Inquilab Logo Happiest Places to Work

روسی تیل پر امریکی ٹیرف میں نرمی، ہندوستان او رچین کو بڑی راحت

Updated: July 15, 2026, 9:05 PM IST | New Delhi

امریکی سینیٹرز نے روس پر پابندیوں کے بل کا نیا مسودہ پیش کر دیا ہے جس میں روسی توانائی خریدنے والے ممالک پر مجوزہ ۵۰۰؍ فیصد ٹیرف کم کر کے زیادہ سے زیادہ ۱۰۰؍ فیصد کر دیا گیا ہے۔اس تبدیلی سے ہندوستان اور چین سمیت روسی تیل کے بڑے خریدار ممالک کو اہم ریلیف ملنے کا امکان ہے۔

Oil Supply.Photo:INN
تیل کی سپلائی۔ تصویر:آئی این این

 امریکی سینیٹرز نے روس پر پابندیوں کے بل کا نیا مسودہ پیش کر دیا ہے جس میں روسی توانائی خریدنے والے ممالک پر مجوزہ ۵۰۰؍ فیصد ٹیرف کم کر کے زیادہ سے زیادہ ۱۰۰؍ فیصد کر دیا گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس تبدیلی سے ہندوستان اور چین سمیت روسی تیل کے بڑے خریدار ممالک کو اہم ریلیف ملنے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھئے:فلم ’’الفا‘‘ میں بوبی دیول کے ڈی ایجنگ نے توجہ حاصل کی


رپورٹ کے مطابق نئے بل کے تحت امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو اختیار ہو گا کہ وہ روسی تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر ۱۰۰؍ فیصد تک ٹیرف عائد کر سکیں، اس اقدام کا مقصد روس پر اقتصادی دباؤ بڑھانا اور یوکرین جنگ کے خاتمے پر مجبور کرنا ہے۔
بل میں روسی حکام، روس کے مرکزی بینک، مالیاتی اداروں، روسی شیڈو فلیٹ ٹینکرز اور بڑے سرکاری توانائی منصوبوں، بشمول ایل این جی اور آرکٹک ایل این جی   ایک ، ۲؍  اور۳؍ پر بھی پابندیوں کی تجویز دی گئی ہے۔ نئے مسودے میں یہ استثنیٰ بھی شامل کیا گیا ہے کہ جو ممالک روسی قدرتی گیس کی برآمدات کا ۱۵؍ فیصد سے کم حصہ درآمد کرتے ہیں اور ان درآمدات میں کمی کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں، انہیں پابندیوں سے استثنیٰ مل سکتا ہے۔ اس رعایت سے جاپان، فرانس، ہنگری اور بلجیم فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔روس سے خام تیل خریدنے والے سرِ فہرست ممالک میں چین، ہندوستان، سلوواکیہ، ہنگری اور آذربائیجان شامل ہیں جبکہ روسی گیس کے بڑے خریدار چین، فرانس، جاپان، ہنگری اور بلجیم ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:اسپین کی فتح کا خفیہ نسخہ ؟ ایرانی کباب سے متعلق دلچسپ دعویٰ


 امریکی قانون سازوں کے مطابق بل میں نرمی کئی ماہ کی مشاورت کے بعد کی گئی تاکہ اسے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل ہو سکے۔ بل میں یہ شق بھی شامل ہے کہ اگر صدر اسے امریکی قومی مفاد کے خلاف سمجھیں تو پابندیوں سے استثنیٰ دے سکتے ہیں۔ دوسری جانب ڈونالڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ بل منظور ہو کر قانون بن جائے گا جبکہ بعض امریکی حلقے اس میں ایران اور حزب اللّٰہ سے متعلق مزید پابندیاں شامل کرنے کی بھی تجویز دے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK