Updated: August 08, 2026, 6:09 PM IST
| Washington
امریکی سینیٹ نے روسی تیل اور گیس خریدنے والے بڑے ممالک پر سخت معاشی دباؤ ڈالنے کے لیے ایک اہم پابندیوں کے بل کو ۱۱؍ مقابلے میں ۸۶؍ ووٹوں سے منظور کرلیا ہے۔اس قانون کے تحت صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو روسی توانائی کے بڑے خریداروں کی امریکی درآمدات پر ۱۰۰؍ فیصد تک ثانوی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار مل سکتا ہے۔
امریکی سینیٹ نے روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک کے خلاف سخت کارروائی کی راہ ہموار کرتے ہوئے ایک وسیع Russia Sanctions Bill منظور کرلیا ہے، جس کے نتیجے میں ہندوستان کو امریکی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات پر ۱۰۰؍ فیصد تک اضافی ٹیرف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم فی الحال یہ ٹیرف ہندوستان پر نافذ نہیں ہوا ہے۔ سینیٹ نے صرف ایسا قانون منظور کیا ہے جو امریکی صدر کو مخصوص حالات میں یہ ٹیرف عائد کرنے کا اختیار دے گا۔ اس بل کو جمعہ ۷؍ اگست ۲۰۲۶ء کو سینیٹ میں ۱۱؍ مقابلے ۸۶؍ ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منظوری ملی۔ یہ قانون طویل عرصے سے زیرِ بحث روسی پابندیوں کے پیکیج کو آگے بڑھاتا ہے اور اس کا بنیادی مقصد روس کی توانائی سے حاصل ہونے والی آمدنی پر دباؤ ڈالنا ہے، جسے ماسکو یوکرین کے خلاف جنگ کے دوران اہم مالی وسیلہ کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ جلد ہی ختم ہوجائے گی: ٹرمپ
نئے قانون کی سب سے اہم شق روسی تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر ثانوی ٹیرف سے متعلق ہے۔ اس کے تحت امریکی صدر کو روسی توانائی کے بڑے خریداروں سے آنے والی اشیا پر ۱۰۰؍ فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیا جائے گا۔ موجودہ تجارتی صورت حال کے مطابق ہندوستان اور چین اس قانون کی زد میں آنے والے اہم ممالک میں شامل ہیں۔ روسی توانائی کے دیگر بڑے خریداروں میں ترکی بھی شامل ہے، جبکہ مخصوص حالات میں یورپی ممالک بھی اس دائرے میں آسکتے ہیں۔
ہندوستان کے لیے خطرہ کیوں بڑھا؟
ہندوستان گزشتہ چند برسوں میں روسی خام تیل کا دنیا کے بڑے خریداروں میں شامل ہوگیا ہے۔ ۲۰۲۲ء میں یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد جب مغربی ممالک نے روسی توانائی پر پابندیاں عائد کرنا شروع کیں تو ہندوستان نے رعایتی قیمت پر دستیاب روسی خام تیل کی خرید میں نمایاں اضافہ کیا۔ اس کے نتیجے میں روس ہندوستان کے اہم ترین خام تیل سپلائر میں شامل ہوگیا۔ ہندوستانی حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ ملک اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے مختلف ذرائع سے تیل خریدتا ہے اور خریداری کے فیصلے بنیادی طور پر commercial viability اور energy security کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹرمپ کا پیدائشی شہریت کو محدود کرنے کے حکم نامے پر دستخط
۱۰۰؍ فیصد ٹیرف ابھی نافذ نہیں ہوا
اس معاملے میں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ بل کی منظوری کا مطلب یہ نہیں کہ ہندوستان پر اسی وقت ۱۰۰؍ فیصد ٹیرف نافذ ہوگیا ہے۔ سینیٹ سے منظوری کے بعد بل اب US House of Representatives میں جائے گا۔ ایوانِ نمائندگان میں منظوری اور صدر کی جانب سے قانون پر دستخط کے بعد ہی یہ قانون نافذ ہوسکے گا۔ اس کے بعد بھی ۱۰۰؍ فیصد ٹیرف خودکار طور پر ہر صورت میں نافذ ہونے کے بجائے صدر کے اختیار کے تحت ہوگا۔ قانون میں صدر کو بعض حالات میں waiver دینے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ اگر امریکی صدر یہ سمجھیں کہ کسی پابندی سے استثنیٰ دینا امریکہ کے قومی مفاد میں ہے تو وہ مخصوص قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے اس اختیار کو استعمال کرسکتے ہیں۔