Updated: July 18, 2026, 2:13 PM IST
| Washington
امریکی انتظامیہ نے جمعرات کو ویزا قوانین میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی طلبہ اب ریاستہائے متحدہ امریکہ میں زیادہ سے زیادہ چار سال تک ہی قیام کر سکیں گےان تبدیلیوں سے سب سے زیادہ ڈاکٹریٹ پروگراموں میں داخل طلبہ متاثر ہونے کی توقع ہے، جنہیں مکمل کرنے کے لیے عام طور پر پانچ سے سات سال درکار ہوتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: پی ٹی آئی
امریکی انتظامیہ نے جمعرات کو ویزا قوانین میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی طلبہ اب ریاستہائے متحدہ امریکہ میں زیادہ سے زیادہ چار سال تک ہی قیام کر سکیں گے۔ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جاری نئے قواعد کے تحت ایف ویزا رکھنے والے بین الاقوامی طلبہ کے علاوہ، ثقافتی تبادلہ پروگراموں پر آنے والے جے ویزا ہولڈرز اور آئی ویزا رکھنے والے غیر ملکی صحافیوں کے قیام کی مدت پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔فی الحال یہ ویزا امریکہ میں تعلیمی پروگرام یا ملازمت کی مدت کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔ان تبدیلیوں سے سب سے زیادہ ڈاکٹریٹ پروگراموں میں داخل طلباء متاثر ہونے کی توقع ہے، جنہیں مکمل کرنے کے لیے عام طور پر پانچ سے سات سال درکار ہوتے ہیں۔جبکہ ان پروگراموں میں ہندوستانی طلبہ کی بڑی تعداد شامل ہے، جو اس وقت امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے۳؍ لاکھ ۳۱؍ ہزارہندوستانی طلبہ میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا دعویٰ: چین نے۲۰۲۰ء میں ۲۲ کروڑ ووٹرز کا ڈیٹا چرایا، خفیہ دستاویز عوامی کریں گے؛ چین کی تردید
دریں اثناء نئے قواعد طویل عرصے سے جاری ’’ڈیوریشن آف اسٹیٹس‘‘ سسٹم کی جگہ لیں گے اور ان کا مقصد وسیع پیمانے پر ویزا کے غلط استعمال سے نمٹنا اور باقاعدہ جانچ پڑتال کے ذریعے قومی سلامتی کو مضبوط کرنا بتایا گیا ہے۔ مزید برآں ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ تبدیلیاں آئندہ چند دنوں میں"فیڈرل رجسٹر میں شائع کی جائیں گی اور اس کے۶۰؍ دن بعد نافذ العمل ہوں گی۔اس کے بعد، طلبہ کو وقتاً فوقتاً توسیع کے لیے درخواست دینی ہوگی اگر انہیں اپنی تعلیم یا تبادلہ پروگرام مکمل کرنے کے لیے چار سال سے زیادہ کی ضرورت ہو۔درخواست کے عمل میں بائیو میٹرک اور پس منظر کی جانچ کے ساتھ فراڈ کی اسکریننگ بھی شامل ہوگی۔
علاوہ ازیں طلبہ کے لیے تعلیم مکمل کرنے کے بعد گریس پیریڈ بھی۶۰؍ دن سے گھٹا کر۳۰؍ دن کر دیا گیا ہے۔ اس دوران، طلبہ کو ملک چھوڑنا ہوگا، کسی اور ادارے میں منتقل ہونا ہوگا یا اگر وہ امریکہ میں رہنا چاہتے ہیں تو مختلف امیگریشن حیثیت اختیار کرنی ہوگی۔ جبکہ رائٹرز کے مطابق، یہ ضوابط طلبہ کو اجازت کے بغیر اپنے تعلیمی مقاصد تبدیل کرنے یا کسی اور ادارے میں منتقل ہونے سے بھی روکتے ہیں۔نیوز ایجنسی کے مطابق، میڈیا کے ارکان کے لیے ویزا۲۴۰؍ دنوں تک محدود ہوگا، جبکہ چینی صحافیوں کو زیادہ سے زیادہ۹۰؍ دنوں کے لیے ویزا جاری کیے جائیں گے۔اس تعلق سے ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سیکریٹری مارک وین مولن نے کہا کہ گزشتہ نظام کچھ طلبہ کو مسلسل کورسز میں اندراج کرکے امریکہ میں غیر معینہ مدت تک رہنے کی اجازت دیتا تھا۔انہوں نے کہا، یہ حتمی ضابطہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ غیر ملکی طلبہ اپنے بنیادی مقصد اپنی تعلیم مکمل کرنا اور واپس گھر لوٹنا پر قائم رہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین فائلز: جیفری سے بل گیٹس کے تعلقات پر وارن بفیٹ گیٹس فاؤنڈیشن سے علاحدہ
واضح رہے کہ میں، ٹرمپ کی پہلی مدت کے آخر میں اسی طرح کی ایک تجویز پیش کی گئی تھی، لیکن اسے ۲۰۲۱ءمیں جو بائیڈن انتظامیہ نے واپس لے لیا تھا۔۲۰۲۴ء تک، امریکہ میں ایف ویزا پر تقریباً ۱۶؍ لاکھ بین الاقوامی طلبہ تھے۔جبکہ ۲۰۲۳ء تا ۲۴ء میں، حکام نے صحافیوں کے لیے۱۳۰۰۰؍ ویزے اور ثقافتی تبادلہ کےشرکاءکیلئے۳؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار سے زیادہ جے ویزے بھی جاری کیے تھے۔تاہم جنوری۲۰۲۵ء میں اپنی دوسری مدت کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے، ٹرمپ نے اپنی امیگریشن کے خلاف مہم کے حصے کے طور پر متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔