ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کیلئے سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے جنگ کے مستقبل اور اس کے مقاصد کے حوالے سے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: October 30, 2026, 2:09 PM IST | Washington
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کیلئے سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے جنگ کے مستقبل اور اس کے مقاصد کے حوالے سے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو ایران کے ساتھ طویل اور لامتناہی جنگ کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے اعتماد ظاہر کیا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کے مقرر کردہ مقاصد حاصل کرلیں گے۔ وینس نے ’فاکس نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ’’ابھی بہت سے معاملات پر کام کرنا باقی ہے، لیکن میں آپ کو ایک بات ضرور بتانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کو ایک اور ایسی جنگ کا خدشہ ہے جو کبھی ختم نہ ہو تو ڈونالڈ ٹرمپ ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: عرب جماعتیں اسرائیل کو اسلامی ملک بنانا چاہتی ہیں: نیتن یاہو کا الزام
انہوں نے بیرون ملک امریکی فوجی مداخلتوں پر تنقید کرنے اور اس بات پر اصرار کرنے کے درمیان فرق کی نشاندہی کی کہ ’’امریکی فوج کو کبھی بھی استعمال نہیں کیا جاسکتا۔‘‘ وینس نے مزید کہا، ’’وہ امریکہ کے مقاصد حاصل کریں گے اور اس کے بعد ہم اپنی دیگر سرگرمیوں اور معاملات پر توجہ مرکوز کریں گے۔‘‘ ان کے یہ بیانات ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جرمنی: احتجاج سے قبل طلبہ نے چانسلر فریڈرک مرز کو کھلے خط میں مطالبات پیش کر دیے
واضح ہو کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازع ۲۸؍ فروری کو اس وقت شروع ہوا تھا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تھے۔ اس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور عرب ممالک میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ جون میں امریکہ اور ایران نے ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے۔ تاہم آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی اور سلامتی کے معاملے پر اختلافات کے باعث یہ مذاکرات بعد میں ناکام ہوگئے۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر توانائی اور دیگر اشیا کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔