Updated: September 07, 2026, 7:05 PM IST
| Mumbai
ایئر انڈیا ایکسپریس کی کوچی سے ابوظہبی جانے والی ایک پرواز میں دورانِ پرواز انجن سے متعلق تکنیکی خرابی کا اشارہ ملنے کے بعد طیارے کو احتیاطاً واپس کوچی ایئرپورٹ لایا گیا۔ ایئرلائن کے مطابق طیارے کے عملے نے طے شدہ حفاظتی پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے واپسی کا فیصلہ کیا۔
ایئرانڈیا کا طیارہ۔ تصویر:آئی این این
ایئر انڈیا ایکسپریس کی کوچی سے ابوظہبی جانے والی ایک پرواز میں دورانِ پرواز انجن سے متعلق تکنیکی خرابی کا اشارہ ملنے کے بعد طیارے کو احتیاطاً واپس کوچی ایئرپورٹ لایا گیا۔ ایئرلائن کے مطابق طیارے کے عملے نے طے شدہ حفاظتی پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے واپسی کا فیصلہ کیا۔ واقعہ میں کسی مسافر یا عملے کے رکن کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اطلاعات کے مطابق بوئنگ ۷۳۷؍طیارہ، جس کی پرواز نمبر آئی ایکس ۴۱۵؍ تھی، کوچی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ابوظہبی کے لیے روانہ ہوا تھا۔ پرواز کے تقریباً ۵۰؍ منٹ بعد جب طیارہ تقریباً ۳۶؍ ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا، عملے نے انجن نمبر ایک میں آئل کی مقدار میں تیزی سے کمی محسوس کی۔
یہ بھی پڑھئے:تنقیدوں کے باوجود لبوشین آسٹریلیا کے دورۂ جنوبی افریقہ کے لیے ٹیسٹ ٹیم میں برقرار
ایئر انڈیا ایکسپریس کے ترجمان نے بتایا کہ تقریباً ایک ہفتہ قبل کوچی سے ابوظہبی جانے والی ان کی ایک پرواز کو طے شدہ حفاظتی طریقہ کار کے تحت واپس لایا گیا تھا۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ کسی واقعہ کو اس کے مکمل پس منظر اور وقت کے حوالے کے بغیر پیش کرنے سے مسافروں اور عام لوگوں میں غیر ضروری تشویش پیدا ہوسکتی ہے۔
صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے طیارے کے پائلٹس نے FORDEC یعنی Facts, Options, Risks and Benefits, Decision, Execution and Check کے تحت فیصلہ سازی کا عمل اختیار کیا۔ یہ ہوا بازی کے شعبے میں ہنگامی یا غیر معمولی صورتحال کے دوران پائلٹس کو منظم انداز میں فیصلہ کرنے میں مدد دینے والا ایک اہم طریقہ ہے۔انجن آئل کی مقدار میں مسلسل کمی کو دیکھتے ہوئے عملے نے خطرہ مول لینے کے بجائے طیارے کو واپس کوچی لے جانے کا فیصلہ کیا۔ بتایا گیا ہے کہ طیارے کے کمانڈر نے ممبئی ریڈیو کے ذریعے ایئر ٹریفک کنٹرول کو صورتحال سے آگاہ کیا اور اس کے بعد طیارے نے کوچی کی جانب واپسی شروع کردی۔ واپسی کے دوران عملہ انجن کے مختلف پیرامیٹرز کی مسلسل نگرانی کرتا رہا اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہا۔
ذرائع کے مطابق طیارے کو واپس لانے کا فیصلہ کیے جانے کے تقریباً ۴۵؍منٹ بعد انجن نمبر ایک کا آئل پریشر غیر مستحکم ہونے لگا۔ کاک پٹ میں آئل پریشر کی وارننگ ریڈ زون تک پہنچ گئی، جسے دباؤ میں سنگین کمی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس صورتحال کے باوجود پائلٹس نے طیارے کو قابو میں رکھا اور حفاظتی طریقہ کار کے مطابق پرواز جاری رکھتے ہوئے اسے بحفاظت کوچی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتارنے میں کامیاب رہے۔ ایئر انڈیا ایکسپریس نے بتایا کہ طیارہ بحفاظت کوچی ایئرپورٹ پر اتر گیا اور اس واقعہ میں کسی بھی مسافر یا عملے کے رکن کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ بعد ازاں مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچانے کے لیے متبادل طیارے کا انتظام کیا گیا اور انہیں ابوظہبی روانہ کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:کارتک آرین کی ’کیپٹن انڈیا‘ نے پانچ سالہ تاخیر کے بعد آخرکار پرواز شروع کی
ایئرلائن نے ایک بار پھر واضح کیا کہ مسافروں کی حفاظت اس کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی تکنیکی اشارے یا ممکنہ خطرے کی صورت میں طے شدہ حفاظتی معیار اور پروٹوکول پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ حالیہ مہینوں میں ایئر انڈیا ایکسپریس کی بعض دیگر پروازیں بھی حفاظتی وجوہات کی بنا پر خبروں میں رہی ہیں۔ اگست میں دمام سے دہلی جانے والی ایک پرواز کو طیارے کے واش روم میں بم کی دھمکی سے متعلق پیغام ملنے کے بعد احمد آباد کی جانب موڑ دیا گیا تھا۔ اس واقعہ میں بھی تمام مسافر محفوظ رہے تھے اور ضروری حفاظتی جانچ مکمل کی گئی تھی۔