• Tue, 20 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: جے ڈی وینس کا اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی حمایت سے انکار

Updated: October 20, 2026, 7:05 PM IST | Washington

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی حمایت سے انکار کر دیا، انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیتن یاہو کے دوبارہ انتخاب کی نہ حمایت کر رہے ہیں اور نہ مخالفت، حالانکہ ٹرمپ نے۲۷؍ اکتوبر کے ووٹ سے قبل کھلے عام ان کی حمایت کی ہے۔

US Vice President JD Vance. Photo: INN
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس۔ تصویر: آئی این این

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی انتخابی مہم پر کوئی موقف اختیار نہیں کریں گے، اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی لیڈر کی حمایت کے فوراً بعد خود کو اسرائیل کی انتخابی سیاست سے واضح طور پر دور کر لیا ہے۔ڈیجیٹل پروگرام  ’’ ٹو وے ٹونائٹ‘‘پر مارک ہالپرین کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران، وینس سے براہ راست پوچھا گیا کہ کیا وہ ٹرمپ کی جانب سے عوامی حمایت کے اظہار کے بعد نیتن یاہو کی حمایت کرتے ہیں۔وینس نے جواب دیا، ’’میں امریکی امیدواروں کی حمایت کرتا ہوں، اور وسط مدتی انتخابات میں میری توجہ اسی پر ہے، اس لیے میں اسرائیلی انتخابات میں شامل نہیں ہو رہا۔‘‘بعد ازاں مزید دباؤ ڈالنے پر کہ کیا وہ جان بوجھ کر اسرائیلی وزیر اعظم کی حمایت یا مخالفت سے گریز کر رہے ہیں، وینس نے وضاحت کی کہ ان کا غیر جانبدارانہ موقف دشمنی کا اظہار نہیں ہے۔وینس نے مزید کہا، ’’میں نہ تو ان کی مخالفت کر رہا ہوں، نہ ہی  حمایت۔ میں اسرائیلی انتخابات میں شامل نہیں ہو رہا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل الیکشن: نیتن یاہو کا نیا سیکوریٹی منصوبہ، اپوزیشن نے ’خالی نعروں‘ کا مجموعہ قرار دیا

وہائٹ ہاؤس کے موقف سے وینس کا اختلاف
واضح رہے کہ نائب صدر کے تبصرے ٹرمپ کے بالکل برعکس ہیں، جنہوں نے اتوار کو اسرائیل کے ۲۷؍ اکتوبر کے پارلیمانی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی حمایت کی تھی۔ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر شائع ہونے والی ایک طویل پوسٹ میں، نیتن یاہو کی جنگی قیادت اور واشنگٹن کے ساتھ ان کی اسٹریٹجک شراکت داری کی تعریف کی، خاص طور پر ایران کا مقابلہ کرنے کی مشترکہ کوششوں کا ذکر کیا۔علاوہ ازیں ٹرمپ نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر اسرائیلی ووٹرز بیلٹ باکس پر کسی متبادل وزیر اعظم کا انتخاب کرتے ہیں تو امریکہ خود کو علاقائی سلامتی کے بوجھ کو تنہا اٹھانے پر مجبور پا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK