Updated: September 26, 2026, 5:03 PM IST
| London
نیو کاسل یونیورسٹی نے ریلائنس گروپ کے ایگزیکٹو اننت امبانی کو تحفظِ ماحول، حیاتیاتی تنوع اور پائیداری کے شعبے میں خدمات کے اعتراف میں ’’پروفیسرشپ آف پریکٹس‘‘ سے نوازا ہے۔ یونیورسٹی نے واضح کیا ہے کہ یہ اعزاز کسی مالی عطیے کے عوض نہیں دیا گیا، تاہم اس فیصلے پر بعض ماہرینِ ماحولیات اور تعلیمی حلقوں کی جانب سے سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔
اننت امبانی ’’ پروفیسرشپ آف پریکٹس‘‘ کا اعزاز ی عہدہ قبول کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس
نیو کاسل یونیورسٹی کی جانب سے ’’پروفیسرشپ آف پریکٹس‘‘ سے نوازے جانے والے اننت امبانی نے یہ اعزاز خرید کر حاصل نہیں کیا۔ نیو کاسل یونیورسٹی کے ترجمان نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے دی ٹیلی گراف کو بتایا: ’’ہم تصدیق کر سکتے ہیں کہ یونیورسٹی کو اننت امبانی یا ان سے وابستہ کسی کمپنی کی جانب سے کوئی عطیہ موصول نہیں ہوا۔ ‘‘ ترجمان نے مزید کہا کہ ’’پروفیسرشپ آف پریکٹس‘‘ کا اعزاز اننت امبانی کو تحفظِ ماحول، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، جانوروں کی فلاح و بہبود اور ماحولیاتی ذمہ داری کے شعبوں میں ان کی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ یہ خدمات انہوں نے جنگلی حیات کے تحفظ اور ریسکیو کے منصوبے ’’ونتارا‘‘ کے ذریعے انجام دی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ریلائنس گروپ کو گرین انرجی کے مستقبل کی جانب منتقل کرنےکیلئے انتظامی سطح پر بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مکیش امبانی کے۳۱؍ سالہ بیٹے کو دی جانے والی یہ ذمہ داری کوئی تعلیمی ڈگری یا اہلیت فراہم نہیں کرتی اور نہ ہی اس میں نیو کاسل یونیورسٹی کی تعلیمی پالیسی یا سمت طے کرنے کا کوئی کردار شامل ہے۔ یونیورسٹی نے یہ وضاحت’ دی گارجین‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے جواب میں دی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اننت امبانی کو پروفیسرشپ دینے پر نیو کاسل یونیورسٹی کو ماہرینِ تحفظِ ماحول کی شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اخبار کے مطابق یونیورسٹی کے اس اعلان پر بعض تعلیمی عملے، ہندوستانی اور بین الاقوامی ماہرینِ تحفظِ ماحول اور ماحولیات کے ماہرین نے حیرت اور طنزیہ ردعمل کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ممکنہ امریکی پابندیوں سے بچاؤ، عالمی فوجداری عدالت کے ہنگامی اقدامات
یونیورسٹی آف سسیکس کے انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اسٹڈیز کے شعبۂ آب و ہوا، ماحولیات اور پائیداری کی سربراہ پروفیسر لائلا مہتا نے اخبار سے گفتگو میں کہا کہ ’’جب یونیورسٹیوں کیلئے سرکاری فنڈنگ کم ہو رہی ہو تو یہ حقیقی خطرہ موجود ہے کہ ارب پتی افراد اور کارپوریٹ اداروں کی رقم تعلیمی شعبے کی سمت متعین کرنے لگے۔ ‘‘ انہوں نے کہا: ’’یونیورسٹیاں ایسی جگہیں ہونی چاہئیں جہاں طاقت پر سوال اٹھایا جائے اور کارپوریشنوں کو جواب دہ بنایا جائے، نہ کہ انہیں تعلیمی حیثیت اور اعتبار فراہم کیا جائے۔ ‘‘آئل چینج انٹرنیشنل کے ریسرچ کو ڈائریکٹر لورن اسٹاک مین نے کہا: ’’ایسے وقت میں جب موسمیاتی بحران تیل اور گیس کے استعمال کو فوری طور پر مرحلہ وار ختم کرنے کا تقاضا کر رہا ہے، ہمیں سرکاری فنڈنگ سے چلنے والے اداروں سے بہتر کردار کی توقع کرنی چاہئے۔ ‘‘
یہ واضح نہیں کہ آیا ناقدین نے خود اخبار سے رابطہ کیا تھا یا، جیسا کہ برطانوی صحافت میں عموماً ہوتا ہے، اخبار نے ان سے یہ سوال کیا تھا کہ ’’کیا آپ نہیں سمجھتے کہ یہ پروفیسرشپ ایک انتہائی خراب خیال ہے؟‘‘ رپورٹ میں ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کا بھی ذکر کیا گیا۔ اس میں کہا گیا کہ اننت امبانی ہندوستان کے امیر ترین شخص مکیش امبانی کے بیٹے ہیں، جنہوں نے بنیادی طور پر تیل اور گیس کے کاروبار سے دولت کمائی اور دنیا کی سب سے بڑی آئل ریفائنری کے مالک ہیں۔ ان کے حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے بھی قریبی تعلقات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مکیش امبانی نے بی جے پی کی پالیسیوں کی بھرپور حمایت کی ہے اور حالیہ عرصے میں ان کے ریلائنس گروپ سے وابستہ کمپنیوں نے پارٹی کو نمایاں عطیات بھی دیئےہیں۔ نریندر مودی نے ۲۰۲۴ءمیں ممبئی میں ہونے والی اننت امبانی کی پرتعیش شادی میں شرکت کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: کردفان، سوڈان: ۰۸ء۳؍ لاکھ سے زائد افراد بے گھر، ۱۰؍ میں ۱۱۸؍ واقعات
رپورٹ میں کہا گیا کہ۳۱؍ سالہ اننت امبانی ریلائنس گروپ کے ایگزیکٹو بورڈ میں قابلِ تجدید توانائی کے شعبے کی نگرانی کرتے ہیں اور ان کی دولت کا تخمینہ۹۰؍ارب پاؤنڈ لگایا گیا ہے۔ انہوں نے گجرات میں خاندان کی آئل ریفائنری کے قریب۱۴۰۰؍ہیکٹر (۳؍ ہزار ۵۰۰؍ ایکڑ) پر مشتمل نجی وائلڈ لائف پارک ’’ونتارا‘‘ قائم کیا ہے، جہاں اطلاعات کے مطابق ایک لاکھ۵۰؍ ہزار سے زیادہ جانور موجود ہیں، جن میں ۲۰۰؍ شیر، ۲۵۰؍ چیتے اور۹۰۰؍ مگرمچھ شامل ہیں۔ یہیں انہوں نے اپنی شاندار شادی سے قبل کی تقریبات بھی منعقد کی تھیں، جن میں معروف شخصیات اور سیاستدانوں نے شرکت کی تھی۔ تحفظِ ماحول کی بعض تنظیمیں ماضی میں اس حوالے سے سوالات اٹھا چکی ہیں کہ ان میں سے بعض جانوروں کو کس طرح حاصل کیا گیا، خصوصاً اس لئے کہ ان میں کئی نایاب اور خطرے سے دوچار انواع بھی شامل ہیں۔ تاہم، ونتارا کو کسی غلط کاری کا مرتکب قرار نہیں دیا گیا۔
دوسری جانب برطانیہ میں نریندر مودی کے حامی بھی موجود ہیں۔ کنزرویٹو پارٹی سے وابستہ کاروباری شخصیت لارڈ رامی رینجر نے دی ٹیلی گراف سے گفتگو میں کہا: ’’یہ محض حسد ہے۔ یہ لوگ ہندوستان کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔ امبانی خاندان نے ہندوستان کو اگلی سطح تک پہنچایا ہے۔ برطانیہ اور ہندوستان کے درمیان تجارتی معاہدہ دونوں ممالک کیلئے اچھا ہے۔ یہ پروفیسرشپ نیو کاسل یونیورسٹی کا بین الاقوامی تشخص بڑھائے گی اور مزید ہندوستانی طلبہ کو یہاں آنے کی ترغیب دے گی۔ ناقدین مجموعی تصویر کو نہیں دیکھ رہے۔ ‘‘حقیقت شاید یہ ہے کہ دولت مند ہندوستانیوں کے معاملے میں وہ کچھ بھی کریں، تنقید سے بچنا مشکل ہے۔
امبانی خاندان برطانیہ میں اپنی موجودگی کا نمایاں اثر ضرور چھوڑ رہا ہے۔ مکیش امبانی لندن کی ریجنٹ اسٹریٹ پر واقع ہیملیز کے مالک ہیں، جسے ممکنہ طور پر دنیا کی سب سے بڑی کھلونوں کی دکان قرار دیا جاتا ہے۔ ان کا خاندان بیک وقت وقت نکال سکے تو بکنگھم شائر میں واقع۳۰۰؍ ایکڑ پر پھیلی اسٹوک پارک اسٹیٹ میں بھی قیام کر سکتا ہے۔ گزشتہ سال برٹش میوزیم میں منعقد ہونے والی ’’پنک بال‘‘ تقریب، جسے نیویارک کے میٹ گالا کا برطانوی جواب قرار دیا گیا، نےہندوستان کے ساتھ مزید تعاون کیلئے۲۵؍لاکھ پاؤنڈ جمع کئے۔ اس میں مکیش امبانی کی اہلیہ نیتا امبانی اور بیٹی ایشا امبانی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ۱۶؍ سال کے لڑکے کو ۳؍ ماہ کی عمر کی بھی باتیں یاد: تحقیق
اس سلسلے میں گوتم اڈانی کا ذکر بھی ضروری ہے۔ وہ لندن کے سائنس میوزیم میں قائم ’’اڈانی گرین انرجی گیلری‘‘ کی طویل مدتی بنیادوں پر مالی معاونت کر رہے ہیں۔ نیو کاسل یونیورسٹی نے اننت امبانی کو ’’پائیداری اور صاف توانائی کی جانب منتقلی کے شعبے میں بین الاقوامی لیڈر‘‘ قرار دیا ہے۔ یونیورسٹی کے مطابق انہیں پائیدار مستقبل کے فروغ میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں یہ اعزاز یونیورسٹی کے تاریخی کنگز ہال میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران دیا گیا۔ یونیورسٹی نے بتایا کہ اننت امبانی نے ونتارا کی بنیاد رکھی، جو ہندوستان کی ریاست گجرات کے ضلع جام نگر میں ۳؍ ہزار ۵۰۰؍ ایکڑ پر پھیلا جنگلی حیات کے تحفظ اور ریسکیو کا منصوبہ ہے۔ اس کا مقصد دنیا بھر سے تشدد کا شکار، زخمی اور خطرے سے دوچار جانوروں کو بچانا، ان کی بحالی اور تحفظ کرنا ہے۔
نیو کاسل یونیورسٹی نے مزید کہا: ’’ونتارا میں ہونے والا کام عالمی سطح پر حیاتیاتی تنوع اور تحفظ کے اہداف کے حوالے سے یونیورسٹی کی عالمی معیار کی تحقیق سے قریبی مطابقت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیٹا کی بصری نمائندگی اور تجزیے سمیت مختلف شعبوں میں یونیورسٹی کی مہارت بھی اس منصوبے سے ہم آہنگ ہے۔ ‘‘اعزاز دینے کی تقریب میں اننت امبانی کی اہلیہ رادھیکا کے علاوہ شاعرہ امتیاز دھکر بھی شریک تھیں، جو یونیورسٹی کی چانسلر کی حیثیت سے سات سالہ مدت مکمل کر رہی ہیں۔ اننت امبانی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’جب انسانیت عالمی چیلنجز کے ایک نئے دور کا سامنا کر رہی ہے، میرا یقین ہے کہ تحفظِ ماحول اور پائیداری اگلی بڑی تحریک ہونی چاہئے، جو ملکوں، نسلوں اور اختلافات کی حدود سے بالاتر ہو۔ میں اسی جذبے کے تحت یہ اعزاز قبول کرتا ہوں۔ یہ صرف میرے ماضی کے کام کا اعتراف نہیں بلکہ مزید کام کرنے کی ذمہ داری بھی ہے، تاکہ ایسا مستقبل تعمیر کیا جا سکے جہاں انسان اور فطرت ایک ساتھ ترقی کریں اور اس ایک سیارے پر خوشحال زندگی گزار سکیں جسے ہم سب اپنا گھر کہتے ہیں۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: گوگل اگلے ہفتے AI چپس خلا میں بھیجے گا، مدار میں ڈیٹا سینٹر کا تجربہ
تقریب سے قبل انہوں نے کہا: ’’یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والا ہر طالب علم کسی نہ کسی طرح دنیا کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نیو کاسل یونیورسٹی کی سیڑھیوں پر کھڑا ہونا میرے لئے انتہائی اعزاز کی بات ہے، جہاں عظیم اور قابلِ احترام مارٹن لوتھر کنگ بھی کھڑے ہو چکے ہیں۔ پائیداری اور دنیا کو مہربانی اور ہمدردی کے ساتھ محفوظ رکھنا آج کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ میرا خیال ہے کہ نیو کاسل یونیورسٹی میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ایسے طلبہ تیار کرے جو معاشرے کو واپس دینے اور سب سے زیادہ ہمدرد انسان بننے کی مثال قائم کریں۔ ‘‘نیو کاسل یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور صدر پروفیسر کرس ڈے نے کہا: ’’ہم ایک عالمی چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں اور حیاتیاتی تنوع میں کمی کو روکنے اور فطرت کی بحالی کیلئے فوری اقدامات کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے مختلف شعبوں کے درمیان جرات مندانہ قیادت، جدت اور تعاون درکار ہے۔ پروفیسر امبانی اسی نوعیت کی قیادت کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور ایسے پُرعزم حل پیش کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں جو صحت مند اور مضبوط ماحولیاتی نظام کی بحالی میں معاون ثابت ہوں اور آنے والی نسلوں کیلئے فائدہ مند ہوں۔ میں پروفیسر امبانی کو نیو کاسل یونیورسٹی میں خوش آمدید کہتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہوں۔ پائیداری ان بنیادی ستونوں میں شامل ہے جن پر ہمارا ادارہ قائم ہے اور یہ ہماری تعلیم، تحقیق اور سماجی روابط سمیت بنیادی سرگرمیوں کو مضبوط بناتی ہے۔ پروفیسر امبانی جیسے عالمی لیڈریہ بتانے میں مدد کر رہے ہیں کہ کیا کچھ ممکن ہے۔ وہ پائیداری، ٹیکنالوجی اور کاروباری تبدیلی کو یکجا کرکے معاشرے کیلئے بامعنی اثرات پیدا کرنے اور ہمارے دور کے اہم ترین چیلنجز سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ‘‘