Updated: August 08, 2026, 6:04 PM IST
| Aurangabad
کاکروچ جنتا پارٹی کے کنوینر ابھیجیت دپکے نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یومِ آزادی کے خطاب میں نوجوانوں کو درپیش تعلیم، روزگار اور بڑھتی مہنگائی جیسے مسائل پر حکومت کے اقدامات اور آئندہ کی پالیسی واضح کریں۔ اسی دوران پارٹی نے مودی کی آئی آئی ٹی دہلی کی تقریب میں شرکت سے متعلق پوسٹ پر حالیہ احتجاج کے دوران مبینہ پیلٹ گن کے استعمال کا سوال اٹھایا اور پوچھا، ’’کس نے حکم دیا؟ سب جاننا چاہتے ہیں۔‘‘
کاکروچ جنتا پارٹی کے کنوینر ابھیجیت دپکے۔ تصویر: ایکس
کاکروچ جنتا پارٹی کے کنوینر ابھیجیت دپکے نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یومِ آزادی کے خطاب میں ملک کے نوجوانوں سے براہِ راست تعلیم، روزگار اور بڑھتی مہنگائی جیسے مسائل پر بات کریں اور حکومت کے اقدامات کی وضاحت کریں۔ دپکے نے ۷؍ اگست کو ایکس پر اپنی اپیل جاری کرتے ہوئے کہا: ’’اس یومِ آزادی پر ہم چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم ملک کے نوجوانوں سے خطاب کریں۔ ہم وزیر اعظم سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بتائیں کہ تعلیم، روزگار اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے حوالے سے حکومت نوجوانوں کے لیے کیا کر رہی ہے۔‘‘ انہوں نے اس مطالبے کے ساتھ ایک آن لائن عرضداشت بھی شیئر کی اور لوگوں سے اس کی حمایت میں دستخط کرنے کی اپیل کی۔
یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دپکے اور ان کی جماعت گزشتہ ہفتوں کے دوران امتحانی نظام، نوجوانوں کے مسائل اور احتجاج کے دوران پولیس کارروائی سے متعلق مرکز کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ تاہم اس تازہ مطالبے میں دپکے نے خاص طور پر وزیر اعظم کے یومِ آزادی خطاب کو نوجوانوں کے مسائل پر حکومت کا مؤقف واضح کرنے کا ذریعہ بنانے کی بات کی ہے۔ اسی روز کاکروچ جنتا پارٹی نے وزیر اعظم مودی کی آئی آئی ٹی دہلی کی تقسیمِ اسناد تقریب میں شرکت سے متعلق ایکس پوسٹ پر بھی ردعمل ظاہر کیا۔ مودی نے اپنی پوسٹ میں بتایا تھا کہ وہ ہفتے کو آئی آئی ٹی دہلی کی تقریب میں شرکت کریں گے اور ادارے کے طلبہ و اساتذہ سے ملاقات کریں گے۔ جماعت نے اس پوسٹ کے جواب میں حالیہ احتجاج کے دوران مبینہ طور پر پیلٹ گن کے استعمال کا سوال اٹھاتے ہوئے لکھا: ’’سب سے پہلے آپ کو پیلٹ گن کے استعمال کے بارے میں بتانا چاہیے۔ کس نے حکم دیا؟ سب جاننا چاہتے ہیں۔‘‘ تاہم رپورٹ میں پیلٹ گن کے استعمال سے متعلق دعوے کو جماعت کا الزام قرار دیا گیا ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: انسٹا گرام پر نوجوانوں سے راہل کا براہ راست رابطہ
دپکے نے اسی روز سپریم کورٹ میں ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کی عرضی کی سماعت کے دوران کیے گئے ایک زبانی مشاہدے پر بھی ردعمل دیا۔ موئترا نے کلکتہ ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس میں انہیں مبینہ نفرت انگیز تقریر کے معاملے میں پولیس کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت دی گئی تھی۔ ان کی وکیل نے ان واقعات کا حوالہ دیا جن میں مبینہ طور پر موئترا پر انڈے پھینکے گئے تھے اور انہیں ورچوئل طور پر پیش ہونے کی اجازت دینے کی درخواست کی تھی۔ اس پر جسٹس دیپانکر دتہ نے زبانی طور پر کہا: ’’سیاست میں قدم رکھنے کے بعد آپ انڈوں سے کیوں ڈرتی ہیں؟ ہمارے آزادی کے سپاہیوں نے اپنے سینے پر گولیاں کھائی تھیں۔‘‘ سپریم کورٹ نے عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کردیا، جس کے بعد اسے واپس لے لیا گیا۔ دپکے نے اس مشاہدے پر سوال کیا: ’’کیا اب سپریم کورٹ چاہتی ہے کہ ہر کوئی گولیاں کھائے؟‘‘
ادھر چھترپتی سمبھاجی نگر میں دپکے کا اپنے گھر پر تعینات ایک پولیس اہلکار سے بھی تنازع ہوا۔ خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق دپکے نے اپنی رہائش گاہ پر تعینات پولیس سب انسپکٹر کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ ان کا الزام تھا کہ اہلکار ان سے ملنے آنے والے لوگوں کو روک رہا ہے اور نامناسب رویہ اختیار کررہا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دپکے کو پولیس اہلکار سے بحث کرتے دیکھا گیا۔ انہوں نے اہلکار سے کہا: ’’جب میں لوگوں کو اپنے گھر آنے کے لیے کہہ رہا ہوں تو انہیں اندر آنے دینے میں کیا مسئلہ ہے؟ آپ دہلی پولیس کی طرح برتاؤ کیوں کررہے ہیں؟ آج تک کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ میں آپ کو پہلی بار دیکھ رہا ہوں۔ آپ مجھے یہ نہیں بتائیں گے کہ مجھے کس سے ملنا چاہیے اور کس سے نہیں ملنا چاہیے۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے کہا: ’’آپ باہر چلے جائیں۔ میں آپ کو اپنے گھر میں نہیں چاہتا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: شیوسینا (شندے) لیڈر کا کارنامہ، کھیت میں جوا خانہ چلا رہے تھے
رپورٹ کے مطابق دپکے کو دھمکیوں کے بعد پولیس سیکوریٹی فراہم کی گئی تھی، جبکہ ان کی رہائش گاہ پر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہونے کی اطلاعات کے باعث بھی حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ ایک دوسری ویڈیو میں دپکے کو ایک سینئر پولیس افسر سے بات کرتے ہوئے پولیس اہلکار کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے دیکھا گیا۔ انہوں نے کہا: ’’سریش نامی ایک پولیس سب انسپکٹر یہاں آیا ہے اور مجھ سے ملنے آنے والے لوگوں کے ساتھ بہت بدتمیزی کررہا ہے۔ وہ لوگوں سے باہر جانے کے لیے کہہ رہا ہے۔ کیا یہ جان بوجھ کر کیا جارہا ہے؟ مجھے وہ نہیں چاہیے۔ اسے یہاں سے ہٹائیں۔‘‘ اسی گفتگو میں دپکے نے الزام لگایا کہ ریاستی محکمہ جرائم کی تفتیش کے سادہ لباس اہلکار ان کے گھر کے قریب نگرانی کررہے تھے اور وہاں سے اطلاعات ایک واٹس ایپ گروپ میں بھیج رہے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا: ’’ایک رپورٹر نے مجھے بتایا کہ کچھ محکمہ جرائم کے اہلکار میرے گھر کے قریب دیکھے گئے ہیں۔ جب پولیس نے انہیں ہٹانے کی کوشش کی تو انہوں نے بتایا کہ وہ محکمہ جرائم سے ہیں۔ رپورٹر نے یہ بھی دیکھا کہ ان کے فون میں ’ہٹ اسپرے‘ نامی ایک واٹس ایپ گروپ کھلا ہوا تھا۔ وہ یہاں سے رپورٹس بھیج رہے تھے۔‘‘