Updated: September 02, 2026, 4:04 PM IST
| New York
گزشتہ دنوں سابق اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے بھی اس رجحان کو تسلیم کرتے ہوئے امریکہ میں اسرائیل کے عوامی تشخص میں آنے والی تبدیلی کا اعتراف کیا۔ بینیٹ نے کہا کہ ”اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد پہلی بار، امریکی عوام کے درمیان اسرائیل ایک منفی برانڈ بن چکا ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر آپ کسی امریکی طالب علم سے پوچھیں، ’اسرائیل — ذہن میں کیا آتا ہے؟‘ وہ کہتے ہیں نسل کشی۔ یہ ہے صورتحال۔“
غزہ کی تباہی کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس
غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سنگین خدشات کے درمیان، نیویارک کی یونیورسٹیوں کے طلبہ لفظ ”نسل کشی“ کو اسرائیل کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے لگے ہیں۔ یہ رجحان نوجوان امریکیوں کے درمیان صہیونی ریاست کی بین الاقوامی شناخت میں تبدیلی کی نشان دہی کرتا ہے۔
نیویارک یونیورسٹی (NYU) اور کولمبیا یونیورسٹی کے طلبہ کے درمیان کئے گئے ایک سروے میں شرکاء سے پوچھا گیا کہ اسرائیل کا نام لینے پر ان کے ذہن میں کیا آتا ہے، اس سوال پر طلبہ کی جانب سے یکساں ردعمل سامنے آیا۔ نیویارک یونیورسٹی کے ایک طالب علم سیموئل نے انادولو کو بتایا کہ اسرائیل لفظ کے ساتھ ان کے ذہن میں آنے والے اولین خیالات ”نیتن یاہو، نسل کشی اور فلسطین“ تھے۔
یہ بھی پڑھئے: کولمبیا یونیورسٹی: سابق اسرائیلی فوجی کی ’فلسطین حامی‘ بھیس میں مہم، شدید ردعمل
نیویارک یونیورسٹی کی ایک اور طالبہ میڈی نے کہا کہ ”نسل کشی“ وہ لفظ تھا جو سب سے زیادہ شدت سے ذہن میں آیا، انہوں نے اس تعلق کو ”خوفناک“ قرار دیا اور اسرائیل کو ایک ایسی ریاست کے طور پر بیان کیا جو اپنی عسکری طاقت کو اپنے سے کہیں زیادہ کمزور لوگوں کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ یونیورسٹی کی ایک ایسوسی ایشن کیلئے امداد جمع کرنے والے طلبہ کے ایک گروپ نے یہ جاننے کے بعد تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ موضوع کا تعلق اسرائیل سے تھا، جبکہ کولمبیا یونیورسٹی کے روم نامی ایک طالب علم نے یہ کہتے ہوئے جواب دیا، ”آئیے دنیا کو بچائیں... آئیے امن برقرار رکھیں۔“
گزشتہ دنوں سابق اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے بھی اس رجحان کو تسلیم کرتے ہوئے امریکہ میں اسرائیل کے عوامی تشخص میں آنے والی تبدیلی کا اعتراف کیا۔ بینیٹ نے کہا کہ ”اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد پہلی بار، امریکی عوام کے درمیان اسرائیل ایک منفی برانڈ بن چکا ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر آپ کسی امریکی طالب علم سے پوچھیں، ’اسرائیل — ذہن میں کیا آتا ہے؟‘ وہ کہتے ہیں نسل کشی۔ یہ ہے صورتحال۔“ انہوں نے اس کا موازنہ قومی روایتی تصورات (stereotypes) سے کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ اٹلی کہتے ہیں: پاستا، اسپیگیٹی۔ آپ اسرائیل کہتے ہیں — ’بچوں کے قاتل‘۔“
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ۷۴؍ فیصد انڈرگریجویٹ طلبہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے: سروے
واضح رہے کہ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، اکتوبر ۲۰۲۳ء میں غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ جنگی کارروائیاں شروع ہونے کے بعد سے اب تک ۷۳ ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ ۷۴ ہزار ۲۰۰ سے زائد فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم پر بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے جبکہ جنوبی افریقہ نے دسمبر ۲۰۲۳ء سے بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کی کارروائیوں کی پیروی جاری رکھی ہوئی ہے۔