کارپوریٹ انڈیا میں نوجوان ملازمین تیزی سے مختصر مدت کی ملازمتوں کا رخ کر رہے ہیں تاکہ نئی مہارتیں حاصل کریں، تنخواہوں میں اضافہ کریں اور اپنے باقاعدہ کام کا ریکارڈ مضبوط بنائیں۔ اس رجحان نے کمپنیوں کو بھی مجبور کیا ہے کہ وہ بھرتی اور آن بورڈنگ کے عمل کو تیز کریں، جبکہ میٹرو شہروں سے باہر بھی مواقع بڑھ رہے ہیں۔
جین زی کولگتا ہے کہ ’ جاب سوئچ ‘کرتے رہو اور آگے بڑھتے رہو۔اے آئی سے تیار کردہ تصویر
کئی دہائیوں تک کارپوریٹ کامیابی کو ایک ہی کمپنی میں طویل عرصہ گزارنے سے جوڑا جاتا تھا۔ یعنی کوئی ملازم کسی کمپنی میں جتنے زیادہ سال ملازمت کرتا تھا، اسے اتنا کامیاب سمجھا جاتا تھا۔ اسے وفاداری، استحکام اور ترقی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب ملازمت کے شعبے میں ایک نئی ورک فورس اس تصور کو بدل رہی ہے۔ریٹیل، ٹیلی کام، مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور مالیاتی خدمات جیسے شعبوں میں آج کے نوجوان ملازمین روایتی طویل مدتی کریئر کے بجائے مختصر مگر تیز رفتار ملازمتوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔اب ’جین زی ‘ ایک ہی سیڑھی پر آہستہ آہستہ چڑھنے کے بجائے مختلف کمپنیوں میں جا کر مہارت، تجربہ اور تنخواہ میں اضافہ حاصل کر رہے ہیں۔
’کوئیس کارپوریشن ‘کے مطابق، فلیکسی اسٹافنگ سے وابستہ نصف سے زیادہ ملازمین ایک سال سے کم عرصے میں ملازمت چھوڑ دیتے ہیں، جبکہ تقریباً ایک چوتھائی ۳؍ ماہ کے اندر ہی آگے بڑھ جاتے ہیں۔ جو پہلے عدم استحکام سمجھا جاتا تھا، اب اسے ایک نئی قسم کی امنگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کمپنی کے سی ای او لوہت بھاٹیا کے مطابق’’روایتی کارپوریٹ سیڑھی ختم ہو رہی ہے اور اس کی جگہ ایک زیادہ متحرک نظام لے رہا ہے جسے ‘ہائی ویلوسٹی کریئر اسپرنٹ ‘کہا جا سکتا ہے۔‘‘
ملازمت کی تبدیلی سے کریئر کی ترقی تک
کارپوریٹ صنعت کے ماہرین اکثر مختصر مدت کی ملازمتوں کو غیر یقینی سمجھتے ہیں، مگر اعداد و شمار ایک مختلف حقیقت دکھاتے ہیں۔ہندوستان میں منظم شعبہ نوجوانوں کو بڑی تعداد میں روزگار دے رہا ہے۔’ای پی ایف او‘ کے جولائی۲۰۲۵ء کے اعداد و شمار کے مطابق،۲۱ء۰۴؍ لاکھ نئے ممبرز شامل ہوئے، جن میں سے۱۸؍ سے ۲۵؍ سال کے نوجوان تقریباً۹ء۱۳؍ لاکھ تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر نئی نوکری کے ساتھ ایک باقاعدہ ملازمت کا ریکارڈ، سوشل سیکوریٹی اور آمدنی کی تاریخ بنتی ہے۔ بہت سے نوجوانوں کے لیے پہلی نوکری کا مقصد طویل قیام نہیں بلکہ اگلی بہتر نوکری کے لیے راستہ بنانا ہے۔
جین زی کو استحکام نہیں، رفتار چاہیے
۳۰؍ سال سے کم عمر افراد کے لئے اب کریئر کی قدر کا تعلق سیکھنے کی رفتار، مختلف تجربات اور آمدنی میںفوری اضافے (فاسٹ اِنکریمنٹ) سے ہے۔ یعنی جاب سوئچ کرو اور آگے بڑھو۔ مثلاً:۶؍ ماہ ٹیلی کام میں کام کرنے کے بعد’بی ایف ایس آئی‘ یا ریٹیل میں جانا، اب کئی سال ایک ہی کمپنی میں ترقی کے انتظار سے زیادہ فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔’پی ایل ایف ایس ۲۰۲۵ء‘ کے مطابق نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح کم ہو کر۹ء۹؍فیصد رہ گئی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔ نوجوان اب ابتدائی برسوں کو’کریئرپورٹ فولیو‘بنانے کا وقت سمجھتے ہیں، جہاں وہ سیلز، ڈیجیٹل ٹولز، آپریشنز اور کسٹمر سروس جیسی مہارتیں جمع کرتے ہیں۔
کمپنیوں کے لئے نیا چیلنج کیا ہے
اب کمپنیوں کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ملازمین کو طویل عرصہ روکنا نہیں بلکہ انہیں جلدی بھرتی کر کے مؤثر بنانا ہے۔ سیزنل ڈیمانڈ، مارکیٹ میں اچانک تبدیلی یا پروڈکشن کی ضروریات کے لیے کمپنیوں کو فوری طور پر افرادی قوت چاہیے ہوتی ہے۔ اسی لیے اب زور ان چیزوں پر ہے:
-اے آئی پر مبنی بھرتی -تیز ڈاکیومینٹیشن
-ڈجیٹل آن بورڈنگ - مختصر اور مؤثر ٹریننگ
چھوٹے شہروں کا بڑھتا کردار
یہ رجحان صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہا۔ ٹیئر ۲؍اور ٹیئر تھری شہروں کے نوجوان بھی بڑی تعداد میں شامل ہو رہے ہیں۔ڈیجیٹل بھرتی کے ذریعے کمپنیوں کو اب چھوٹے شہروں سے بھی ٹیلنٹ مل رہا ہے، جو تیزی سے ترقی کرنا چاہتا ہے۔یہ خواتین کے لیے بھی ایک بڑا موقع بن سکتا ہے، کیونکہ لچکدار اور مہارت پر مبنی نوکریاں ان کی شمولیت بڑھا سکتی ہیں۔
طویل دورانیہ کی ملازمت کا دور ختم؟
ہندوستان کی لیبر مارکیٹ اب ’استحکام‘ سے ’رفتار‘ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پہلے صبر کا انعام ملتا تھا، اب لچک اور تیزی کامیابی کی کنجی ہے۔ ملازمین تیز ترقی چاہتے ہیں، کمپنیاں تیز نتائج چاہتی ہیں اور یہی نیا ماڈل مستقبل کی ورک فورس کی بنیاد بن رہا ہے۔جو کبھی جاب چینجنگ لگتا تھا، وہ دراصل ایک نئی کریئر حکمت عملی بن چکا ہے۔