Updated: September 22, 2026, 9:03 PM IST
| Washington/Tehran
ایک سینئر ایرانی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ اگر واشنگٹن فوجی دباؤ کم کرے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دے تو تہران سات دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کیلئے تیار ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ اقوامِ متحدہ میں ایرانی حکام سے ملاقات کیلئے آمادہ ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران ”کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔“
مسعود پزشکیان اور ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس
ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کے آغاز کو تقریباً ۷ ماہ مکمل ہوچکے ہیں لیکن خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے، اگرچہ سفارتی گنجائشیں پیدا ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے ہیں، جہاں وہ اس تنازع کے دوران ”ایرانی شہریوں کے خلاف کئے جانے والے مبینہ جرائم“ کو دنیا کے سامنے رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اپنی موجودگی سے خطے کی ”آزادی“ کو تسلیم کریں، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کے میزائل بغیر کسی پابندی کے کہیں بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ ایران کے خلاف مختلف متبادلات پرغور کر رہے ہیں، پزشکیان مذاکرات کے خواہاں
اس بیانیے کے باوجود، ممکنہ سفارتی راستے کھلنے کے آثار سامنے آئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایک سینئر ایرانی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ اگر واشنگٹن فوجی دباؤ کم کرے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دے تو تہران سات دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کیلئے تیار ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ اقوامِ متحدہ میں ایرانی حکام سے ملاقات کیلئے آمادہ ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران ”کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔“ سپلائی کے بہتر امکانات کے درمیان تیل کی قیمتیں دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئیں، جہاں برینٹ کروڈ گر کر ۳۳ء۹۸ ڈالر فی بیرل ہوگیا۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا کہ امریکی گولہ بارود کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایسے دعوؤں کو جھوٹا قرار دیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے قبضے میں لئے گئے امریکہ کے ایک زیرِ آب نگرانی ڈرون کو ریورس انجینئر کرنے کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا، جبکہ ایرانی حکام نے تصدیق کی کہ ثانوی پابندیوں کی امریکی دھمکیوں کے باوجود ملکی ایئر لائنز کی غیر ملکی پروازیں اکتوبر میں بھی جاری رہیں گی۔ یمن میں بھی لڑائی جاری رہی، جہاں تعز، مآرب اور الجوف میں سعودی حمایت یافتہ فورسز اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے۔ اس صورتحال نے برطانیہ کو سعودی عرب کیلئے فوجی امداد بڑھانے کے وعدے پر مائل کیا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹی وی نیٹ ورکس کا ٹرمپ کوریج کے بائیکاٹ کا اعلان، ’ٹرمپ ٹی وی‘ بنایا گیا
امریکی ماہرِ نفسیات نے ٹرمپ کے رویے پر نئے خدشات اٹھائے
امریکی صدر ٹرمپ کی ذہنی صلاحیت پر طویل عرصے سے تنقید کرنے والی فارینسک ماہرِ نفسیات ڈاکٹر بینڈی لی نے ۱۱/۹ کی برسی سے متعلق ان کے حالیہ تبصروں کے بعد ان کی صحت کے بارے میں نئے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹاورز گرنے کے فوراً بعد فائر فائٹرز انہیں گراؤنڈ زیرو سے اٹھا کر لے گئے تھے۔ اس بیان کی تصدیق کیلئے متعدد خبر رساں اداروں کو کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ٹرمپ نے بعد میں اصرار کیا کہ ان کے تبصرے درست تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ”اس کے کچھ ہی دیر بعد“ وہاں موجود تھے۔
ڈاکٹر لی، جنہوں نے اس سے قبل ٹرمپ کی نفسیات کا جائزہ لینے والی ایک کتاب کی مشترکہ ادارت کی تھی اور ۲۵ ویں ترمیم کے تحت انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرنے والے ایک خط پر دستخط کئے تھے، نے دلیل دی کہ یہ واقعہ بڑے تاریخی واقعات میں خود کو زبردستی شامل کرنے کی ایک گہری عادت کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اس رویے کو نوعمری یا بلوغت کے بجائے ابتدائی بچپنے کے رویے سے تعبیر کیا۔ انہوں نے صدر کی حالیہ سوشل میڈیا پوسٹس پر بھی تشویش کا اظہار کیا جن میں بظاہر ٹرمپ کو ایٹمی ہتھیار داغنے کی تیاری کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ ڈاکٹر لی نے متنبہ کیا کہ صدر کے ایٹمی کمانڈ کے اختیار کو منسوخ کرنے کا کوئی ادارہ جاتی طریقہ کار موجود نہیں ہے، چاہے وہ کتنا ہی جذباتی یا بے سوچے سمجھے اٹھایا گیا اقدام کیوں نہ ہو۔
یہ بھی پڑھئے: وہائٹ ہاؤس میں داخلہ پر پابندی کیخلاف ۳؍ میڈیا ادارے ٹرمپ پرمقدمہ کرینگے
وہائٹ ہاؤس نے ڈاکٹر لی کے اس جائزے کو سختی سے مسترد کر دیا۔ صدارتی محل کے ترجمان ڈیوس انگل نے ایسے دعوؤں کو سیاسی محرکات پر مبنی قیاس آرائیاں قرار دیا اور زور دیا کہ ٹرمپ مکمل طور پر چاق و چوبند اور باصلاحیت ہیں۔ حکام نے حالیہ دنوں میں ہاتھ پر نیل پڑنے کی وجہ مسلسل ہاتھ ملانے کو اور ٹخنے کی سوجن کو رگوں کی دائمی بیماری (chronic venous insufficiency) کو قرار دیا ہے، جبکہ ٹرمپ کا مؤقف رہا ہے کہ مئی میں ہونے والے طبی معائنے کے بعد سے وہ بہترین صحت میں ہیں۔