امریکی محکمہ انصاف (DOJ) کے وکلاء کو متعدد مقدمات میں بار بار تاخیر کی درخواست کرنی پڑ رہی ہے، جس سے غیر ارادی طور پر یہ انکشاف ہوا ہے کہ محکمہ کو شدید عملے کی کمی کا سامنا ہے۔
EPAPER
Updated: May 06, 2026, 12:56 PM IST | Washington
امریکی محکمہ انصاف (DOJ) کے وکلاء کو متعدد مقدمات میں بار بار تاخیر کی درخواست کرنی پڑ رہی ہے، جس سے غیر ارادی طور پر یہ انکشاف ہوا ہے کہ محکمہ کو شدید عملے کی کمی کا سامنا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف (DOJ) کے وکلاء کو متعدد مقدمات میں بار بار تاخیر کی درخواست کرنی پڑ رہی ہے، جس سے غیر ارادی طور پر یہ انکشاف ہوا ہے کہ محکمہ کو شدید عملے کی کمی کا سامنا ہے۔صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے جنوری ۲۰۲۵ءمیں وہائٹ ہاؤس واپس آنے سے پہلے، پورے محکمہ میں تقریباً دس ہزار وکلاء کام کر رہے تھے۔ دریں اثناء نیو ریپبلک کی رپورٹ کے مطابق، ستمبر ۲۰۲۵ءتک یہ تعداد تقریباً نصف رہ گئی تھی۔
بعد ازاں ایڈوکیسی گروپ ’’دی جسٹس کنکشن‘‘، جومحکمہ کی کارکردگی پر نظر رکھتا ہے، کے مطابق تقریباً ۵۵۰۰؍ افراد (جن میں تمام وکلاء نہیں ہیں) نےیا تو استعفیٰ دے کر، تبادلہ ہو کر، ٹرمپ انتظامیہ کی بائی آؤٹ پیشکش قبول کر کے، یا برطرف ہو کر محکمہ چھوڑ دیا ہے۔ نیو ریپبلک کے مطابق، صرف اپیلٹ سیکشن نے فروری۲۰۲۵ء کے بعد سے اپنے۴۰؍ فیصد سے زیادہ وکلاء کھو دیے ہیں۔ تاہم رپورٹ کے مطابق،خالی آسامیوں کی صرف ایک معمولی تعداد پُر کی گئی ہے، جس سے مقدمات کا بیک لاگ پیدا ہو گیا ہے۔اور مقدمات فیصل ہونے میں تاخیر ہورہی ہے۔
واضح رہے کہ عدالتوں میں بار بار تاخیر کی درخواستیں اس خاموش اعتراف کی طرح ہیں کہ محکمہ اندرونی طور پر کمزور ہو چکا ہے۔ اس بحران سے انصاف کی ترسیل بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔اس کا اثر پورے عدالتی نظام پر پڑ رہاہے، اور انصاف کے متلاشی عوام انتظار کرنے کو مجبور ہیں۔