Updated: September 07, 2026, 6:00 PM IST
| New York
امریکہ۔ کنیڈا کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی اور تجارتی کشیدگی نے سیاحت کے شعبے کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ امریکی سیاحتی ادارے کنیڈا سے آنے والے سیاحوں کو دوبارہ امریکہ کی جانب راغب کرنے کے لیے خصوصی رعایتوں، تشہیری مہمات اور سفری پروگراموں کا سہارا لے رہے ہیں۔
کنیڈا اور امریکہ۔ تصویر:آئی این این
امریکہ۔ کنیڈا کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی اور تجارتی کشیدگی نے سیاحت کے شعبے کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ امریکی سیاحتی ادارے کنیڈا سے آنے والے سیاحوں کو دوبارہ امریکہ کی جانب راغب کرنے کے لیے خصوصی رعایتوں، تشہیری مہمات اور سفری پروگراموں کا سہارا لے رہے ہیں۔
امریکہ۔ کنیڈا کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی اور تجارتی کشیدگی نے سیاحت کے شعبے کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ امریکی سیاحتی ادارے کنیڈا سے آنے والے سیاحوں کو دوبارہ امریکہ کی جانب راغب کرنے کے لیے خصوصی رعایتوں، تشہیری مہمات اور سفری پروگراموں کا سہارا لے رہے ہیں، لیکن متعدد کینیڈین شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں صرف ڈسکاؤنٹ اور تشہیر انہیں امریکہ واپس آنے پر آمادہ نہیں کرسکتی۔
کنیڈا روایتی طور پر امریکہ کے لیے بیرونِ ملک سے آنے والے رات گزارنے والے سیاحوں کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے، تاہم صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران دونوں ملکوں کے تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے کینیڈین سیاحت کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۵ء میں کینیڈین شہریوں کی امریکہ سے واپسی کے لیے سرحدی آمدورفت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ۲۵؍ فیصد کمی ہوئی، جبکہ امریکہ میں سیاحت پر کینیڈین شہریوں کے اخراجات تقریباً ۴ء۲؍ ارب امریکی ڈالر کم ہوگئے۔
یہ بھی پڑھئے:آج سےمختلف مراکز پر الیکٹرانک میٹر اپ ڈیٹ کرانے کی سہولت
ماہرین کے مطابق اس کمی کی کئی وجوہات ہیں، جن میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تنازع، کینیڈین ڈالر کی کمزور قدر، امریکہ میں فضائی سفر اور ہوٹلوں کے بڑھتے اخراجات اور سب سے بڑھ کر سیاسی ماحول شامل ہے۔کنیڈا کے شہریوں میں یہ تاثر بھی مضبوط ہوا ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں کے باعث امریکہ کا سفر پہلے جیسا خوشگوار یا قابلِ اعتماد تجربہ نہیں رہا۔ کینیڈین سیاحت میں کمی کا ایک اہم سبب صدر ٹرمپ کے وہ بیانات بھی قرار دیے جاتے ہیں جن میں انہوں نے کنیڈا کو امریکہ کی ۵۱؍ویں ریاست بنانے کی بات کی تھی۔
اس بیان کے بعد متعدد کینیڈین شہریوں نے امریکا کے سفر سے گریز کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تنازع اور محصولات کے معاملے نے اس ناراضی کو مزید گہرا کردیا۔ حالیہ عرصے میں تجارتی مذاکرات میں بھی کشیدگی بڑھی ہے۔ امریکی حکومت کی جانب سے بعض کینیڈین مصنوعات پر ۵۰؍ فیصد تک درآمدی ٹیکس عائد کیے جانے کے بعد کنیڈا نے بھی جوابی اقدامات کیے۔ اسی دوران ٹرمپ کی جانب سے سرحد پار واقع لیک اونٹاریو کا نام’’لیک امریکہ ‘‘ رکھنے کے حکم نے بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں تلخی کو نمایاں کیا۔
سیاحت میں کمی کے بعد امریکی ریاستیں اور شہر کینیڈین سیاحوں کو واپس لانے کے لیے مختلف مہمات چلا رہے ہیں۔نیویارک ریاست نے اس موسم گرما میں ’’این وائی لووز کنیڈا‘‘ مہم شروع کی، جس کے تحت کینیڈین سیاحوں کو ہوٹلوں، ریستورانوں اور مختلف تفریحی مقامات پر رعایتیں پیش کی جا رہی ہیں۔ اسی طرح لاس ویگاس کے بعض ہوٹلوں نے کینیڈین ڈالر کی قدر کو امریکی ڈالر کے برابر تسلیم کرتے ہوئے کینیڈین سیاحوں کے لیے اضافی مالی فائدہ فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ لاس ویگاس کے سیاحتی حکام نے کنیڈا کا دورہ کرکے ٹریول ایڈوائزرز، ٹور آپریٹرز اور ایئرلائن نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔
امریکی سیاحت کی مارکیٹنگ تنظیم برانڈ امریکہ بھی اکتوبر میں پہلی مرتبہ کینیڈا میں اپنی ٹراویل ویک تجارتی تقریب منعقد کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، جس کا مقصد کینیڈین ٹریول انڈسٹری کے ساتھ روابط مضبوط کرنا ہے۔ مریکی سیاحتی اداروں کی ان کوششوں کے باوجود کئی کینیڈین شہریوں کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف سفر کے اخراجات یا رعایتوں کا نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والے سیاسی ماحول کا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:یش جوہرکے پروڈکشن ہائوس ’دھرما پروڈکشن‘ نے کئی شاندار فلمیں دی ہیں
وینکوور سے تعلق رکھنے والے مارکیٹنگ ایگزیکٹیو جوش لووین نے کہا کہ وہ امریکی سیاحتی اداروں کی کوششوں کو سمجھتے ہیں، لیکن موجودہ صورتحال میں کینیڈین شہریوں کو امریکہ واپس لانا انتہائی مشکل ہے۔ ان کے مطابق یہ کوشش اس وقت ’’بے کار‘‘ محسوس ہوتی ہے۔ لووین نے بتایا کہ ان کا خاندان ماضی میں سان ڈیاگو، پورٹ لینڈ اور سیئٹل جیسے امریکی شہروں کا باقاعدگی سے سفر کرتا تھا، لیکن رواں سال انہوں نے امریکہ کے بجائے میکسیکو جانے کا فیصلہ کیا۔
ان کے مطابق مسئلہ یہ نہیں کہ امریکہ اچھی چھٹی گزارنے کے لیے مناسب جگہ نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ موجودہ سیاسی کشیدگی کے دوران کینیڈین شہری اپنا پیسہ امریکہ میں خرچ کرنا چاہتے بھی ہیں یا نہیں۔ کیلگری سے تعلق رکھنے والی ایلین مارچ نے بھی امریکہ کا سفر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ کے کنیڈا کو ۵۱؍ویں ریاست بنانے سے متعلق بیانات، تجارتی پالیسیاں اور امریکہ میں خود کو غیر محفوظ یا غیر خوش آمدید محسوس کرنے کا احساس ان کے فیصلے کی اہم وجوہات ہیں۔ انہوں نے حالیہ محصولات کے اعلان کے بعد امریکہ کا سفر نہ کرنے کے اپنے فیصلے کو مزید مضبوط قرار دیا اور یہاں تک کہا کہ وہ ایسے فضائی سفر سے بھی گریز کرتی ہیں جس میں امریکہ میں صرف ٹرانزٹ ہو۔