۰۲۵ء کے درمیان تقریباً ۶۹؍ملین ڈالر مالیت کی ایرانی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں۔پی پی سافٹ ٹیک اور پراکروتیس انفر امپیکس پر تقریباً ۲۵۔۲۵؍ ملین ڈالر کی ایرانی نژاد پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے کا الزام ہے۔
امریکی حکام کے مطابق پورٹیس پارٹنرس ایل ایل پی نے ایران سے ہندوستان آنے والی متعدد پیٹروکیمیکل مصنوعات کی کھیپوں کو سہولت فراہم کی۔ اس کے علاوہ تین ہندوستانی شہریوں کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جن میں پی پی سافٹ ٹیک کے ڈائریکٹر پرشانت گرگ اورپورٹیس پارٹنرس سے منسلک اشرف میاں شیخ اور ہریش رام چندر رنگی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:عید میلاد پر ہر طرف خوشیاں، چراغاں، پرچم اورجلوس
امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی توانائی کی آمدنی کو محدود کرنے اور تہران سے وابستہ عالمی مالیاتی و تجارتی نیٹ ورکس کو کمزور کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ یہ پابندیاں امریکی انتظامیہ کی آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ نامی وسیع مہم کے تحت سامنے آئی ہیں۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے مالیاتی روابط اور آمدنی کے ذرائع پر دباؤ بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ تازہ کارروائی میں ہندوستانی اداروں کے علاوہ چین اور ہانگ کانگ سے وابستہ متعدد اداروں، افراد اور بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی پابندیوں کے نتیجے میں متعلقہ اداروں کے امریکی مالیاتی نظام اور امریکی افراد و کمپنیوں کے ساتھ لین دین پر سخت پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی بینک اور کاروباری ادارے بھی ایسی کمپنیوں کے ساتھ معاملات کرنے میں زیادہ محتاط ہو سکتے ہیں۔ یہ صورتحال ہندوستانی کمپنیوں کے لیے ایران کے ساتھ تجارت میں ادائیگی، شپنگ، انشورنس اور بین الاقوامی بینکاری کے مسائل بڑھا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:پہلی فلم کی کامیابی کے باوجود وجیتا پنڈت زیادہ مشہور نہیں
امریکی پابندیوں کا اعلان ایسے وقت ہوا ہے جب ہندوستان اور ایران کے درمیان تجارت پہلے ہی کئی مشکلات سے دوچار ہے۔ روئٹرز کے مطابق ۱۹۔۲۰۱۸ء میں دونوں ممالک کی دوطرفہ تجارت تقریباً ۱۷؍ ارب ڈالرس تھی، جو اس کے بعد ۹۰؍ فیصد سے زیادہ کم ہو چکی ہے۔ ۲۰۲۶ء کے پہلے نصف میں ہندوستان نے ایران سے تقریباً ۷۰۷؍ ملین ڈالر کا تیل درآمد کیا تھا۔ ہندوستانی برآمد کنندگان بھی ایران کے ساتھ تجارت میں ادائیگی اور شپنگ کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، خاص طور پر دبئی کے ذریعے ہونے والی تجارت میں رکاوٹوں کے باعث۔