• Thu, 08 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ-ایران جنگ: ٹرمپ امن معاہدہ نہیں چاہتے؛ امریکہ ایران پر دوبارہ حملوں کی تیاری کر رہا ہے

Updated: October 08, 2026, 9:01 PM IST | Washington/Tehran

این بی سی نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ اور ان کی قومی سلامتی کی ٹیم نے آنے والے ہفتوں میں ایران میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر تبادلہ خیال کیا ہے، اس میں اگلے ماہ ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ممکنہ حملے بھی شامل ہیں۔ وہائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا کہ ایران ”تباہ و برباد ہو چکا ہے۔ اب دو میں سے کسی ایک رخ پر جائیں گے: آسان راستہ یا مشکل راستہ۔“

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بیان دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کیلئے ان کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ ساتھ میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ کسی معاہدے تک پہنچنا ان کی ترجیح نہیں ہے۔ سان انتونیو میں ایک انتخابی ریلی کے دوران ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے کہا کہ ”میرا خیال ہے کہ یہ معاہدہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو میں واقعی کرنا چاہتا ہوں، لیکن وہ جنگ روکنے کیلئے ہمیں کچھ بھی پیش کرنے کو تیار ہیں۔“ امریکی صدر نے مزید کہا کہ ”یہ جنگ ختم ہو رہی ہے۔“ انہوں نے ایران کو ”تھوڑی سی ہمت باقی رکھنے والی ناکام ریاست“ قرار دیا اور اصرار کیا کہ تہران کے پاس ”کبھی جوہری ہتھیار نہیں ہوسکتے۔“ ساتھ ہی انہوں نے وٹکوف کو ”ایک عظیم مذاکرات کار“ قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی۔

یہ بھی پڑھئے: وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے: ٹرمپ

امریکہ کا ایران پر بڑے پیمانے پر دوبارہ حملے شروع کرنے پر غور

این بی سی نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ اور ان کی قومی سلامتی کی ٹیم نے آنے والے ہفتوں میں ایران میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر تبادلہ خیال کیا ہے، اس میں اگلے ماہ ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ممکنہ حملے بھی شامل ہیں۔ محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے کہا کہ پینٹاگون کا کردار ”صدر کیلئے فوجی آپشنز تیار کرنا اور پیش کرنا ہے۔“ وہائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا کہ ایران ”تباہ و برباد ہو چکا ہے۔ اب دو میں سے کسی ایک رخ پر جائیں گے: آسان راستہ یا مشکل راستہ۔“

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: نیتن یاہو نے اکتوبر حملے کی وارننگ میں اپنے مفاد کے مطابق ہیرا پھیری کی

آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ

آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت دو ماہ سے زائد عرصے میں اپنی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ منگل کے روز صرف ۷ بحری جہاز وہاں سے گزرے۔ ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) نے اس آبی گزرگاہ پر ”مکمل کنٹرول“ کا دعویٰ کیا۔ جنگ سے پہلے روزانہ یہاں سے ۱۲۵ جہازوں کی آمد و رفت ہوا کرتی تھی لیکن اب یہ تعداد زبردست کے بعد تقریباً ۱۰ جہاز رہ گئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ایران ”ہرمز کا مکمل کنٹرول کھو چکا ہے“ اور تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب ہے۔ اس ہفتے قطر کے ساحل کے قریب ایک ٹینکر کو ”متعدد پروجیکٹائلز“ سے نشانہ بنایا گیا۔ ایک ہی ہفتے میں یہ اسی نوعیت کا ۱۲ واں واقعہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ میں کم از کم ۸۱؍ امریکی طیارے تباہ یا متاثر: رپورٹ

ٹرمپ کے متضاد بیانات 

ٹرمپ، ایران جنگ کی صورتحال پر متضاد بیانات دے رہے ہیں۔ منگل کے روز انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اس تنازع کو ختم کرنے کیلئے ”اچھے راستے یا ناخوشگوار راستے“ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ پھر بدھ کے روز انہوں نے اعلان کیا کہ جنگ پہلے ہی ”جیتی جا چکی ہے۔“ ٹرمپ نے اپنے ان دعوؤں کو دہرایا کہ ایران لاس اینجلس یا سان ڈیاگو جیسے امریکی شہروں کو جوہری ہتھیاروں سے نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس سے قبل، ۲۰۲۵ء میں امریکی انٹیلیجنس نے اندازہ لگایا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا اور اس کے پاس ایسے میزائل نہیں ہیں جو امریکی سرزمین تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا ایران کے ساتھ ڈیل کیلئے ’بڑی پیش رفت‘ کا دعویٰ، بصورتِ دیگر ’ناخوشگوار راستے‘ کی تنبیہ

سپلائی میں تعطل کے خدشات کے پیشِ نظر جمعرات کو تیل کی قیمتیں ۱۰۱ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں، جہاں برینٹ کروڈ میں ۳۳ء۱ فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی (WTI) میں ۲۶ء۱ فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK