Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کا دعویٰ: چین نے۲۰۲۰ء میں ۲۲ کروڑ ووٹرز کا ڈیٹا چرایا، خفیہ دستاویز عوامی کریں گے؛ چین کی تردید

Updated: July 17, 2026, 6:04 PM IST | Washington/Beijing

چین نے ٹرمپ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ”امریکی الزامات کی کوئی ٹھوس حقیقت نہیں ہے اور ان کا مقصد چین کو بدنام کرنا ہے۔“ چینی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ ”بیجنگ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر کاربند ہے۔“

US President Donald Trump (Left) and Chinese President Xi Jinping. Photo: X
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ (بائیں) اور چینی صدر ژی جن پنگ۔ تصویر: ایکس

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کے دن وہائٹ ہاؤس سے کئے گئے ۲۵ منٹ طویل اپنے پرائم ٹائم خطاب میں ۲۰۲۰ء کے امریکی صدارتی انتخابات کے بارے میں اپنے دیرینہ دعووں کو دہرایا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے انتخابات میں چین کی مداخلت کو ثابت کرنے والی دستاویزات کو عوامی سطح پر جاری کرنے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے رواں سال نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل کانگریس پر ووٹنگ کے سخت قوانین پاس کرنے کیلئے دباؤ بھی ڈالا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: نصف ڈیموکریٹ کا اسرائیل کو امریکی فوجی امداد کے خلاف ووٹ

ٹرمپ کی تقریر کا مرکزی نکتہ ان کا یہ دعویٰ تھا کہ دستاویزات، جو جلد عوامی کی جائیں گی، کے مطابق، چین نے ”تاریخ میں انتخابی ڈیٹا کی سب سے بڑی چوری“ کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر ۲۲۰ ملین (۲۲ کروڑ) امریکی ووٹرز کی فائلیں حاصل کیں جن میں ان کے نام، پتے اور رجسٹریشن کا ڈیٹا شامل تھا۔ انہوں نے اسے ”انتخابی سیکوریٹی کیلئے بے مثال ڈراؤنا خواب“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”عوامی جمہوریہ چین نے وہ کارروائی کی ہے جسے تاریخ میں انتخابی ڈیٹا کی سب سے بڑی چوری مانا جا رہا ہے۔“

ٹرمپ نے کہا کہ یہ دستاویزات وہائٹ ہاؤس گورنمنٹ ٹرانسپیرنسی ٹاسک فورس نے جمع کی ہیں اور امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے سربراہوں نے ان کا جائزہ لیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ وہائٹ ہاؤس انہیں عوامی سطح پر جاری کرے گا۔ ٹرمپ نے امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اندر موجود ”ڈیپ اسٹیٹ“ (خفیہ ریاستی عناصر) کے ممبران پر ۲۰۲۰ء کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی چین کی کوششوں کو چھپانے کا الزام بھی لگایا اور اس مبینہ پردہ پوشی کی تحقیقات کا اعلان کیا۔ تاہم، انہوں نے تقریر کے دوران اس کا کوئی براہِ راست ثبوت پیش نہیں کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران: ٹرمپ کے تابوت میں لیٹنے کا پوسٹر آویزاں

اس سے قبل، مارچ ۲۰۲۱ء میں جاری کردہ امریکی انٹیلیجنس رپورٹ، جس کی نگرانی خود ٹرمپ کے ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس جان ریٹکلف نے کی تھی، میں ”اعلیٰ اعتماد“ کے ساتھ یہ پایا گیا تھا کہ چین نے ۲۰۲۰ء کے انتخابات میں مداخلت کرنے پر غور تو کیا لیکن بالآخر ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ ”ایسی کوئی معلومات نہیں ہیں جو یہ ظاہر کریں کہ چین نے انتخابی عمل میں مداخلت کی کوشش کی تھی۔“ بار بار کی آڈٹ اور جائزوں، جن میں سے کئی ریپبلکنز اور خود ٹرمپ کے اس وقت کے اٹارنی جنرل نے کئے تھے، میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ۲۰۲۰ء کے امریکی انتخابات میں کوئی بڑا فراڈ نہیں ہوا تھا۔

وہائٹ ہاؤس نے بیک وقت ”الیکشن انٹیگریٹی“ (انتخابی سالمیت) کے عنوان سے ایک نئی ویب سائٹ شروع کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کانگریس سے ’سیو امریکہ ایکٹ‘ (SAVE America Act) پاس کرنے کے اپنے مطالبے پر مزید زور دیا، جس کے تحت ووٹ رجسٹر کرنے کیلئے شہریت کا ثبوت اور پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹر آئی ڈی لازمی قرار پائے گی۔ اس بل کو فی الحال سینیٹ میں ۶۰ ووٹوں کی حد پار کرنے کیلئے کافی ریپبلکن ارکان کی حمایت حاصل نہیں ہے، دوسری طرف ڈیموکریٹس اس کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل امریکہ میں عوامی رائے کی جنگ ہار رہا ہے: نائب صدر

کملا ہیرس نے ٹرمپ پر ’جھوٹ پھیلانے‘ کا الزام لگایا

سابق نائب صدر کملا ہیرس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ٹرمپ کے دعوؤں کا سخت جواب دیتے ہوئے ان پر وسط مدتی انتخابات سے قبل انتخابی عمل پر عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے لکھا کہ ”صدر آپ کی طاقت سے خوفزدہ ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ آپ اس بات پر یقین کرلیں کہ آپ کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے، کیونکہ اگر عوام بڑی تعداد میں ووٹ دیں گے تو ریپبلکنز ہار جائیں گے۔“ ہیرس نے دہرایا کہ ۲۰۲۰ء کا انتخاب چوری نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے ’سیو ایکٹ‘ کو ”ووٹروں کو دبانے کی کوشش“ قرار دیا اور ٹرمپ پر الزام لگایا کہ وہ زندگی کی بڑھتی ہوئی لاگت، مہنگی رہائش، حفظانِ صحت اور ایران کے ساتھ جاری جنگ سے امریکیوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ”ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے امریکہ کو ایسی جنگ میں دھکیل دیا ہے جو یہاں کے عوام نہیں چاہتے۔“

یہ بھی پڑھئے: امریکہ، ایران جنگ مزید شدت اختیار کر گئی، تازہ فضائی حملے اور جوابی کارروائیاں

چین نے ٹرمپ کے دعووں کو ’بے بنیاد‘ قرار دے کر مسترد کر دیا

بیجنگ نے جمعہ کے دن ٹرمپ کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکی الزامات کی کوئی ٹھوس حقیقت نہیں ہے اور ان کا مقصد چین کو بدنام کرنا ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح کے الزامات ”طویل عرصے پہلے ہی بے بنیاد ثابت ہوچکے ہیں۔“ لن نے واضح کیا کہ ”چین دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر کاربند ہے“ اور اس نے امریکی انتخابات میں ”کبھی بھی“ مداخلت نہیں کی ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ وہ کون سا ملک ہے جس نے ”دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں بے دریغ مداخلت کی ہے“ اور ”بڑے پیمانے پر دوسرے ممالک کے شہریوں کے ڈیٹا چوری کیا ہے۔“ ان کا یہ سوال امریکی جاسوسی سرگرمیوں کی طرف واضح اشارہ تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK