کسی اور ملک میں تارکین وطن کو تیزی سے ملک بدر کرنے کی پالیسی کی قانونی حیثیت پر دسمبر میں سماعت ہوگی۔
EPAPER
Updated: October 01, 2026, 3:45 PM IST | Agency | Washington
کسی اور ملک میں تارکین وطن کو تیزی سے ملک بدر کرنے کی پالیسی کی قانونی حیثیت پر دسمبر میں سماعت ہوگی۔
امریکی سپریم کورٹ نے منگل کو نچلی عدالت کے اس حکم کو عارضی طور پر روک دیا جس نے امریکی حکام کو تارکین وطن کو ان کے آبائی ممالک کے علاوہ تیسرے ممالک میں ڈی پورٹ کرنے سے روک دیا تھا جس سے انتظامیہ کو ملک بدری کا عمل دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے۲۵؍ فروری۲۰۲۶ء کے حکم اور میساچوسٹس کی وفاقی عدالت کے فیصلے پر روک لگا دی جس فیصلے کے تحت پہلے امریکہ سے تارکین وطن کی دوسرے ممالک میں ملک بدری پر عارضی پابندی عائد کی تھی۔ امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ محکمہ انصاف میساچوسٹس کی عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرے گا۔
یہ بھی پڑھئے:اورنگ آباد: ایس آئی آر کے تحت۳؍ لاکھ۶۱؍ ہزار۱۱۱؍ووٹروں کو نوٹس
سپریم کورٹ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ تیسرے ممالک میں تارکین وطن کو تیزی سے ملک بدر کرنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کی قانونی حیثیت پر دسمبر میں سماعت کرے گی۔ سونیا سوٹومائیر، ایلینا کاگن اور کیتنجی براؤن جیکسن نے اس فیصلے کی مخالفت کی۔ یو ایس ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکوریٹی (ڈی ایچ ایس) کے جنرل کونسلر جیمز پرسیول نے اس فیصلے کو محکمے کی ایک اور فتح قرار دیا اور تارکین وطن سے رضاکارانہ طور پر امریکہ چھوڑنے کی اپیل کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ایکس‘ پر کہا کہ تیسرے ممالک کو ڈی پورٹ کرنے کی پالیسی دوبارہ نافذ ہو گئی ہے۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ۴۷؍ویں صدر کی حیثیت سے حلف لینے کے دن ہی غیر قانونی امیگریشن کو روکنے اور بڑے پیمانے پر ملک بدری شروع کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے امریکی سرحد پر بحران سے نمٹنے کیلئے ملک بھر میں ہنگامی حالت کا اعلان بھی کیا۔