• Wed, 28 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

امریکہ، برطانیہ، جرمنی ، فرانس،ہر جگہ احتجاج

Updated: November 06, 2023, 10:11 AM IST | Agency | Washington

اسرائیل کی بے جا حمایت پر مغربی ملکوں کے انصاف پسند عوام چراغ پا،واشنگٹن میں کئی دہائیوں میں سب سے بڑا احتجاج، جوبائیڈن پر شدید برہمی ،برطانیہ میں  جابجا مظاہرے ،ہزاروں کی شرکت، جنگ بندی کا مطالبہ۔

A photo of tens of thousands of protesters during a historic protest in Washington in support of Gaza and opposition to Israel. Photo: INN
واشنگٹن میں غزہ کی حمایت اور اسرائیل کی مخالفت میں ہونےوالے تاریخی احتجاج کی تصویر جس میں دسیوں ہزار مظاہرین نظر آرہے ہیں۔ تصویر:آئی این این

غزہ پر ایک ماہ سے جاری اسرائیل کی ظالمانہ بمباری اور فلسطینیوں کے قتل عام کے خلاف امریکہ میں عوامی غم وغصہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جارہاہے۔ سنیچر کو (ہندوستانی وقت کے مطابق سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب) واشنگٹن ڈی سی میں دسیوں ہزار امریکی شہریوں نے فلسطینیوں کی نسل کشی میں اسرائیل کی معاونت  پر جو بائیڈن کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔’ نیشنل مارچ آن واشنگٹن: فری فلسطین‘ کے عنواہ سے ہونے والے اس مظاہرہ میں شرکاء نے’’بائیڈن، بائیڈن تم چھپ نہیں سکتے،  تم نسل کشی   کے ملزم ہو‘‘  کا نعرہ بلند کیا اورغزہ میں فوری جنگ بندی کی مانگ کی۔ مظاہرین نے امریکی حکومت سے پُر زور مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی حمایت بند کرے۔   یہ مظاہرہ واشنگٹن کی تاریخ کے چند بڑے مظاہروں میں سے ایک  اور فلسطین کی حمایت میں ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔ مظاہرے میں  شامل کئی امریکی شہریوں نے متنبہ کیا کہ بائیڈن کو اس کی قیمت صدارتی الیکشن میں چکانی پڑ سکتی ہے۔ احتجاج کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ وہائٹ ہاؤس کے قریب فریڈم پلازہ سے مشرق کی طرف یو ایس کیپٹل تک عوام کا جم غفیر موجود تھا جس نے  اسرائیل کے خلاف  اور فلسطین کے حق میں نعرہ بازی کی اور مظالم کو بند کرنے کا مطالبہ کیا۔  مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر ’’ فلسطینیوں کی زندگیاں  بھی قیمتی ہیں،  غزہ کو جینے دو  اور تمہاے ہاتھ اہل غزہ کے خون سے سنے ہوئے ہیں‘‘ جیسے نعرہ لکھے ہوئے تھے۔   مظاہرہ میں شرکت کیلئے امریکہ کے مختلف شہریوں سے لوگ واشنگٹن ڈی سی پہنچے تھے۔ان کیلئے بسوں کا خصوصی  اہتمام کیا گیا تھا۔ احتجاج کا انعقاد کرنے والے گروپ  نے بائیڈن سرکار سے دوٹوک مطالبہ کیاکہ  وہ جنگ کوروکنے کیلئے اقدامات  اور نسل کشی کا سلسلہ بند کریں۔ کلیو لینڈ سے پہنچنے والی ریناڈ ڈیمن نے اسرائیل  غزہ میں جو کچھ کررہاہے،اس کیلئے براہ راست بائیڈن کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ’’ہم ایسا لیڈر چاہتے ہیں جو اسرائیل کا پٹھو نہ ہو۔‘‘ اسرائیلی مظالم کی نشاندہی کرتے ہوئے مظاہرین کے ایک گروپ نے  علامتی طور   بچوں  کےعلامتی جنازے اٹھا رکھے تھے جن پر غزہ میں شہید ہونےو الے نونہالوں  کے نام لکھے ہوئے تھے۔ امریکی صدر جو بائیڈن چونکہ ڈیلاویر  کے ریہوبوتھ بیچ پر چھٹیاں منارہے ہیں اس لئے اس کی جانب سے مظاہروں پر کوئی تبصرہ نہیں کیاگیا۔ مظاہرہ میں  بڑی تعداد میں  یہودی بھی شامل تھے جو غزہ پر حملے اوراسرائیل کو امریکہ کی بے جا حمایت کے خلاف ہیں۔ 

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں جا بجا اسرائیل کے خلاف اور غزہ میں دھرنوں اور مظاہروں کا انعقاد کیاگیا۔ اس بیچ پولیس نے درجنوں افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔ پولیس  نے  اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صرف وسطی لندن میں منعقد ہونے والے مظاہرہ میں ۳۰؍ ہزار سے زائد افراد موجود تھے۔ اس کے علاوہ ایڈن برگ اور گلاسگو اسٹیشن پر نیز لندن کے چیرنگ کراس پرمظاہرین نے زمین پر بیٹھ کر احتجاج کیا ۔پولیس کے مطابق اس کی  وجہ سے مسافروں کو ٹرین پکڑنے میں  دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔  غزہ کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف نعرہ بازی اور تقریر کی پاداش میں لندن میں پولیس نے ۲۹؍ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان پرنسل کی بنیاد پر نفرت پھیلانے کا الزام عائد کیاگیاہے۔ ۲؍ افراد کو ان کے بینر پر لکھے گئے نعرہ کی وجہ سے حراست میں لیاگیا۔ پولیس کے مطابق یہ نعرہ ملک کے انسداد دہشت گردی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ مظاہروں کا اہتمام کرنے والے ایک شخص نے بتایا کہ برطانیہ میں کسی بڑی ریلی کے بجائے ہفتہ بھر جا بجا احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ جاری رکھنے کی حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔ 

غزہ پر اسرائیلی بمباری کی تائید کرنے والے ملک فرانس کے دارالحکومت پیرس  اور دیگر شہروں میں بھی ہزاروں کی تعداد میں عوام نے سڑکوں پر اتر کراپنی حکومت اور  فلسطینیوں کے قتل عام کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہروں کے دوران ’’اسرائیل قاتل ہے‘‘ کے نعروں کے ساتھ ہی ’’میکروں بھی شامل ہے‘‘کا شوربلند کیا گیا۔مظاہرہ میں شامل ٹرک پر بڑے بڑے بینروں کے ذریعہ مطالبہ کیاگیا کہ ’’غزہ میں قتل عام بند کرو۔‘‘مظاہرین نے اسرائیل کے مقابلے فلسطین کی تائید کی علامت کے طور پر فلسطینی پرچم اٹھارکھے تھےاور ’’فلسطین زندہ باد‘‘، ’’فلسطین جیتےگا‘‘ جیسے نعرےلگارہے تھے۔ انہوں نے اسرائیل کی بے  حمایت پر  فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ مشرقی  پیرس میں پولیس  نے ’ریپبلک‘ سے ’نیشن‘ تک دو اہم پلازا کے درمیان مارچ کی اجازت دی تھی جس میں شرکت کیلئے ہزاروں کی تعداد میں لوگ پہنچے۔ پولیس نے  مظاہرین کو متنبہ کیاتھا کہ یہود مخالف یا دہشت گردی حامی رویے کو برداشت نہیں کیا جائےگا۔ 

جرمنی کے دارالحکومت برلن میں فلسطین کی حمایت میں سابقہ احتجاج میں تشدد کو بنیاد بنا کر پولیس نے غیر معمولی پابندیوں کے ساتھ مظاہرہ کی اجازت دی۔ ان میں اسرائیل مخالف نعروں یا بینروں پر پابندی بھی شامل تھی ۔ اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ مظاہرین پولیس کی شرط کی خلاف ورزی نہ کریں، برلن میں ۶؍ ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ سختیوں کودیکھتے ہوئے یہاں  ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نے خاموش مارچ نکال کرفلسطین کی حمایت اور اسرائیل کی مخالفت کا اعلان کیا۔رومانہ  میں وسطی بوچاریسٹ میں بڑی تعداد میں ’’غزہ میں بچوں کو بچاؤ‘‘ کے نعرہ کے ساتھ فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے احتجاج کیا۔ میلان میں بھی ہزاروں افراد نے فلسطین حامی مظاہرہ میں شرکت کی۔ اُدھر روم  میں بھی ہزاروں افراد نے اسرائیلی حملوں کے خلاف مارچ نکالا۔  مغربی ممالک میں ہونےوالے یہ مظاہرے اس لئے اہم ہیں کہ یہاں کی حکومتیں اسرائیلی مظالم میں اس کے ساتھ ہیں۔ا س کے علاوہ مسلم ملکوں میں غیر معمولی احتجاج کا سلسلہ بلا رُکے جاری ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK