Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’جنگ بندی کی امریکی کوشش جنگ کے نئے مرحلہ کی تیاری ہے‘‘

Updated: August 18, 2026, 1:24 PM IST | Agency | Tehran

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق تہران سمجھتا ہے کہ جون میں طے پانے والی مفاہمت امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے عالمی معیشت پر دباؤ کم کرنے اور مزید وقت حاصل کرنے کی کوشش تھی۔

US President Trump and Iranian President Masoud Pezeshkian. Picture: INN
امریکی صدر ٹرمپ اورایران کے صدر مسعود پزشکیان۔ تصویر: آئی این این

ایران کا خیال ہے کہ جنگ بندی کی امریکی اور اسرائیلی کوششوں کا مقصد صرف عالمی منڈیوں پر دباؤ کم کرنا اور جنگ کے ایک نئے مرحلے کی تیاری کیلئے وقت حاصل کرنا ہے۔ یہ بات وال اسٹریٹ جرنل نے نامعلوم عہدیداروں اور انٹیلی جنس معلومات کے حوالے سے رپورٹ کی ہے۔اخبار کے مطابق تہران سمجھتا ہے کہ موجودہ مذاکرات شاید صرف ’جنگ سے پہلے ایک وقفہ ‘ثابت ہوں، جبکہ جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت غالباً امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے عالمی معیشت پر دباؤ کم کرنے اور مزید وقت حاصل کرنے کی کوشش تھی۔

یہ بھی پڑھئے:جھارکھنڈ میں طلبہ کی بڑی کامیابی، مطالبات تسلیم، امتحان منسوخ، جشن کا ما حول

اخبار نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کی تیاری گہرے عدم اعتماد کی نشاندہی کرتی ہے جس کے باعث فریقین کیلئے مستقبل قریب میں تنازع کے خاتمے کیلئے کسی پائیدار معاہدے تک پہنچنا مشکل ہو سکتا ہے۔امریکہ اور اسرائیل  نے۲۸؍فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔ جون میں واشنگٹن اور تہران نے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جس میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے پر زور دیا گیا تھا۔ تاہم امریکہ نے۸؍ جولائی کی شب ایران پر بڑے پیمانے پر دوبارہ حملے  شروع کر دیے اور تہران پر آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔

بعد ازاں۲؍ اگست کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انہوں نے ایران کے خلاف ایک بڑی کارروائی منسوخ کرنے کی منظوری دے دی ہے تاکہ تہران کے ساتھ معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے:عرب خطے میں ۲۴؍ اگست سے موسم کی تبدیلی کا آغاز، سہیل ستارہ نمودار ہوگا

ٹرمپ کے مطابق ایران اور عرب ممالک نے امریکہ سے حملہ نہ کرنے کی درخواست کی تھی، کیونکہ فریقین مستقبل کے ایک معاہدے کے بنیادی خدوخال پر اتفاق کر چکے تھے۔ جنگ کے چھ ماہ بعد واشنگٹن اپنے مطالبات میں کمی کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا انتظامیہ اب ان بعض اہداف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار ہے جو اس نے ابتدا میں مقرر کیے تھے۔شروع میں ٹرمپ اور ان کی ٹیم ایران سے مکمل سرنڈر، حکومت کی تبدیلی، جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کا خاتمہ اور خطے میں اپنے اتحادیوں کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔لیکن جون میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت میں ان مطالبات میں سے بہت کم شامل تھے۔یہاں تک کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے معاملے پر بھی امریکی موقف تبدیل ہوتا دکھائی دیا ہے۔اب ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام کافی حد تک متاثر ہو چکا ہے اور جوہری مواد ایسی گہرائی میں دفن ہے جہاں تک پہنچنا مشکل ہے۔ اس مواد کو دوبارہ حاصل کرنا بھی اب ان کے لیے پہلے کی طرح بنیادی شرط نہیں رہا۔ٹرمپ نے اس کی نگرانی خلاء سے کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایران اسے دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے۔

یہ بھی پڑھئے: سوئزرلینڈ: شدید گرمی اور خشک سالی سے چارے کی قلت، سوئس پنیر سازی بحران کا شکار

امریکہ نے اپنے مطالبات میں کمی کی ہے
nامریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا انتظامیہ اب ان بعض اہداف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار ہے جو اس نے ابتدا میں مقرر کیے تھے۔
 nایران کے افزودہ یورینیم کے معاملے پر بھی امریکی موقف تبدیل ہوتا دکھائی دیا ہے۔اب ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام کافی حد تک متاثر ہو چکا ہے اور جوہری مواد ایسی گہرائی میں دفن ہےجہاںتک پہنچنا مشکل ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK