Updated: August 18, 2026, 10:02 PM IST
| Washington
امریکہ کی ۱۰۰؍ سے زائد تنظیموں نے امریکی وزیر خارجہ سے اسرائیل کی زیر حراست فلسطینی نژاد امریکی طالبہ سامح صفی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے،صفی۲۰؍ سالہ اعزازی طالبہ ہیں جو بیرزیت یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کررہی ہیں اور۲؍ جون سے اسرائیلی فوج کیجبری حراست میں لی گئی ہیں۔
امریکہ کی۱۰۲؍ مذہبی، انسانی حقوق اور شہری حقوق کی تنظیموں پر مشتمل ایک اتحاد نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی شہری سامح صفی کی فوری اور مستقل رہائی کو یقینی بنائیں۔ صفی۲۰؍ سالہ اعزازی طالبہ ہیں جو بیرزیت یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں اور۲؍ جون سے اسرائیلی فوج کی جانب سےجبراًحراست میں لی گئی ہیں۔پیر کو جاری کردہ ایک خط میں تنظیموں نے کہا کہ مسلح اسرائیلی فوجیوں نے۲؍ جون کی صبح تقریباً۳؍ بجے مغربی کنارے میں صفی کے گھر پر چھاپہ مارا، دروازہ توڑا اور انھیں ان کے خاندان سے الگ کر کے لے گئے۔صفی کو ایک شدید اور پیچیدہ دائمی صحت کا مسئلہ ہے جس کے لیے بیرونِ ملک خصوصی اور مسلسل طبی دیکھ بھال کی ضرورت ہے اور انھوں نے خبردار کیا تھا کہ اس علاج میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ سنگین بگاڑ، اعضاء کو نقصان، اسپتال میں داخلے اور جان لیوا پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔اتحاد نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ صفی کو مغربی کنارے سے حائفہ کے قریب ڈیمون جیل منتقل کیا گیا، اس منتقلی کو چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل ۱۴۷؍کی خلاف ورزی اور ممکنہ جنگی جرم قرار دیا۔خط کے مطابق صفی نے اپنی حراست کے حالات بیان کرتے ہوئےاسرائیل فوج کے غیر انسانی سلوک کا ذکر کیا ہے۔تنظیموں نے۲۰؍ سالہ صفی کو ’’انتہائی شیریں شخصیت‘‘ قرار دیا جو دوسروں کی مدد کے لیے وقف ہیں، وہ بیرزیت یونیورسٹی میں نفسیات کی اعزازی طالبہ ہیں اور آئل پینٹنگ، خاکہ نگاری اور کولاج آرٹ سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جیرڈ کشنرکی حماس کے وفد سے ملاقات، اسرائیل کے انخلا کا وعدہ
اس اتحاد کے ارکان میں کونسل آن امریکن-اسلامک ریلیشنز فلوریڈا، آئی ایم ای یو پالیسی پروجیکٹ، عدالہ جسٹس پروجیکٹ، امریکن فرینڈز سروس کمیٹی اور امریکنز فار جسٹس ان فلسطین ایکشن شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہزاروں امریکیوں نے منتخب عہدیداروں سے صافی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ کئی قانون سازوں نے بھی اس کیس پر آواز اٹھائی ہے۔خط میں مزید اقوام متحدہ کے ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کا حوالہ دیا گیا جن میں اسرائیلی جیلوں میں فلسطینیوں کے ساتھ وسیع پیمانے پر زیادتیوں، بشمول تشدد، جنسی زیادتی اور طبی دیکھ بھال، خوراک اور پانی سے محرومی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’جنگ بندی کی امریکی کوشش جنگ کے نئے مرحلہ کی تیاری ہے‘‘
واضح رہے کہ اس سے قبل سینیٹر کرس وین ہولن نے۴؍ جون کو کہا تھا کہ اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں ان کے گھروں سے چار طلبہ کو حراست میں لیا، جن میں۲۰؍ سالہ امریکی شہری صفی بھی شامل ہیں، اور الزام لگایا کہ ان کے خاندان اور امریکی سفارت خانے کو یہ نہیں بتایا گیا کہ انھیں کہاں اور کیوں لے جایا جا رہا ہے۔ انھوں نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ ان کی رہائی کو یقینی بنائے۔۲۳؍ جون کو نمائندہ ڈیرک ٹران نے کہا کہ وہ صفی کی حراست سے شدید پریشان ہیں اور وزیر خارجہ مارکو روبیو اور ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ہر دستیاب سفارتی ذریعہ استعمال کریں تاکہ انھیں بحفاظت گھر واپس لایا جا سکے۔حال ہی میں۱۵؍ اگست کو کانگریس وومن رشیدہ طلیب نے کہا کہ صفی کو اسرائیلی جیل میں ’’ناقابلِ بیان ظلم‘‘ کا سامنا کرنا پڑا اور خبردار کیا کہ ان کی دائمی صحت کی حالت انھیں ’’اعضاء کے ناقابلِ تلافینقصان‘‘ کے خطرے کا سبب ہوسکتی ہے، اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ ۷؍ اکتوبر کے بعد سے متعدد افراد کو اسرائیل نے اسی قسم کی حراست میں رکھا ہے۔