یوپی اَور جرائم کی شرح

Updated: September 28, 2020, 8:29 AM IST | Editorial

کورونا سے پیدا شدہ حالات بالخصوص لاک ڈاؤن کی وجہ سے محسوس کیا جارہا تھا کہ قومی سطح پر جرائم میں کمی واقع ہوگی

Crime - Pic : INN
جرم ۔ تصویر : آئی این این

 کورونا سے پیدا شدہ حالات بالخصوص لاک ڈاؤن کی وجہ سے محسوس کیا جارہا تھا کہ قومی سطح پر جرائم میں کمی واقع ہوگی۔ ایسا ہوا یا نہیں اس کا دستاویزی ثبوت تو اس وقت ملے گا جب کرائم ریکارڈ بیورو کے اعدادوشمار منظر عام پر آئینگے مگر ایک عام مشاہدہ اور روزمرہ کی خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ جرائم پر روک نہیں لگی بالخصوص اُس ریاست میں جہاں کے وزیر اعلیٰ کو اس بات کا ’’فخر‘‘ ہے کہ اُن کی ریاست نظم و نسق کے معاملے میں اس قابل ہے کہ دیگر ریاستیں اس کی تقلید کریں۔ یہی نہیں وہ اس میں بھی ایک خاص زاویہ تراش لیتے ہیں۔ گزشتہ ماہ انہوں نے جہاں اپوزیشن کو لاء اینڈ آرڈر کیلئے ’’بڑا خطرہ‘‘ قرار دیا وہیں یہ بھی کہا کہ اپوزیشن نظم و نسق پر اتنا واویلہ اس لئے مچاتا ہے کہ اسے ’’دو (۲) خان‘‘ صاحبان کو رِہا کروانا ہے۔ انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا مگر کون نہیں جانتا تھا کہ ان کا اشارہ اعظم خان اور کفیل خان کی طرف تھا؟ بعد میں عدالت نے آخر الذکر کو رِہا کرنے کا حکم دیا جنہوں نے رہائی کے بعد راجستھان منتقل ہونا ضروری سمجھا۔  
 کوئی دوسرا وزیر اعلیٰ ہوتا تو اپوزیشن کو چپ کرانے یا اس پر الزام دھرنے کی بجائے پولیس کے اعلیٰ افسران کو طلب کرتا اور اُنہیں سخت ہدایات دیتا۔ یہ کارِ خیر اسی وقت انجام دیا جاسکتا تھا جب چند بدمعاشوں نے ۸؍ پولیس اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا۔ یہ شرپسند، بدنام زمانہ غنڈے وکاس دوبے کے لوگ تھے۔ اس واقعہ سے یوپی انتظامیہ شدید نکتہ چینی کی زد میں آیا۔ نہ بھی آیا ہوتا تو یہ اس کیلئے بڑا شرمناک واقعہ تھا۔ اسی لئے وکاس دوبے کو، جسے قانون کے دائرے میں لانا ضروری تھا اور عدالت سے سزا دلوائی جانی چاہئے تھی، کسی قانونی چارہ جوئی کے بغیر کیفر کردار تک پہنچا دیا گیا۔ اگر ۸؍ پولیس والوں کی ہلاکت یوپی انتظامیہ کیلئے شرمناک تھی تو وکاس دوبے کا انکاؤنٹر بھی ایسا سوال ہے جو اُس وقت تک پوچھا جائے گا جب تک عدالتی عمل سے گزر کر انکاؤنٹرکی گتھی سلجھ نہیں جاتی کہ یہ واردات کن حالات میں رونما ہوئی تھی۔ 
 تازہ واقعہ میرٹھ ضلع میں ایک بس میں ایک خاتون کی عصمت دری کا ہے جو نربھیا واقعے جیسا ہی ہے۔ یہ خاتون شوہر سے کہا سنی ہوجانے کے بعد گھر سے تنہا ہی نکل پڑی تھی۔ ذہنی طور پر پریشان ہونے کے سبب اس نےکسی خطرہ کو محسوس نہیں کیا اور رات کے وقت تنہا سفر پر روانہ ہوگئی، بس خالی تھی اور سفر طویل۔ ڈرائیور اور کنڈکٹر نے اسے نشہ آور مشروب پلا دیا اور پھر اس کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جو،اطلاعات کے مطابق، رات بھر جاری رہا۔ صبح سے پہلے اسے بھی نربھیا کی طرح سڑک کے کنارے پھینک دیا گیا۔ یہ خاتون میرٹھ ضلع کے سردھنہ شہر کی رہنے والی تھی۔ چونکہ عصمت دری کےہر واقعہ کو اتنی شہرت نہیں ملتی جتنی کہ نربھیا کے واقعہ کو مل گئی تھی اس لئے یہ واقعہ بھی اخبارات کے صفحات تک محدود ہو کر رہ گیا جبکہ اس کی سنگینی بھی کچھ کم نہیں۔ اس سلسلے کی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ایک مہینے میں، چلتی بس میں عصمت دری کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔ 
 جرائم کے کئی دیگر واقعات بھی روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں جن میں چوری، ڈکیتی، معمولی بات پر گولی چل جانا، وغیرہ شامل ہے۔ کیا اس کے باوجود وزیر اعلیٰ ادتیہ ناتھ یوگی یہی کہیں گے کہ یوپی کا نظم و نسق اس قابل ہے کہ دیگر ریاستیں اس کی تقلید کریں؟دراصل بہتر حکمرانی دعوؤں پر قائم نہیں رہتی، یہ بہتر کارکردگی کے ذریعہ ہی ممکن ہوتی ہے۔ کیا یوپی حکومت اس حقیقت کو جھٹلا سکتی ہے کہ خود بی جے پی کے لیڈران یوپی کے لاء اینڈآرڈر پر لب کشائی کرچکے ہیں؟ مثال کے طور پر موہن لال گنج کے رکن پارلیمان کوشل کشور جو یوپی پولیس پر جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کا الزام لگا چکے ہیں۔ کیا اس کے باوجود یوپی انتظامیہ کی آنکھیں نہیں کھلیں گی؟ کیا وہ اسی زعم میں رہے گاکہ اس کا نظم و نسق بہترین ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK