مروان برغوثی کی رہائی کے مطالبے نے فلسطینی قیادت اور دو ریاستی حل کے مستقبل پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکی رکنِ کانگریس رو کھنہ نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو اپنے سیاسی مستقبل اور امن عمل میں فیصلہ کن آواز ملنی چاہئے۔
EPAPER
Updated: September 26, 2026, 7:01 PM IST | Washington
مروان برغوثی کی رہائی کے مطالبے نے فلسطینی قیادت اور دو ریاستی حل کے مستقبل پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکی رکنِ کانگریس رو کھنہ نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو اپنے سیاسی مستقبل اور امن عمل میں فیصلہ کن آواز ملنی چاہئے۔
امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے سرکردہ رکنِ ایوانِ نمائندگان رو کھنہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ زیرِ حراست فلسطینی لیڈر مروان برغوثی کو رہا کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ پائیدار دو ریاستی حل کی جانب پیش رفت کیلئے ضروری ہے کہ فلسطینی خود اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں۔ کھنہ نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں کہا، ’’تمام فلسطینی دھڑوں میں برغوثی کی حیثیت منفرد ہے۔ انہیں بدعنوانی سے پاک، مضبوط لیڈر اور سیکولر شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ برغوثی ایسا فلسطینی ریاست قائم کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں جو اسرائیل کے ساتھ امن کے ساتھ رہ سکے۔ ‘‘
I am calling for the release of Marwan Bhargouti from Israeli prison. pic.twitter.com/z0T1vmlVho
— Ro Khanna (@RoKhanna) September 25, 2026
کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے رکنِ کانگریس نے برغوثی کے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں کسی قسم کی معافی یا اخلاقی بریت نہیں دے رہے۔ تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں نے اس حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں کہ آیا برغوثی کو منصفانہ مقدمہ ملا تھا یا نہیں۔ کھنہ نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج کے سابق بعض عہدیدار بھی برغوثی کی رہائی کی حمایت کر چکے ہیں۔ انہوں نے شمالی آئرلینڈ میں پائیدار مفاہمت کیلئے آئرش ریپبلکن آرمی (آئی آر اے) کو سیاسی عمل میں شامل کرنے کی مثال بھی دی۔ کھنہ نے کہا، ’’فی الحال ہمیں فلسطینیوں کو ان کی خودمختاری اور امن عمل میں اپنی آواز بلند کرنے کا موقع دینا ہوگا۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: اننت امبانی نے ’پروفیسرشپ‘ کا اعزاز نہیں خریدا، نیوکاسل یونیورسٹی کی وضاحت
قیدِ تنہائی میں
یہ مطالبہ۲۸؍نومبر کو ہونے والے فلسطینی قانون ساز انتخابات سے قبل سامنے آیا ہے۔ یہ انتخابات۲۰؍ سال بعد ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات ہوں گے، جبکہ صدارتی انتخابات اگلے سال ہونے کا منصوبہ ہے۔ عوامی رائے کے جائزوں میں اکثر مروان برغوثی کو مستقبل کے فلسطینی صدر کیلئے سب سے نمایاں امیدوار قرار دیا جاتا رہا ہے۔ ۱۹۵۸ءمیں مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے کوبر میں پیدا ہونے والے برغوثی نے۱۵؍ برس کی عمر میں فتح تحریک میں شمولیت اختیار کی اور پہلی انتفاضہ کے دوران ایک اہم لیڈرکے طور پر ابھرے۔ کئی برس اردن میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے بعد وہ۱۹۹۴ءکے اوسلو معاہدوں کے تحت واپس فلسطین آئے، جو اسرائیل اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے درمیان طے پائے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ممکنہ امریکی پابندیوں سے بچاؤ، عالمی فوجداری عدالت کے ہنگامی اقدامات
اسرائیلی فورسیز نے۲۰۰۲ء میں مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر راملہ میں ان کی رہائش گاہ سے برغوثی کو گرفتار کر لیا۔ ۲۰۰۴ء میں ایک اسرائیلی عدالت نے انہیں دوسری انتفاضہ سے متعلق الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے پانچ مرتبہ عمر قید اور مزید ۴۰؍سال قید کی سزا سنائی۔ برغوثی نے عدالت کے دائرۂ اختیار کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ فروری۲۰۲۴ءمیں اسرائیلی حکام نے انہیں رامون جیل میں قیدِ تنہائی میں منتقل کر دیا۔