Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ کا ہندوستانی پولیس افسر پر لاس اینجلس کے خاندان سے ہفتہ وصولی کا الزام

Updated: July 08, 2026, 8:07 PM IST | Washington

امریکہ نے ہندوستانی پولیس افسر کے خلاف لاس اینجلس میں مقیم خاندان سے ہفتہ وصولی کا الزام عائد کیا ہے، الزام ہے کہ پولیس افسر نے متاثرہ خاندان کے خلاف ہندوستانمیں قتل کے مقدمات درج کرنے کی دھمکی دی، یہاں تک کہ متاثرہ خاندان نے رقم ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

US Police Department. Photo: X
امریکی محکمہ پولیس۔ تصویر: ایکس

امریکی حکام نے منگل کو ہندوستانی پولیس افسر گردیپ جیت سنگھ پر الزام عائد کیا کہ اس نے  ہندوستان میں ان کے رشتہ داروں کے خلاف جھوٹے قتل کے مقدمات درج کرنے کی دھمکی دے کر لاس اینجلس میں ایک خاندان سے۴؍ لاکھ ڈالر کی ہفتہ وصولی کی۔ فرسٹ اسسٹنٹ یو ایس اٹارنی بل ایسلی نے پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ پولیس افسر نے متاثرہ خاندان کے خلاف ہندوستان میں قتل کے مقدمات درج کیے یہاں تک کہ متاثریننے رقم ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ ایسلی نے کہا کہ وہ پولیس افسر جلد ہی حراست میں ہوگا، اور امریکہ ہندوستان سے اس کی حوالگی طلب کرے گا۔ اگرچہ امریکی حکام نے گرلندرجیت سنگھ کو پولیس چیف قرار دیا، مگر یہ واضح نہیں کہ وہ کہاں تعینات تھے۔ اطلاعات کے مطابق وہ پنجاب میں اسٹیشن ہاؤس آفیسر ہیں۔وفاقی فردِ جرم میں الزام ہے کہ انہوں نے جگو بھگوان پوریہ کی قیادت میں منظم جرائم کے گروپ کے اراکین کے ساتھ ملی بھگت کی تاکہ جھوٹے مقدمات کے ذریعے حریفوں کو نشانہ بنایاجاسکے۔ 

یہ بھی پڑھئے: آئرلینڈ: مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی کا بل منظور

فردِ جرم کے مطابق، اپریل میں بھگوان پوریہ گروہ کے ایک کیلیفورنیا میں مقیم رکن گرلال سنگھ نے امریکہ میں ایک شکار کو دھمکایا اور پھر اس شخص کی تفصیلات پنجاب میں ایک بدعنوان قانون نافذ کرنے والے افسرکو فراہم کیں۔ گرلندرجیت سنگھ نے اس شکار اور اس کے والد اور بہن کو جنوری میں پنجاب میں ایک شخص کے قتل کے مقدمے میں ملوث کیا۔امریکی اٹارنی کے دفتر کے مطابق، گرلندرجیت سنگھ ان۳۷؍ مدعا علیہان میں شامل ہیں جن پر منگل کو کھلی تین فردِ جرم میں منظم جرائم کا الزام ہے۔ ان الزامات میں شامل لوگوں میں گینگسٹر لارنس بشنوئی اور گولڈی برار شامل ہیں جن پر منظم جرائم اورکنیڈا میں۲۰۲۳ء میں خالصتان علاحدگی پسند لیڈرہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا حکم دینے کا الزام ہے۔ واضح رہے کہ بشنوئی گجرات کی جیل میں متعدد مقدمات کی سماعت کا انتظار کر رہاہے جبکہ برار، جس کا اصلی نام ستندر جیت سنگھ ہے، فرار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج خوف کی کیفیت کے درمیان ’’ اخلاقی پستی ‘‘کا شکار: ریزروافسر

 بعد ازاںایف بی آئی نے برار کی گرفتاری میں معلومات فراہم کرنے پر۵۰؍ ہزار ڈالر تک کا انعام رکھا ہے۔ برار ہندوستان میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت ایک نامزد دہشت گرد ہے۔وفاقی حکام نے بتایا کہ امریکہ میں الزامات میں دو افراد شامل ہیں، جنہوں نے ہندوستان میں قید رہتے ہوئے اپنے عالمی مجرمانہ گروہ چلائے۔ حکام نے بتایا کہ امریکہ،کنیڈا اور یورپ کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے ہندوستان میں قائم تین منظم مجرمانہ گروہوں سے منسلک۲۴؍ افراد کو گرفتار کیا، جن میں۱۱؍ کیلیفورنیا، ایک انڈیانا اور ایک جارجیا میں گرفتار ہوا۔ امریکہ کے علاوہ کنیڈا میں تین اور اسپین میں ایک ملزم گرفتار ہوا جبکہ سات پہلے سے حراست میں تھے۔

یہ بھی پڑھئے: یا تو ایران کےساتھ معاہدہ ہوگا، یا اپنا کام مکمل کریں گے ، ٹرمپ کی پھردھمکی

مزید برآں ایجنسیاں۱۰؍ مفروروں کی تلاش کر رہی ہیں جن میں سات امریکہ، دو ہندوستان اور ایک یورپ میں ہیں۔ ان افراد پر متعدد مجرمانہ کارروائیوں کے الزامات ہیں۔اٹارنی کے دفتر کے مطابق، منگل کی گرفتاریاں جن کا کوڈ نام ’’آپریشن ہارڈ بال‘‘ ہے، ہندوستانی جرائم کے سنڈیکیٹس کی کئی سالہ وفاقی تحقیقات کے بعد ہوئیں۔ ان گروہوں پر ریکیٹیئرنگ، ٹارگٹ کلنگ، فائرنگ، بھتہ خوری اور منشیات کی اسمگلنگ سمیت دیگر جرائم کا الزام ہے،جن کا اثر خاص طور پر ہندوستانی تارکین وطن میں محسوس ہوتا ہے۔ تحقیقات کے دوران ایجنسیوں نے تقریباًایک ہزار کلو کوکین،ایک کلو ہیروئن، ۴۰؍ ہزار ڈالر نقدی اور درجن بھر آتشیں اسلحہ ضبط کیا۔کنیڈا میں ہندوستانی ہائی کمشنر دینیش پٹنائیک نے ان الزامات اور گرفتاریوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی طویل عرصے سے شمالی امریکہ کے ممالک سے ان بین الاقوامی گروہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایک طویل عرصے سے ہندوستان میں یہ احساس تھا کہ شمالی امریکہ کے ممالک نظرانداز کر رہے ہیں، لیکن اب کارروائی خوش آئند ہے۔ جب بشنوئی اور دیگر کی امریکہ حوالگی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے رسمی درخواست موصول ہونے پر ہندوستانی عدالتیں فیصلہ کریں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK