آئی آر این اے نے بتایا کہ”اسلامی جمہوریہ ایران نے جمعرات کی شام امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہے پاکستان کو اپنی تازہ ترین مذاکراتی تجاویز کا متن فراہم کر دیا ہے۔“ اس رپورٹ کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔
EPAPER
Updated: May 02, 2026, 2:06 PM IST | Tehran
آئی آر این اے نے بتایا کہ”اسلامی جمہوریہ ایران نے جمعرات کی شام امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہے پاکستان کو اپنی تازہ ترین مذاکراتی تجاویز کا متن فراہم کر دیا ہے۔“ اس رپورٹ کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے جمعہ کے دن رپورٹ کیا کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کیلئے نئی تجویز پاکستان بھیج دی ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ’آئی آر این اے‘ (IRNA) نے بتایا کہ”اسلامی جمہوریہ ایران نے جمعرات کی شام امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہے پاکستان کو اپنی تازہ ترین مذاکراتی تجویز کا متن فراہم کر دیا ہے۔“
آئی آر این اے نے ان تجاویز کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم اس کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی وجہ سے دنیا کی ۲۰ فیصد تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے جبکہ دوسری طرف امریکی بحریہ ایرانی خام تیل کی برآمدات کو بلاک کر رہی ہے، جس سے توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں اور معاشی سست روی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ اس وقت جنگ بندی نافذ ہے، تاہم رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایران کو مذاکرات پر مجبور کرنے کیلئے نئے فوجی حملوں کے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: خلیج کا مستقبل ’امریکی موجودگی کے بغیر‘ ہوگا: ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای
دوسری جانب، رائٹرز نے دو سینئر ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے بھی اپنے فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا ہے اور حملے کی صورت میں بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کا منصوبہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کا اندازہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے مختصر لیکن شدید حملہ ہوسکتا ہے، جس کے بعد ممکنہ طور پر اسرائیلی حملہ بھی متوقع ہے۔
تہران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کبھی نہیں روکے: ایرانی چیف جسٹس
ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجائی نے کہا ہے کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ مذاکراتی عمل کو کبھی نہیں روکا۔ خبر رساں ایجنسی ’آئی آر آئی بی‘ (IRIB) کے مطابق انہوں نے کہا کہ ”ہم جنگ کا خیرمقدم نہیں کرتے، لیکن ہم اس سے ڈرتے بھی نہیں ہیں۔ اگر ہماری وقار کو خطرہ لاحق ہوا تو ہم اپنی عزت اور وقار کیلئے لڑیں گے؛ یہ ہماری قوم کا دو ٹوک موقف ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: ایران کے ساتھ جنگ ۶۰؍ روزہ ڈیڈ لائن سے پہلے ’ختم‘ ہوگئی: ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ
ایجائی نے مزید کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سفارت کاری کو ”منطق اور معقولیت پر مبنی“ ہونا چاہئے۔ انہوں نے مذاکرات میں زبردستی کی کوششوں کو بھی مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم یقینی طور پر اپنی مرضی مسلط کئے جانے کو قبول نہیں کرتے۔ وہ دشمن جس نے جارحیت اور دھمکیوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہیں کئے، وہ مذاکرات کی میز پر بھی اپنی شرائط مسلط نہیں کر سکتا اور نہ ہی مطالبات کرسکتا ہے۔“
محسنی ایژهای نے مزید کہا کہ ایران امریکہ کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”ہم جنگی مجرموں کا پیچھا کریں گے، انہیں سزا دیں گے اور ان سے ہرجانہ وصول کریں گے۔“