میٹر لگانے کیلئے گاڑی مالکان کو۷؍ سو روپے ادا کرنے ہوں گے،جن ٹیکسی اور آٹو رکشا مالکان نے میٹر اپ ڈیٹ نہیں کیا ہے وہ اضافی کرایہ وصول نہیں کرسکتے۔
EPAPER
Updated: September 07, 2026, 1:34 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai
میٹر لگانے کیلئے گاڑی مالکان کو۷؍ سو روپے ادا کرنے ہوں گے،جن ٹیکسی اور آٹو رکشا مالکان نے میٹر اپ ڈیٹ نہیں کیا ہے وہ اضافی کرایہ وصول نہیں کرسکتے۔
ممبئی اورمضافات میںآٹو رکشا اور کالی پیلی ٹیکسی کرایہ میں یکم ستمبر سے اضافہ ہوچکا ہے لیکن جن ٹیکسی اور آٹو رکشا مالکان نے میٹر اپ ڈیٹ نہیں کیا ہے وہ اضافی کرایہ وصول نہیں کرسکتے۔تاہم ریاستی محکمہ ٹرانسپورٹ نے آج (پیر سے) شہر و مضافات اور اطراف میں مختلف مراکز پر میٹر اپ ڈیٹ کرانے کی سہولت فراہم کردی ہے۔ وہیں اب بھی آٹو اور ٹیکسی یونینس ٹرانسپورٹ محکمہ کے فیصلہ سے مطمئن نہیں ہیں ۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ سی این جی گیس کی قیمت میں بھی دو روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے جس سے ڈرائیوروں اور مالکان کو فائدہ نہیں بلکہ مزید مالی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھئے:ہندوستان میں یوٹیوب اور سوشل میڈیا سے آمدنی میں تیز رفتاراضافہ
جہاں ایک طرف محکمہ ٹرانسپورٹ نے میٹر اپ ڈیٹ کرانے کے عمل میں فی گاڑی۷۰۰؍ روپے فیس طے کی ہے ، وہیں دوسری طرف یونینس نے نہ تو کرایہ میں اضافہ پر اتفاق کیا ہے اور نہ میٹر اپ ڈیٹ کرنے کے تعلق سے دی گئی تاریخ پر اطمینان ظاہر کیا ہے ۔ یونینس کے بقول حکومت نے ایک طرف کرایہ میں اضافہ کا لالی پاپ دے کر بیوقوف بنانے کی کوشش کی ہے ۔ وہیں دوسری طرف سی این جی گیس کی قیمت میں اضافہ کرکے مزید مالی بوجھ ڈال دیا ہے ۔ اس کے علاوہ لاکھوں گاڑیوں کے میٹر اپ ڈیٹ کرنے کے لئے دی گئی مہلت ناکافی ہے ۔ واضح رہے کہ آٹو اور ٹیکسی ڈرائیور و مالکان کو۳۰؍ نومبر تک میٹر اپ ڈیٹ کرنے کی مہلت دی ہے۔ ساتھ ہی ایک ماہ میں میٹر اپ ڈیٹ نہ کرنے کی صورت میں جرمانہ عائد کرنے کی وارننگ بھی دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:انڈونیشیا: آتش فشاں کی راکھ سے۵؍ ہوائی اڈے متاثر آپریشن معطل، سیکڑوں پروازیں منسوخ
یہی نہیں ریاستی محکمہ ٹرانسپورٹ نے میٹر اپ ڈیٹ نہ کرنے والے ڈرائیوروں کو اضافی کرایہ سے محروم رکھا ۔ سی این جی گیس کرایہ میں اضافہ اور میٹر اپ ڈیٹ کرنے تعلق سے آٹو اور ٹیکسی یونین کے سربراہ تھمپی کورین نے محکمہ ٹرانسپورٹ کے فیصلہ پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ’’ سب سے اہم اور قابل اعتراض بات یہ ہے کہ کرایہ بڑھنے سے رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں اور مالکان کو کرایہ میں اضافہ سے کوئی فائدہ نہیں ہورہا بلکہ نقصان اٹھانا پڑے گا کیونکہ رکشا کا کرایہ ایک روپے بڑھایا گیا ہے اور ٹیکسی کا دو روپے ۔ سی این جی گیس کے کرایہ میں فی کلو دو روپے کا اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ جب کوئی آٹو رکشا یا ٹیکسی ری کیلیبریشن مرکز پر جائے گا تو میٹر اپ ڈیٹ کرنے کا عمل مکمل ہونے میں دو سے تین دن لگیں گے ، اس لئے ایک ماہ کی جو مہلت دی گئی ہے اس میں لاکھوں گاڑیوں کا میٹر اپ ڈیٹ کرنا ناممکن ہے۔ اس تعلق سے محکمہ ٹرانسپورٹ کو اس سنگین مسئلہ پر دوبارہ غور کرنا چاہئے۔‘‘ محکمہ ٹرانسپورٹ نے میٹر بنانے والی کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ میٹر اپ ڈیٹ کرنے کے پروگرام کے لئے یکساں فیس وصول کریں اور ڈرائیوروں کو جی ایس ٹی کےساتھ رسیدیں جاری کریں۔ واضح رہے کہ آٹو رکشا کا ڈیڑھ کلو میٹر کا کرایہ۲۶؍ روپے سے بڑھا کر۲۷؍ روپے کر دیا گیا ہے جبکہ ٹیکسی کا کم از کم کرایہ۳۱؍ روپے سے بڑھا کر۳۳؍ روپے کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’گنپتی کے موقع پرریاست میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کی جاسکتی ہے‘‘
سخت قواعد مقرر
محکمہ ٹرانسپورٹ نے ری کیلیبریشن مراکز کے دائرۂ اختیار سے متعلق بھی سخت قواعد مقرر کئے ہیں۔ ایسے مراکز اپنے دائرۂ اختیار سے باہر چلنے والی گاڑیوں کو سرٹیفکیٹ جاری نہیں کر سکیں گے جبکہ آر ٹی اوز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے دائرۂ اختیار سے باہر واقع مراکز کے جاری کردہ سرٹیفکیٹس قبول نہ کریں۔