امریکہ نے اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کیلئے نئے بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہوں، اسی کے ساتھ ٹرمپ نے نیا نقشہ پیش کیا،جس میں آبنائے ہرمز کو آبنائے ٹرمپ نام دیا۔
EPAPER
Updated: April 30, 2026, 8:16 PM IST | Washington
امریکہ نے اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کیلئے نئے بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہوں، اسی کے ساتھ ٹرمپ نے نیا نقشہ پیش کیا،جس میں آبنائے ہرمز کو آبنائے ٹرمپ نام دیا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، امریکہ نے جہاز رانی کی بندش اور ایران کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد اتحادیوں کو’’میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ‘‘ کی تجویز پیش کی ہے۔بدھ کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ ایک بین الاقوامی اتحاد بنانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمدورفت دوبارہ بحال کی جا سکے۔وال اسٹریٹ جرنل نےریاستی محکمہ کی طرف سے امریکی سفارت خانوں کو بھیجے گئے ایک خفیہ پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ واشنگٹن نے اپنے سفارت کاروں کو حکم دیا ہے کہ وہ غیر ملکی حکومتوں پر ’’میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ‘‘نامی نئے اتحاد میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈالیں، جو آبنائے کو دوبارہ کھولنے کیلئے معلومات کے تبادلے، سفارتی کوششوں اور پابندیوں کے نفاذ کو مربوط کرے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ :مذاکرات درکنار، سخت بیان بازی شروع
واضح رہے کہ یہ اقدام ان ہفتوں کے بعد آیا ہے جب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آبنائے کو مکمل طور پر آزاد اور کاروبار کے لیے تیار قرار دیا تھا، لیکن اس کے باوجود جہاز رانی بڑی حد تک تعطل کا شکار رہی۔ جس کی وجہ ایران کا آبنائے ہرمز پر مضبوط کنٹرول ہے۔جہاں اس نے بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں۔بعد ازاں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک تبدیل شدہ نقشہ ساجھا کر کے تنازعہ کھڑا کر دیا جس میں آبنائے ہرمز کا نام بدل کر ’’ آبنائے ٹرمپ‘‘ رکھ دیا گیا۔اس سے قبل ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ کو جنگ ختم کرنے کیلئے ایک نئی تجویز بھیجی ہے۔ تاہم، اطلاعات ہیں کہ ٹرمپ اس تجویز سے ناخوش ہیں اور اسے قبول کرنے کا امکان نہیں ہے۔ ٹرمپ کا ہرمز کو اپنے نام سے منسوب کرنا اس لئے بھی دلچسپ ہے کہ امریکہ کی جانب سے اس اہم بحری راستے کی ناکہ بندی جاری ہے، اور امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ایران اسے کھولنے کے لیے بے چین ہے، جبکہ ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کا تیل کا نظام تباہی کے قریب ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تیل کی عالمی قیمت ۱۴۰؍ ڈالر تک پہنچ جائے گی: باقر قالیباف
دریں اثناء امریکہ کی توجہ ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے پر مرکوزہے،حالانکہ چند دن قبل ۱۷؍ اپریل کو ٹرمپ نے ایک پوسٹ میں اس اہم تیل کے بحری راستے کو’’ آبنائے ایران‘‘ کہا تھا اور جنگ بندی کے بعد راستے کو مکمل طور پر کھولنے کیلئے ایرانی حکومت کا شکریہ ادا کیا تھا۔ دریں اثنا، اطلاعات ہیں کہ اگر امریکہ طویل مدتی کنٹرول حاصل کرتا ہے تو انتظامیہ نے اس راستے کا باضابطہ نام بدل کر ’’اسٹریٹ آف امریکہ‘‘رکھنے پر بھی غور کیا ہے۔ دوسری جانب جنگ ختم کرنے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ایک بار پھر تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ۴۸؍گھنٹوں میں کم از کم تین بار اسلام آباد، پاکستان کا دورہ کیا جس سے امن کوششوں میں امید پیدا ہوئی۔ عراقچی نے پاکستان کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ کو ایک نئی تجویز بھیجی۔ تاہم، اطلاعات بتاتی ہیں کہ ٹرمپ اس تجویز سے ناخوش تھے اور اسے قبول کرنے کا امکان نہیں ہے۔یہ تجویز بظاہر تین مراحل پر مشتمل تھی۔ پہلے مرحلے میں جنگ کا مکمل خاتمہ، خاص طور پر لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی حملوںکے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔ دوسرے مرحلے میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی اٹھانے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمد ورفت بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ تیسرا مرحلہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: نصف سے زیادہ امریکیوں کا کہنا ہے کہ ان کی مالی حالت خراب ہو رہی ہے: سروے
بعد ازاں امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کا تعطل ہنوز برقرار ہے۔اور آبنائے ہرمز کے دونوں جانب ناکہ بندی جاری ہے، جبکہ ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو ایران ٹیلی فون کر سکتا ہے۔ جس کے جواب میں ایران نے کہاکہ مذاکرات صرف اس صورت میں ممکن ہیں جب آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کی جائے گی۔