Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ ایران جنگ چینی برقی ٹرکوں کی فروخت میں اضافے کا باعث بن گئی

Updated: August 14, 2026, 5:07 PM IST | Beijing

چینی برقی ٹرکوں کی دوسرےایشیائی ممالک کو برآمدات میں تیزی آ گئی ہے، جو اندرونِ ملک فروخت میں اضافے کے ساتھ مل کر اس خطے کی برقی کاری کو تیز کر رہی ہیں، اس کی ایک وجہ امریکہ کی ایران مخالف جنگ کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔

Electric Vehicle.Photo:INN
الیکٹرک گاڑی۔ تصویر:آئی این این

چینی برقی ٹرکوں کی دوسرےایشیائی ممالک کو برآمدات میں تیزی آ گئی ہے، جو اندرونِ ملک فروخت میں اضافے کے ساتھ مل کر اس خطے کی برقی کاری کو تیز کر رہی ہیں، اس کی ایک وجہ امریکہ کی ایران مخالف  جنگ کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے:کیا آپ جانتے ہیں؟ ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کو ریلیز ہونے والی پہلی فلم کون سی تھی؟

لائٹ ویٹ گاڑیوں سے لے کر ٹریکٹر ٹریلروں تک چین کی تیز رفتار برقی ٹرکوں کے رحجان نے دنیا کی سب سے بڑی آٹو مارکیٹ کو اس تنازع کے اثرات سے جزوی طور پر محفوظ رکھا ہے۔ اب دوسرے ممالک بھی تیزی سے اس  کو اپنانے کے درپے  ہیں۔۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران مخالف  جنگ شروع کرنے کے چار ماہ بعد، چین کے بڑے  برقی ٹرکوں کی برآمدات گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں دُ گنا سے بھی بڑھ کر۱۶۸۲۳؍ گاڑیوں تک پہنچ گئیں۔ان کی نصف  برآمدات جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا کو گئیں۔منڈیوں نے چین کے برقی ٹرکوں کے لیے دروازے کھول دیئے۔جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ پر تیل پر انحصار کرتے ہیں اور خلیجِ ہرمز کی بندش نے ڈیزل کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ کیا ہے، جس نے دنیا کے سب سے بڑے برقی ٹرک ساز چین کے لیے ایک موقع پیدا کیا ہے۔ گلوبل پیٹرول پرائز ڈاٹ کام  کے مطابق جنگ کے آغاز سے سری لنکا میں ڈیزل قیمتیں ۴۸؍ فیصد بڑھ چکی ہیں اور فلپائن میں ۵۷؍ فیصد، جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین میں یہ  اضافہ ۱۵؍ فیصد تک  ہے۔
سنی کے  انٹر نیشنل مارکیٹنگ کے نائب صدر ژاؤتِنگ یو نے رائٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا’’جنگ نے ان نئی منڈیوں کے  دروازے کھول دیے ہیں۔سنی دنیا کا سب سے بڑا بھاری برقی ٹرک بنانے والی فرم ہے۔ برآمدات نسبتاً  کم سطح پر رہتی ہیں اور چین کی کاروں اور موٹر سائیکلوں کی برآمدات کے مقابلے میں معمولی سطح کی  ہیں، جبکہ خطے کے ٹرکوں کے بیڑے لاکھوں میں ہیں۔ لیکن اگر یہ نمو برقرار رہی اور چین میں برقی ٹرکوں کی پیش رفت اسی طرز پر چلتی رہی تو یہ ڈیزل کے استعمال اور کاربن اخراج میں نمایاں فرق ڈال سکتی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:ایکواڈور: فٹبالر ہالینڈ کی تصویر والے ۴۶۹؍ کوکین کے پیکٹ ضبط، خاتون گرفتار

چین میں برقی ٹرک ۲۰۲۱ء میں تقریباً صفر سے بڑھ کر  گزشتہ سال ٹرکوں کی فروخت کا  ۳۰؍فیصد بن گئے اور امسال کی پہلی ششماہی میں۱۴۰۰۰۰؍ برقی ٹرک فروخت ہوئے۔ چین میں ڈیزل کے استعمال میں کمی پچھلے سال شروع ہوئی تھی۔ یو نے کہا کہ سنی پہلے یورپ پر مرکوز تھا لیکن اب وہ جنوب مشرقی ایشیا کی طرف مڑ رہا ہے اور سستے ماڈل تیار کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جون میں کمپنی نے اپنی اب تک کی سب سے بڑی واحد شپمنٹ، ۸۸۰؍ بھاری ٹرک روانہ کیے، اور کہا کہ وہ کنٹریکٹ نجی ہونے کی وجہ سے مقام ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
یو نے کہا’’تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پہلے، ان ممالک میں خریداروں کو ایک برقی بھاری ٹرک میں اپنی سرمایہ کاری کی  وصولی میں شاید ۲۸؍ ماہ لگتے، اب، صرف ۱۸؍ ماہ لگتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ سنی کو توقع ہے کہ یہ جنگ خاص طور پر ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں کم از کم اگلے سال تک تیز نمو کو برقرار رکھے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK