Updated: March 28, 2026, 9:05 PM IST
| Moscow
ایران جنگ کے دوران سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں پیش رفت کی اطلاعات ہیں، جبکہ جے ڈی وینس مذاکراتی کوششوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی دوران روس اور ایران کے وزرائے خارجہ نے بھی خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی محاذ پر سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔
(۱) جے ڈی وینس ایران کے ساتھ ممکنہ ڈیل میں پیش پیش
امریکہ اور ایران کے درمیان عدم اعتماد کے باوجود امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو تہران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات میں کلیدی کردار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق وینس پس پردہ رابطوں میں سرگرم ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب براہ راست مذاکرات ابھی تک شروع نہیں ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ ایک ایسا راستہ تلاش کر رہا ہے جس سے کشیدگی کم کی جا سکے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن سفارتی حل کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کر رہا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج نڈھال تو ایرانی فوج پُرجوش
(۲) وٹکوف کا بیان، ’’ایران سے بات چیت اس ہفتے ہوگی‘‘
امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت ’’اسی ہفتے‘‘ متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم رابطے میں ہیں اور پیش رفت ہو رہی ہے۔‘‘ ذرائع کے مطابق یہ بات چیت براہ راست نہیں بلکہ ثالثی کے ذریعے ہو سکتی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگی کارروائیاں جاری ہیں لیکن سفارتی راستہ بھی کھلا رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اردگان کی نیتن یاہو حکومت پر سخت تنقید، خطے میں جنگ کا خدشہ
(۳) روس اور ایران کے وزرائے خارجہ کا رابطہ، بحران پر تبادلہ خیال
روس اور ایران کے وزرائے خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں جاری بحران پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ بیان کے مطابق دونوں ممالک نے موجودہ صورتحال کو ’’سنگین فوجی اور سیاسی بحران‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ روس بھی سفارتی سطح پر فعال کردار ادا کر رہا ہے۔