سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کو انتخابی نظام کے مستقبل پر دور رس اثرات رکھنے والا اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ریپبلکن کو فائدہ ملنے کی امید ۔
EPAPER
Updated: May 04, 2026, 1:51 PM IST | Washington
سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کو انتخابی نظام کے مستقبل پر دور رس اثرات رکھنے والا اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ریپبلکن کو فائدہ ملنے کی امید ۔
امریکہ میں۲۰۲۶ء کے وسط مدتی انتخابات سے قبل سیاسی اور آئینی سطح پر کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کو انتخابی نظام کے مستقبل پر دور رس اثرات رکھنے والا اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی سپریم کورٹ میں امریکی شہری فلپ کیلائس اور دیگر شہریوں نے ریاست لوزیانہ کے خلاف نسل پرستانہ بنیادوں پر نیا حلقہ قائم کرنے پرکیس دائر کیا تھا جو لوزیانا بنام کیلائس کے نام سے مشہور ہوا، عدالت نے کیس میں ۶؍ کے مقابلے میں ۳؍کی اکثریت سے فیصلہ دیتے ہوئے لوزیانا میں پارلیمنٹ کے نئے انتخابی حلقے کو کالعدم قرار دے دیا۔اس حلقے میں ایک نیا اکثریتی سیاہ فام حلقہ شامل کیا گیا تھا جسے نچلی عدالت نے پہلے ہی امتیازی قرار دیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ حلقہ بندی غیر آئینی اور نسلی بنیادوں پراور اقلیتوں کی نمائندگی کو کم کرنے کے زمرے میں آتی ہے۔
عدالت کے مطابق انتخابی حلقہ بندیوں میں نسل پرستی کے استعمال کی حد آئینی طور پر محدود ہے اور ریاستیں اس بنیاد پر ایسے حلقے نہیں بنا سکتیں جو آئینی اصولوں سے متصادم ہو۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ کے ملبے تلے ۸؍ ہزار لاشیں، جبکہ ایک فیصد سے بھی کم ملبہ ہٹایا جاسکا: رپورٹ
فیصلے کے بعد ووٹنگ رائٹس ایکٹ، حلقہ بندیوں اور ووٹر حقوق سے متعلق بحث غیر معمولی شدت اختیار کر گئی ہے جبکہ ڈیموکریٹس اور ریپبلکن ایک دوسرے پر انتخابی فائدے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ انتخابی حلقہ بندی میں ممکنہ تبدیلیاں ہوسکتی ہیں۔
ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے ریپبلکن کو انتخابی فائدہ دے سکتے ہیں۔ ریپبلکن کا کہنا ہے کہ فیصلہ نسلی اثرات سے پاک انتخابی نظام کی طرف قدم ہے۔ اس فیصلے کو انتخابی قانون سازی میں ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد ریاستی سطح پر نئی حلقہ بندیوں کی تیاری شروع کردی گئی ہے، قانونی جنگوں میں اضافہ ہوگیا، ووٹر رجسٹریشن اور انتخابی قوانین میں سختی پر سیاسی کشیدگی بھی بڑھ گئی ہے۔ریاستی خودمختاری اور وفاقی عدالتی کردار پر نئی آئینی بحث شروع ہوگئی جبکہ انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے اور ووٹر دباؤ کے الزامات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔