ضلع کلکٹر نے کہا: گھبرانے کی ضرورت نہیں، سماعت کیلئے دفتر نہیں آنا ہوگا، بی ایل او کی مدد سے کام ہوجائیگا۔
EPAPER
Updated: October 01, 2026, 12:51 PM IST | ZA Khan | Aurangabad
ضلع کلکٹر نے کہا: گھبرانے کی ضرورت نہیں، سماعت کیلئے دفتر نہیں آنا ہوگا، بی ایل او کی مدد سے کام ہوجائیگا۔
اورنگ آباد ضلع میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) مہم کے تحت۲۰۲۴ء کی ووٹر فہرست میں شامل ہر نام کی۲۰۰۲ء کی پرانی ووٹر فہرست سے میپنگ کے ذریعے جانچ کی جارہی ہے۔ اس دوران نام، تاریخِ پیدائش یا پتے میں تضاد پائے جانے والے۳؍ لاکھ ۶۱؍ہزار ۲۸۱؍ ووٹروں میں سے۳؍ لاکھ ۶۱؍ ہزار ۱۱۱؍ افراد کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ تاہم ضلع کلکٹر ونئے گوڑا نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کو ان نوٹس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ضلع کلکٹر کے مطابق زیادہ تر ووٹروں کو دستاویزات کے ساتھ ذاتی طور پر سماعت کے لئے دفتر آنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انتخابی کمیشن نے شہریوں کو دستاویزات ایپ کے ذریعے یا اپنے علاقے کے بی ایل او (بوتھ لیول آفیسر) کے پاس جمع کرانے کی سہولت فراہم کی ہے۔حکام کے مطابق ضلع میں ماضی میں ایک ہی ووٹر کا نام دو مختلف انتخابی حلقوں میں درج ہونے اور فوت شدہ افراد کے نام پر فرضی ووٹنگ جیسے معاملات سامنے آچکے ہیں۔اسی وجہ سے موجودہ ووٹر فہرست میں شامل ناموں کی۲۰۰۲ءکے پرانے ریکارڈ سے میپنگ کے ذریعے تصدیق کی جارہی ہے۔جن ووٹروں کا نام۲۰۰۲ء کی ووٹر فہرست میں نہیں ملے گا، انہیں اپنی شناخت اور ریکارڈ کی تصدیق کے لئے ۱۴؍ متبادل دستاویزات میں سے کوئی ایک ثبوت بی ایل او کے پاس جمع کرانا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:اکبر اویسی اردھاپور عدالت میں حاضر،۲۵؍ ہزار کے مچلکے پر ضمانت منظور
ان دستاویزات میں۲۰۰۲ء سے قبل کی ووٹر فہرست یا پرانی انتخابی رسید، زمین یا جائیداد کے کاغذات، شہریت کا سرٹیفکیٹ، مستقل رہائش کا سرٹیفکیٹ، پاسپورٹ، ایل آئی سی پالیسی کی دستاویزات، حکومت کی جانب سے جاری کردہ لائسنس یا سرٹیفکیٹ، سرکاری یا نیم سرکاری ملازمت کے کاغذات، بینک یا پوسٹ آفس کی پاس بک، پیدائش کا سرٹیفکیٹ، تعلیمی سرٹیفکیٹ، عدالتی یا قانونی دستاویزات، راشن کارڈ یا سرکاری شناختی کارڈ شامل ہیں۔ووٹر فہرست میں نام، عمر یا پتے میں کسی قسم کی غلطی ہونے کی صورت میں شہری فارم۸؍ کے ذریعے اصلاح کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ اس کیلئے آن لائن اور آف لائن دونوں سہولتیں دستیاب ہیں اور درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ۱۲؍ اکتوبر مقرر کی گئی ہے۔حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی شہری کا نام۲۰۰۲ء کی فہرست میں موجود نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ موجودہ ووٹر فہرست سے اس کا نام لازماً خارج کردیا جائے گا۔ مطلوبہ دستاویزات پیش کرکے شہری اپنے نام اور ریکارڈ کی تصدیق کراسکتے ہیں۔
اورنگ آباد ضلع کے اسمبلی حلقوں میں کہاں کتنے نوٹس؟
سِلّوڑ اسمبلی حلقے میں۲۱؍ ہزار۸۸۰، کنّڑ میں۳۱؍ ہزار۶۲۵، پھُلمبری میں۴۲؍ ہزار۲۱۲، اورنگ آبادوسطی میں۶۰؍ ہزار۵۹۱، اورنگ آبادمغربی میں۶۲؍ ہزار۱۱۰، اورنگ آبادمشرقی میں۵۰؍ ہزار۴۲، پیٹھن میں۳۳؍ ہزار۲۷۳، گنگاپور میں۳۹؍ ہزار۳۶۵؍ اور ویجاپور اسمبلی حلقے میں۲۰؍ ہزار۱۳؍ ووٹروں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔