ایران پر امریکی حملے کے بعد ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکہ کو سخت پیغام دیا ہے، انہوں نے کہا کہ اب دھمکی ، دھونس اور ہفتہ خوری کا دور ختم ہوچکا ہے، ان حملوں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا، ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
EPAPER
Updated: July 08, 2026, 9:04 PM IST | Tehran
ایران پر امریکی حملے کے بعد ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکہ کو سخت پیغام دیا ہے، انہوں نے کہا کہ اب دھمکی ، دھونس اور ہفتہ خوری کا دور ختم ہوچکا ہے، ان حملوں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا، ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
مغربی ایشیا میں کشیدگی میں اضافے کے درمیان، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے واشنگٹن کے خلاف سخت بیانیہ جاری کیا۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شائع ہونے والے ایک بیان میں قالیباف نے امریکہ پر ’’اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو)‘‘کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا، جو علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک نازک جنگ بندی معاہدہ ہے۔قالیباف کا یہ بیان ہ وسیع امریکی فوجی کارروائی کے فوری بعد سامنے آیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی کہ اس نے ایران کے اندر۸۰؍ سے زائد اہداف بشمول فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈاراور اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی درجنوں چھوٹی کشتیوں کے خلاف فضائی حملے کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یا تو ایران کےساتھ معاہدہ ہوگا، یا اپنا کام مکمل کریں گے ، ٹرمپ کی پھردھمکی
بعد ازاں پینٹاگون نے ان کارروائیوں کو حالیہ ایرانی حملوں کا فوری جواب قرار دیا جو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز وں پر کیے گئے تھے۔اپنی پوسٹ میں قالیباف نے پانچ مخصوص شکایات کا ذکر کیا، جن میں ’’جنوبی ایران پر حملے‘‘، ’’مزید حملوں کے مستقل خطرات‘‘، تیل پر پابندیوں کی بحالی، اور آبنائے میں ایرانی بحری کارروائیوں میں امریکی مداخلت شامل ہیں۔ انہوں نے ایم او یو کی ناکامی کو وسیع تر جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں سے بھی جوڑا اور لبنان کے خلاف ’’جاری صہیونی جارحیت‘‘ کو بنیادی خلاف ورزی قرار دیا۔تاہم، قالیباف کے پیغام کا مرکزی نکتہ اس کے اختتامی، جرأت مندانہ لہجے میں تھا، انہوں نے لکھا، ’’دھونس اور بھتہ خوری کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اس سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ ہم کبھی نہیں جھکیں گے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کے ایران پر ایک بار پھر فضائی حملے شروع
مزید برآں یہ مزاحمتی موقف بڑھتے ہوئے سفارتی تعطل کی عکاسی کرتا ہے۔ جہاں واشنگٹن اپنی کارروائیوں کو اہم بین الاقوامی تجارت کے تحفظ اور بحری جارحیت کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات قرار دیتا ہے، وہیں تہران ان حملوں اور نئی اقتصادی پابندیوں کو باہمی مفاہمت کا اختتام سمجھتا ہے۔ایسے وقت میں جب دونوں ممالک فوجی کارروائی اور سفارتی الزام تراشیوں کا تبادلہ کر رہے ہیں، قالیباف کے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کا پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں، جس سے نازک سفارتی کوششوں کی بقا پر سنگینخطرات پیدا ہو گئے ہیں۔