Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی حکام کا ایرانیوں کے ساتھ دوسری ملاقات پر غور: سی این این کا دعویٰ

Updated: April 14, 2026, 2:59 PM IST | Tehran

امریکی ٹی وی سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام جنگ بندی مدت ختم ہونے سے پہلے آمنے سامنے دوسری ملاقات پر غور کررہے ہیں۔

Iran Vs America.Photo:INN
ایران بمقابلہ امریکہ۔ تصویر:آئی این این

امریکی ٹی وی سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام جنگ بندی مدت ختم ہونے سے پہلے آمنے سامنے دوسری ملاقات پر غور کررہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے حل کے لیے سفارتی سرگرمیاں ایک بار پھر تیز ہو گئی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام موجودہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے ایران کے ساتھ دوسری براہِ راست ملاقات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔  
رپورٹ کے مطابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی کابینہ کے اہم اراکین اس وقت ایرانی حکام کے ساتھ ممکنہ ’’ذاتی ملاقات‘‘ کے ایجنڈے اور مقام پر تبادلہ خیال میں مصروف ہیں۔  ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا یہ دوسرا راؤنڈ بھی اسلام آباد میں ہونے کا قوی امکان ہے، تاہم عمان یا مشرقِ وسطیٰ کے کسی اور ملک کو بھی بطور متبادل زیرِ غور رکھا گیا ہے۔  
دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز  نے ایک اہم رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات کے دوران ایران نے پانچ سال کے لیے یورینیم کی افزودگی معطل کرنے کی پیشکش کی تھی تاہم، صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس پیشکش کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ 
 رپورٹ کے مطابق امریکہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کم از کم ۲۰؍ سال تک یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر روک دے اور اپنا پہلے سے موجود انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ بیرونِ ملک منتقل کرے۔ تاہم ایران نے امریکی شرائط کو کڑی قرار دیتے ہوئے ماننے سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث حتمی معاہدے پر پیش رفت تاحال تعطل کا شکار ہے۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فریقین لچک کا مظاہرہ کرتے ہیں تو جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے کسی عبوری معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:حیدرآباد: بی ایم ڈبلیو میں ’’جیمز بونڈ‘‘ طرز نمبر پلیٹ، ڈاکٹر گرفتار


تہران ڈیل کرنے کے لیے بے قرار ہے ، ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے دوبارہ رابطہ کیا ہے اور تہران ڈیل کرنے کے لیے بے قرار ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران انتظامیہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے شدید بے چین ہے اور اس سلسلے میں ’’مناسب لوگوں‘‘ کی جانب سے رابطہ کیا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:سن رائزرس حیدرآباد نے راجستھان رائلز کی جیت کا سلسلہ روکا


اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ آج صبح ایران کے حوالے سے مناسب لوگوں کی طرف سےرابطہ ہوا، ایران نے ہم سے بات چیت کی ہے اور شدت سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ کئی امور پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے، تاہم ایرانی حکام ایٹمی ہتھیاروں کی دستبرداری پر تاحال راضی نہیں ہیں۔ انہوں نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے اعلان کیا کہ امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی شروع کر دی ہے اور آبنائے ہرمز پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے،’’ہم کسی بھی ملک کو بلیک میلنگ یا بھتہ خوری کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK